بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الثانی 1441ھ- 08 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

مذی کے خروج سے غسل واجب نہیں


سوال

ملاعبت کرتے وقت عورت کا گاڑھا یا پتلا سفید  پانی  نکلے  تو  کیا عورت پر غسل واجب ہو جاتا ہے؟

جواب

میاں بیوی کے درمیان ملاعبت کے وقت  پہلے پہل جو  کچھ  سفید پانی نکلتا ہے، جس سے شہوت مزیدبڑھتی ہے، اس پانی کو مذی کہتے ہیں،اور مذی کے نکلنے سے غسل واجب نہیں ہوتا۔ البتہ اگر ملاعبت کے دوران منی کا خروج ہوجائے (جس کے بعد شہوت ختم یا کم ہوجاتی ہے) تو اس سے غسل واجب ہوجائے گا۔ البحرالرائق میں ہے :

"وهو ماء أبيض رقيق يخرج عند شهوة لا بشهوة ولا دفق ولايعقبه فتور وربما لايحس بخروجه، وهو أغلب في النساء من الرجال .

وفي بعض الشروح: أن ما يخرج من المرأة عند الشهوة يسمى القذى بمفتوحتين والودي بإسكان الدال المهملة وتخفيف الياء ولايجوز عند جمهور أهل اللغة غير هذا، وحكى الجوهري في الصحاح عن الأموي أنه قال بتشديد الياء، وحكى صاحب مطالع الأنوار لغة أنه بالذال المعجمة، وهذان شاذان، يقال: ودى بتخفيف الدال وأودى وودى بالتشديد والأول أفصح، وهو ماء أبيض كدر ثخين يشبه المني في الثخانة ويخالفه في الكدورة ولا رائحة له، ويخرج عقيب البول إذا كانت الطبيعة مستمسكةً وعند حمل شيء ثقيل ويخرج قطرة أو قطرتين ونحوهما وأجمع العلماء أنه لايجب الغسل بخروج المذي والودي، كذا في شرح المهذب". (1/235)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200563

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے