بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ربیع الثانی 1441ھ- 14 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بیوی کے لیے شوہر کا نام لگانے کا حکم


سوال

بیوی کے نام کے آگے شوہرکے نام کا حکم کیا ہے؟بیوی کے ساتھ شوہر کا نام لگانا جائز ہے ؟

جواب

عورت کے نام کے ساتھ والدکا نام لگے یا شوہر کا، درحقیقت مقصد اس سے تعارف اور شناخت ہے، اور یہ شناخت ان دو طریقوں سے بھی ہوتی ہے اور ان کے علاوہ سے بھی ہوسکتی ہے۔ قرآن وحدیث میں بعض عورتوں کا تعارف اللہ نے ان کے شوہروں کی نسبت سے کرایا ہے۔قرآن کریم میں ہے:

﴿ اِمْرَاَةَ نُوْحٍ وَّ امْرَاَةَ لُوْطٍ کَانتا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ ﴾(التحریم:10)

ترجمہ: یعنی حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی اور حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی۔الخ

حدیث مبارک میں ہے:

"جَاءَتْ زَینب امْرَأَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ، تستأذن عَلیه، فَقیل: یا رَسُولَ الله، هذه زینَبُ، فَقَالَ: أَي الزیانِبِ؟ فَقِیلَ: امْرَأَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: نَعَمْ، ائْذَنُوا لَها".(بخاری و مسلم)

حضرت ابوسعید خُدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ زینب جو حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئیں اور اجازت طلب کی، پوچھا گیا: کون سی زینب؟ جواب دیا گیا: امراۃ ابنِ مسعود. آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! اُسے آنے کی اجازت ہے.

اسی طرح آدمی کی پہچان بعض مرتبہ وَلاء یعنی جس نے غلام کو آزاد کیا ہے، اس سے ہوتی ہے، جیسے: \"عَکرَمَه مولی ابنِ عباس“، کبھی پیشہ کے بیان سے ہوتی ہے، جیسے:"قدوری" وغیرہ، کبھی لقب و کنیت سے ہوتی ہے، جیسے: "ابو محمّد أعمش“، کبھی ماں سے ہوتی ہے حالاں کہ باپ معروف ہوتا ہے جیسے "اسماعیل ابنِ علیہ“، وغیرہ وغیرہ. اس لیے یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں جس سے کوئی شرعی ضابطہ ٹوٹتا ہو، مقصد تعارف اور شناخت ہے، لہذ ا شادی کے بعد شناخت کے لیے عورت کے نام کے ساتھ والد کا نام رہے یا شوہر کا نام آجائے ، دونوں جائز ہیں، ہمارے برصغیر پاک وہند میں شادی کے بعد عورت کے نام کے ساتھ تعارف کے لیے شوہر کا نام لگایا جاتا ہے، اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

باقی اگرکسی کو یہ شبہ ہوکہ بعض احادیث میں والد کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرنے سے منع کیا گیا ہے اور اس بارے میں وعیدیں بھی آئی ہیں، تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان احادیث کا مقصد یہ ہے کہ اپنے والد کو چھوڑ کر کسی اور شخص کی طرف اپنی نسبت اس طور پر کرنا کہ وہ دوسرا شخص والد سمجھا جائے یا اپنے والد کی نفی کرکے دوسرے کو والد کہنا ممنوع ہے۔ جہاں یہ شبہ نہ ہو تو کسی کی طرف اولاد والی نسبت کرنے کی بھی گنجائش ہوگی، مثلاً: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیثِ مبارکہ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کو پیارا بیٹا کہنا ثابت ہے۔ اور یہ بات واضح ہے کہ بیوی کا نام شوہر کی طرف منسوب کرنے میں کسی طرح بھی ولادت کی نسبت نہیں سمجھی جاتی، لہٰذا یہ نسبت حدیث کی ممانعت میں داخل نہیں ہے۔ بہرحال تعارف کی غرض سے والد یا شوہر کے ناموں میں سے کوئی بھی نام لگایا جاسکتا ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200746

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے