بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ربیع الثانی 1441ھ- 15 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

شادی کی تاریخ میں چاند کی تاریخ کا لحاظ رکھنا


سوال

ہمارے معاشرے میں چاند کی ٣،٨،١٣ تاریخ وغیرہ کوشادی کرنے کی ممانعت ہے۔ براہِ مہربانی راہ نمائی فرمائیں!

جواب

چاند کی کسی خاص تاریخ میں شادی کرنا یا کسی خاص تاریخ میں شادی نہ کرنا  شرعا ً اس کی  کوئی حیثیت نہیں ہے،نہ اس سلسلے میں شریعت کی طرف سے کوئی پابندی ہے۔ جانبین اور دولہا دلہن کے لیے جس تاریخ میں آسانی ہو وہ متعین کرنی چاہیے،  توہمات میں نہیں پڑنا چاہیے۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی ایسے ہی ایک توہم کی نفی فرمائی ہے:

''عن عبد الله بن عروة، ‏‏‏‏‏‏عن عروة، ‏‏‏‏‏‏عن عائشة، ‏‏‏‏‏‏قالت:‏‏‏‏ "تزوجني رسول الله صلى الله عليه وسلم في شوال، ‏‏‏‏‏‏وأدخلت عليه في شوال"، ‏‏‏‏‏‏- وكانت عائشة تحب أن تدخل نساء ها في شوال-، "فأي نسائه كانت أحظى عنده مني؟".

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے (عید کے مہینے) شوال میں شادی کی، اور میری رخصتی بھی شوال کے مہینے میں ہوئی۔ (عروہ کہتے ہیں) عائشہ رضی اللہ عنہا پسند کرتی تھیں کہ مسلمان خواتین کی رخصتی (عید کے مہینے) شوال میں کریں، (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے مجھ سے زیادہ آپ سے نزدیک اور فائدہ اٹھانے والی دوسری بیوی کون تھیں!! ( صحیح مسلم/النکاح ۱۱ (۱۴۲۳)

اُس زمانے میں لوگ شوال کے مہینے میں نکاح اور رخصتی کو پسند نہیں کرتے تھے، جیساکہ آج بھی بعض لوگ اسے پسند نہیں کرتے، مذکورہ حدیث میں اس توہم کی نفی کی گئی ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201449

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے