بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ربیع الثانی 1441ھ- 15 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

منی لگے کپڑوں کو پاک کرنے کا طریقہ


سوال

اگر کپڑوں پر ناپاکی لگی ہو یعنی منی اور وہ سوکھ جائے، خشک ہو جائے تو کیا کپڑے پاک سمجھے جائیں گے؟ اور اگر خشک ہونے سے پہلے دھو لیا جائے تو پھر بھی تھوڑے سے کپڑے ناپاک رہ جائیں اور وہ خشک ہو جائے تو کیا ان کپڑوں میں نماز ہو جاتی ہے؟

جواب

اگر کپڑوں پر منی لگی ہو اور وہ سوکھ جائے تو کپڑے ناپاک ہی سمجھے جائیں گے اور اگر اس کی مقدار ایک درہم سے زائد ہو تو اس میں نماز پڑھنا بھی جائز نہ ہو گا۔اور اگر منی لگے کپڑوں کو سوکھنے سے پہلے اچھی طرح دھولیا جائے، اور منی کے اثرات بالکل ختم ہوجائیں اور اب کپڑوں پر  صرف پانی کی تری باقی ہو تو کپڑے پاک شمار ہوں گے ۔

اگر کپڑوں پر  کچھ منی باقی رہ گئی، اور اس حصہ تک پانی ہی نہیں پہنچا تو وہ کپڑا ناپاک شمار ہو گا۔ اور اگر وہ ایک درہم کی مقدار سے زائد ہو تو اس میں نماز بھی نہیں ہو گی۔

مذکورہ دونوں صورتوں میں اگر منی ایک درہم کی مقدار سے کم ہو تو علم ہوتے ہوئے ایسے کپڑوں میں نماز ادا کرنا مکروہِ تحریمی ہے، لہٰذا اگر علم ہوتو اس صورت میں بھی اسے دھوکر پاک کرکے نماز ادا کرنی چاہیے، اور اگر انہیں کپڑوں میں نماز اد اکرلی تو وقت کے اندر نماز کا اعادہ واجب ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201093

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے