بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ربیع الثانی 1441ھ- 12 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

عمرہ کی فیس ادائیگی کے لیے قرضہ دینا


سوال

جو زائرین عمرہ سال میں دوسری مرتبہ ادا کرنے کے لیے جاتے ہیں ان سے دوہزار  ریال لیا جاتا ہے جس کی ادائیگی کے لیے میں نے ایک شخص کو ادھارقم دے دیہے ۔

لہذا کیا اس کام کے لیے  یہ رقم دینا جائز ہے کہ نہیں ؟ وضاحت فرمادیں ۔

جواب

سال میں دوسری مرتبہ عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی حکومت  کا دو ہزار ریال لینا توجائزنہیں، البتہ عمرہ کرنے والے شخص کا یہ رقم بامر مجبوری ادا کرنا جائز ہے ۔اور آپ کا اس کی معاونت کرتے ہوئے اسے قرض دینا بھی جائز ہے ۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201248

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے