بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الثانی 1441ھ- 08 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

مصنوعی گوشت کا حکم


سوال

سائنس کی ترقی کی وجہ سے یہ ممکن ہونے لگا ہے کہ جلد مارکیٹ میں مصنوعی گوشت مل سکے گا، جس کی افزائش مصنوعی طور پر محض خلیوں کے ذریعے ہو گی، ریفرنس کے طور پر نیوز آرٹیکل شیئر کر رہا ہوں، براہِ مہربانی بتلائیے کہ ایسا گوشت حلال ہو گا یا نہیں؟

 https://www.wired.com/story/lab-grown-meat

جواب

مصنوعی گوشت کی حلت و حرمت کا تعلق اس کے بنانے میں استعمال ہونے والے اجزائے اترکیبی پر موقوف ہے، کیوں کہ اس کے بنانے میں گوشت کے خلیوں کے علاوہ کیمیکلز کا استعمال بھی ہوگا ، جس برتن میں ان خلیوں کی افزائش ہوگی اس برتن کے پاک ناپاک ہونا بھی ایک اہم امر ہے، لہذا مصنوعی گوشت  بنانا اور اس کا کھانا فی نفسہ جائز اور حلال ہے، لیکن اس کی حلت یا حرمت کا دو ٹوک فیصلہ کرنا ممکن نہیں، بلکہ یہ دیکھنا ہوگا کہ خلیوں کی افزائش میں کوئی ناپاک یا نشہ آور چیز تو استعمال نہیں ہورہی؟ یہ گوشت انسانی صحت کے لیے مضر تو نہیں؟ ان تمام امور کو دیکھ کر  کسی خاص صورت حال میں مصنوعی گوشت کے حلال یا حرام ہونے کا فیصلہ کیا جائے گا.  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200799

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے