بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الثانی 1441ھ- 08 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

زرافہ حلال ہے


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مسئلہ ذیل میں کہ زرافہ حلال ہے یا نہیں؟

جواب

زرافہ حلال جانوروں میں سے ہے، شرعی طریقہ سے ذبح یا شکار کرنے  کے بعد اس کا کھانا حلال ہے۔

"(ومنها) مسألة الزرافة: مذهب الشافعي رحمه الله القائل بالإباحة "الحل في الكل ".
وأما مسألة الزرافة فالمختار عندهم حل أكلها. وقال السيوطي: ولم يذكرها أحد في المالكية، والحنفية وقواعدهم تقتضي حلها".
 (الأشباه والنظائر لابن نجيم، ص: 57، دار الكتب العلمية)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200163

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے