بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ربیع الثانی 1441ھ- 12 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

سات مختلف بکریوں کی قربانی کا حکم


سوال

سات لوگوں نے چھ چھ روپیہ دے کر ساتھ بکری خریدی،  مگر ان میں سب کی قیمت ایک طرح نہیں،  کیا وہ قربانی جائز ہو گی یا نہیں؟

جواب

اگر سب نے سات بکریاں خریدیں اور سب کی قیمت برابر نہیں تو سب بکریوں میں سب کا حصہ ہے، اس کے بعد اگر سب نے اپنی اپنی طرف سے ایک ایک بکری ذبح کردی تو سب کی قربانی درست ہوگئی،  اور اگر (ساتھ خریدنا مراد ہے، اور) مطلب یہ ہے کہ سب نے ایک بکری خریدی اورسب کی طرف سے قربانی کی توایک بکری میں  ایک ساتھ زائد افراد کی قربانی نہیں ہوسکتی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 327):
"ولو أن ثلاثة نفر اشترى كل واحد منهم شاةً للأضحية أحدهم بعشرة والآخر بعشرين والآخر بثلاثين وقيمة كل واحدة مثل ثمنها فاختلطت حتى لايعرف كل واحد شاته بعينها واصطلحوا على أن يأخذ كل واحد منهم شاة يضحي أجزأتهم، ويتصدق صاحب الثلاثين بعشرين وصاحب العشرين بعشرة ولايتصدق صاحب العشرة بشيء، وإن أذن كل واحد منهم أن يذبحها عنه أجزأته ولا شيء عليه، كما لو ضحى أضحية غيره بغير أمره ينابيع".

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (5/ 479):
"المسألة الخامسة: إذا ذبح أضحية غيره بغير إذنه؛ إن ذبح في غير أيام الأضحية لايجوز، ويضمن الذابح، وإن ذبح في أيام الأضحية يجوز، ولايضمن؛ لأن الإذن ثابت دلالة في هذه المسائل، والدلائل يجب اعتبارها ما لم يوجد الصريح بخلافه، هذه جملة ذكرها الشيخ الإمام الأجل شيخ الإسلام رحمه الله في باب ما لايجزىء في الأضحية".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 315):
"(قوله: ولو لأحدهم) أي أحد السبعة المعلومين من قوله: أو سبع بدنة، لأن المراد أنها تجزي عن سبعة بنية القربة من كل منهم ولو اختلفت جهات القربة، كما يأتي".

العناية شرح الهداية (9/ 339):
"قَالَ: وَمِنْ ذَبَحَ شَاةَ غَيْرِهِ فَمَالِكُهَا بِالْخِيَارِ، إنْ شَاءَ ضَمَّنَّهُ قِيمَتَهَا وَسَلَّمَهَا إلَيْهِ، وَإِنْ شَاءَ ضَمَّنَهُ نُقْصَانَهَا، وَكَذَا الْجَزُورُ، وَكَذَا إذَا قَطَعَ يَدَهُمَا) هَذَا هُوَ ظَاهِرُ الرِّوَايَةِ. وَجْهُهُ أَنَّهُ إتْلَافٌ مِنْ وَجْهٍ بِاعْتِبَارِ".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 315):
"ولو لأحدهم أقل من سبع لم يجز عن أحد، وتجزي عما دون سبعة بالأولى (فجر) نصب على الظرفية (يوم النحر إلى آخر أيامه) وهي ثلاثة أفضلها أولها".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200094

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے