بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الثانی 1441ھ- 08 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

قربانی سے قبل بال کاٹنے سے کوئی کفارہ لازم نہیں


سوال

قربانی کرنے سے پہلےزیرِ ناف بال بھول کر صاف کر نےکا کفارہ کیا ہے ؟

جواب

قربانی کرنے والے شخص  کے لیے ذی الحجہ کا چاند دکھنے کے بعد سے قربانی کرنے تک بال و ناخن نہ کاٹنا مستحب عمل ہے اور باعثِ ثواب ہے، تاہم بال کاٹنا ممنوع نہیں ہے، لہذااگر کسی نے بال یا ناخن قربانی سے پہلے کاٹ لیے تو گناہ گار نہ ہوگا،اور نہ ہی اس عمل پر کوئی کفارہ لازم ہے۔البتہ مستحب عمل کے ثواب سے محروم رہ جائے گا۔اور اگر غیر ضروری بال یا ناخن کاٹے ہوئے چالیس دن یا اس سے زیادہ گزرچکے ہوں تو پھران ایام میں ہی  بال /ناخن کاٹ لینے چاہییں۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200043

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے