بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الثانی 1441ھ- 08 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

سمندری حیوانات میں مچھلی ہونے کا مدار / لابسٹر اور سکویڈ کا حکم


سوال

 1- سمندری مچھلی اور سمندری کیڑے میں تفریق کرنے کے لیے  کیا واضح نشانیاں اور قوانین ہیں؟

2- کیا لابسٹر سمندری مچھلی ہے یا سمندری کیڑا؟  کیا لابسٹر کھانا حلال ہے؟ کیا سکویڈ سمندری مچھلی ہے یا سمندری کیڑا؟ کیا سکویڈ کھانا حلال ہے؟

جواب

1۔۔ احناف  رحمہم اللہ کے  نزدیک  سمندری مخلوقات میں سے صرف مچھلی کھانا حلال ہے، مچھلی کے علاوہ کوئی اور سمندری جانور کھانا جائز نہیں ہے، اور مچھلی کی انواع واقسام میں اہلِ لسان اورا ہلِ لغت کے بعد مچھلی کے ماہرین  کی رائے معتبر ہے کہ وہ مچھلی ہے یا نہیں?  اس لیے کہ اہلِ لسان اورا ہلِ لغت کے بعد آخری رائے ماہرین ہی دے سکتے ہیں،  اور مچھلی کے بارے میں مہارت ساحلِ سمندر پر رہنے والوں کو ہوتی ہے جن کے اکثر اوقات اسی میں گزرتے ہیں،وہ ماہر ہوتے ہیں؛ لہذا ان کی رائے اور عرف معتبر ہوگا۔

باقی بعض لوگوں نے مچھلی کی مختلف تعریفات کی ہیں، لیکن کوئی ایسی جامع مانع تعریف یا علامت نہیں ہے جس سے یہ کہا جاسکے کہ  فلاں سمندری مخلوق مچھلی ہے اور فلاں نہیں ہے۔

اعلاء السنن میں ہے: 

"فكل ما كان من جنس السمك لغةً وعرفاً فهو حلال بلاخلاف، كالسقنقور والروبيان ونحوهما".  (17/188۔ کتاب الذبائح،ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ)

یعنی جو بھی لغۃً اور عرفاً مچھلی کی جنس میں سے ہو (جیسے جھینگا وغیرہ) وہ حلال ہے، ۔

2۔۔ لابسٹر مچھلی کی قسم میں سے نہیں ہے، اس کا کھانا حلال نہیں ہے۔

3۔۔ سکویڈ ( SQUID)بھی مچھلی کی قسم میں سے نہیں ہے، اس کا کھانا بھی حلال نہیں ہے۔

الحيوان للجاحظ (1/ 27):
"وليس أيضاً كلّ عائم سمكة، وإن كان مناسباً للسمك في كثير من معانيه. ألاترى أنّ في الماء كلب الماء، وعنز الماء، وخنزير الماء؛ وفيه الرّقّ  والسّلحفاة، وفيه الضّفدع وفيه السرطان، والبينيب، والتّمساح والدّخس والدّلفين واللّخم والبنبك، وغير ذلك من الأصناف. والكوسج والد اللّخم، وليس للكوسج أب يعرف. وعامّة ذا يعيش في الماء، ويبيت خارجاً من الماء، ويبيض في الشطّ ويبيض بيضاً له صفرة، وقيض وغرقئ، وهو مع ذلك ممّا يكون في الماء مع السمك". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201329

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے