بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ربیع الثانی 1441ھ- 14 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

صدق اللہ العظیم کہنا بدعت نہیں


سوال

کیا قرآنِ مجید کی تلاوت کے بعد صدق اللہ کہنا بدعت ہے یا نہیں؟  ہمارے یہاں اس کو بدعت کہتے ہیں،  کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا کوئی ثبوت ہے ؟

جواب

تلاوتِ قرآن کے اختتام پر ’’صدق اللہ العظیم‘‘ کہنا آداب میں سے ہے، لازم اور ضروری نہیں ہے، سنت بھی نہیں ہے، نیز سنت سمجھ کر نہیں پڑھنا چاہیے اور جو نہ پڑھے اس  کو ملامت  بھی نہیں کرنا چاہیے، تلاوت کے اختتام کی علامت اور قرآنِ کریم پر ایمان کی تجدید  کی وجہ سے ایک ادب اور اچھا کام ہے،البتہ یہ بدعت بھی نہیں ہے؛ کیوں کہ یہ مسکوت عنہ کے حکم میں ہے، جس کا ادنیٰ درجہ مباح ہے بدعت نہیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144007200021

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے