بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الثانی 1441ھ- 13 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

سورت فاتحہ کے بعد واجب قرأت کی مقدار


سوال

نماز میں سورت الفاتحہ کے بعد کسی بھی بڑی سورت کی کم ازکم کتنی آیات پڑھ سکتے ہیں؟ اور یہ بھی پوچھنا چاہتا ہوں آیات کسے کہتے ہیں؟  ایک آیت کے آخر میں گول دائرہ آتا ہے،  کسی کے آخر میں ط, وغیرہ وغیرہ،  کسی میں گول دائرہ کے اوپر کوئی حرف۔  براۓ مہربانی اس بارے میں راہ نمائی فرمادیجیے!

جواب

امام اور منفرد پر سنت، نفل اور وتر کی ہر رکعت میں اور فرض نمازوں کی ابتدائی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے بعد کوئی سی بھی سورت پڑھنا واجب ہے، چاہے جتنی بھی مختصر سورت ہو  (جیسے سورہ کوثر)، اسی طرح  تین مختصر آیتیں (مثلاً: {ثُمَّ نَظَرَ (21) ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ (22) ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ (23)} [المدثر: 21 - 23]) یا ایک دو بڑی آیتیں جو کم از کم تین مختصر  آیات کے برابر  ہوں،  کے پڑھنے سے بھی واجب ادا ہوجائے گا، بلکہ ایک بڑی آیت (مثلاً آیت الکرسی)  کا کچھ حصہ جو  تین چھوٹی آیتوں کے برابر ہو کے پڑھنے سے بھی واجب ادا ہوجائے گا۔

{ثُمَّ نَظَرَ (21) ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ (22) ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ (23)} [المدثر: 21 - 23] یہ تین مختصر  آیات ہیں، اس میں دس الفاظ ہیں اور مشدد حروف کو دو شمار کر کے تیس حروفِ ہجاء ہیں، لہٰذا آیت الکرسی میں سے صرف اتنا پڑھ لیا جائے {اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ} [البقرة: 255] تو بھی واجب ادا ہوجائے گا، کیوں کہ اس کی مقدار تیس حروف سے زیادہ ہے۔ واضح رہے کہ اتنی مقدار پڑھنے سے واجب تو ادا ہوجائے گا، لیکن آیت کو ناقص پڑھنا سنت قراءت کے خلاف ہوگا۔

گول دائرہ ایک آیت کے پورا ہونے کی علامت ہے، یعنی دو گول دائروں کے درمیان موجودکلمات کو عرف میں ایک آیت کہا جاتا ہے، البتہ نماز میں قرأت کی واجب  مقدار کے لیے معیار وہی تفصیل ہے جو اوپر ذکر کردی ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 458):

"(وضم) أقصر (سورة) كالكوثر أو ما قام مقامها، هو ثلاث آيات قصار، نحو {ثم نظر} [المدثر: 21] {ثم عبس وبسر} [المدثر: 22] {ثم أدبر واستكبر} [المدثر: 23] وكذا لو كانت الآية أو الآيتان تعدل ثلاثاً قصاراً، ذكره الحلبي (في الأوليين من الفرض) وهل يكره في الأخريين؟ المختار لا (و) في (جميع) ركعات (النفل) لأن كل شفع منه صلاة (و) كل (الوتر) احتياطاً.

 (قوله: تعدل ثلاثاً قصاراً) أي مثل - {ثم نظر} [المدثر: 21]- إلخ وهي ثلاثون حرفاً، فلو قرأ آيةً طويلةً قدر ثلاثين حرفاً يكون قد أتى بقدر ثلاث آيات، لكن سيأتي في فصل يجهر الإمام: أن فرض القراءة آية وأن الآية عرفاً طائفة من القرآن مترجمة أقلها ستة أحرف ولو تقديراً كلم يلد إلا إذا كانت كلمةً فالأصح عدم الصحة اهـ ومقتضاه أنه لو قرأ آية طويلةً قدر ثمانية عشر حرفاً يكون قد أتى بقدر ثلاث آيات. وقد يقال: إن المشروع ثلاث آيات متوالية على النظم القرآني مثل {ثم نظر} [المدثر: 21] إلخ ولايوجد ثلاث متوالية أقصر منها، فالواجب إما هي أو ما يعدلها من غيرها لا ما يعدل ثلاثة أمثال أقصر آية وجدت في القرآن، ولذا قال: تعدل ثلاثاً قصاراً، ولم يقل: تعدل ثلاثة أمثال أقصر آية. على أن في بعض العبارات تعدل أقصر سورة، فليتأمل! وسنذكر في فصل الجهر زيادة في هذا البحث (قوله: ذكره الحلبي) أي في شرحه الكبير عن المنية. وعبارته: وإن قرأ ثلاث آيات قصاراً أو كانت الآية أو الآيتان تعدل ثلاث آيات قصار خرج عن حد الكراهة المذكورة يعني كراهة التحريم. قال الشارح في شرحه عن الملتقى: ولم أره لغيره وهو مهم فيه يسر عظيم لدفع كراهة التحريم. اهـ. قلت: قد صرح به في الدرر أيضاً حيث قال: وثلاث آيات قصار تقوم مقام السورة وكذا الآية الطويلة اهـ ومثله في الفيض وغيره. وفي التتارخانية: لوقرأ آية طويلة كآية الكرسي أو المداينة البعض في ركعة والبعض في ركعة اختلفوا فيه على قول أبي حنيفة، قيل: لايجوز؛ لأنه ما قرأ آيةً تامةً في كل ركعة، وعامتهم على أنه يجوز؛ لأن بعض هذه الآيات يزيد عن ثلاث قصار أو يعدلها فلاتكون قراءته أقل من ثلاث آيات اهـ وهذا يفيد أن بعض الآية كالآية في أنه إذا بلغ قدر ثلاث آيات قصار يكفي".فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200580

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے