بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الثانی 1441ھ- 13 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

قادیانی کے لیے ترجمہ کرنا اور اجرت لینا


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ دینِ متین بیچ  اس مسئلہ کے :

مستفتی شہر لاہور میں سفارت خانوں اور قونصلیٹوں سے متعلقہ مختلف کاغذات اور دستاویز ات کا مختلف زبانوں میں ترجمہ کا کام کرتا ہے جس میں مستفتی کے پاس مختلف ملکوں ، مذہبوں اور زبانوں سے وابستہ کسٹمرزآتے ہیں، اب قابلِ استفتا امر یہ ہے کہ مستفتی کے پاس احمدیہ مذہب کےلوگ بھی آتے ہیں ، آیا ان کے کاغذات (نکاح نامہ، ب فارم ، پیدائش سرٹیفکیٹ، ایف آئی آر وغیرہ جن میں مذہب کی صراحت مذکورہو) کا کسی دوسری زبان میں ترجمہ کرنا کیسا ہے ؟ اِس آمدن کا فی نفسہ کیا حکم ہے؟ آیا ان کی دستاویزات (مذہبی مواد کے علاوہ) کا کسی بھی دوسری زبان میں اپنے لیٹر پیڈ پر ترجمہ کرکے اپنے تصدیقی مہر اور دستخط ثبت کرنا کیسا ہے ؟ بعض احبا ب کا کہنا ہے کہ آپ ان کے ترجمہ کا کام کردیا کریں تاکہ یہ لوگ ملک پاکستان سے باہر کسی اور ملک میں دفع ہوجائیں (خس کم جَہاں پاک)؟ بعض کا کہنا ہے کہ آپ ان کا کام کردیا کریں اور اس آمدن کو ختم ِنبوت کے کام پر لگایا کریں ؟بینو ا بالکتاب توجروا یو م الحساب

جواب

قادیانی دائرہ اسلام سے خارج مرتد و زندیق فرقہ ہے جو خود کو مسلمان اور مسلمانوں کو کافر گردانتا ہے اور اپنی کمائی میں سے معتد بہ حصہ مسلمانوں کو گمراہ کرنے اور سادہ لوح مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالنے میں صرف کرتا ہے جس کی وجہ سے ان کی کسی بھی قسم کی معاونت شرعاً و اخلاقاً جائز نہیں؛ چوں کہ قادیانی اپنے آپ کو مسلمان کہلواکر عام لوگوں کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہ امت مسلمہ کا حصہ ہیں، جس کی وجہ سے کئی مفاسد پیداہوتے ہیں؛ لہٰذا  ان سے مکمل بائیکاٹ کرنا دینی فریضہ ہے، بنابریں  سائل کے لیے اس فرقہ کے کسی فرد کے کاغذات کا ترجمہ کرنا اور اس کو معاونت فراہم کرنا شرعاً و اخلاقاً جائز نہیں۔ نیز بعض افراد کا یہ کہنا کہ ان کو ملک سے دفع کرنے کے لیے ترجمہ کردیا کرو درست نہیں،اس علت کی وجہ سے ان کے لیے کام کرنا جائز نہ ہوگا۔فقط واللہ اعلم

 


فتوی نمبر : 143903200050

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے