بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ربیع الثانی 1441ھ- 10 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

راستہ میں کوئی جانور ملے تو اس کا کھانا کیسا ہے؟


سوال

راستہ میں کوئی جانور ملے تو اس کا کھانا کیسا ہے؟ اور وہ اس بندے  کے لیے حلال ہے؟

جواب

راستہ میں ملنے والا پالتو جانور جس کا مالک معلوم نہ ہو ’’لقطہ‘‘ ہے،  جس کا حکم یہ ہے کہ اٹھانے والا اس کے مالک کواچھی طرح تلاش کرے یہاں تک کہ جب اٹھانےوالے کو غالب گمان ہوجائے کہ اب مالک اسے تلاش نہیں کرے گا تو اگر اٹھانے والا مستحقِ زکاۃ ہو تو اسے اپنے استعمال میں لاسکتا ہے۔  اور اگر وہ زکاۃِ کا مستحق نہٰیں تو مالک کی نیت سے اسے صدقہ کرد ے۔ لیکن اگر اسے کھانے یا صدقہ کرنے کے بعد مالک آجائے اور ضمان کا مطالبہ کرے تو  تاوان ادا کرنا ہوگا۔ 

الفتاوى الهندية - (17 / 357):
"( كِتَابُ اللُّقَطَةِ ) هِيَ مَالٌ يُوجَدُ فِي الطَّرِيقِ وَلَا يُعْرَفُ لَهُ مَالِكٌ بِعَيْنِهِ ، كَذَا فِي الْكَافِي۔۔۔وَاخْتَلَفُوا فِيمَا بَيْنَهُمْ أَنَّ التَّرْكَ أَفْضَلُ أَوْ الرَّفْعَ ؟ ظَاهِرُ مَذْهَبِ أَصْحَابِنَا - رَحِمَهُمْ اللَّهُ تَعَالَى - أَنَّ الرَّفْعَ أَفْضَلُ ، كَذَا فِي الْمُحِيطِ سَوَاءٌ كَانَتْ اللُّقَطَةُ دَرَاهِمَ أَوْ دَنَانِيرَ أَوْ عُرُوضًا أَوْ شَاةً أَوْ حِمَارًا أَوْ بَغْلًا أَوْ فَرَسًا أَوْ إبِلًا وَهَذَا إذَا كَانَ فِي الصَّحْرَاءِ فَإِنْ كَانَ فِي الْقَرْيَةِ فَتَرْكُ الدَّابَّةِ أَفْضَلُوَإِذَا رَفَعَ اللُّقْطَةَ يُعَرِّفُهَا فَيَقُولُ : الْتَقَطْتُ لُقَطَةً ، أَوْ وَجَدْتُ ضَالَّةً ، أَوْ عِنْدِي شَيْءٌ فَمَنْ سَمِعْتُمُوهُ يَطْلُبُ دُلُّوهُ عَلَيَّ ، كَذَا فِي فَتَاوَى قَاضِي خَانْ .
وَيُعَرِّفُ الْمُلْتَقِطُ اللُّقَطَةَ فِي الْأَسْوَاقِ وَالشَّوَارِعِ مُدَّةً يَغْلِبُ عَلَى ظَنِّهِ أَنَّ صَاحِبَهَا لَا يَطْلُبُهَا بَعْدَ ذَلِكَ هُوَ الصَّحِيحُ ، كَذَا فِي مَجْمَعِ الْبَحْرَيْنِ وَلُقَطَةُ الْحِلِّ وَالْحَرَمِ سَوَاءٌ ، كَذَا فِي خِزَانَةِ الْمُفْتِينَ ، ثُمَّ بَعْدَ تَعْرِيفِ الْمُدَّةِ الْمَذْكُورَةِ الْمُلْتَقِطُ مُخَيَّرٌ بَيْنَ أَنْ يَحْفَظَهَا حِسْبَةً وَبَيْنَ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِهَا فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَأَمْضَى الصَّدَقَةَ يَكُونُ لَهُ ثَوَابُهَا وَإِنْ لَمْ يُمْضِهَا ضَمِنَ الْمُلْتَقِط أَوْ الْمِسْكِين إنْ شَاءَ لَوْ هَلَكَتْ فِي يَدِهِ فَإِنْ ضَمِنَ الْمُلْتَقِط لَا يَرْجِعُ عَلَى الْفَقِيرِ وَإِنْ ضَمِنَ الْفَقِير لَا يَرْجِعُ عَلَى الْمُلْتَقِطِ وَإِنْ كَانَتْ اللُّقَطَةُ فِي يَدِ الْمُلْتَقِطِ أَوْ الْمِسْكِينِ قَائِمَةً أَخَذَهَا مِنْهُ ، كَذَا فِي شَرْحِ مَجْمَعِ الْبَحْرَيْنِ ".
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200545

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے