بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ربیع الثانی 1441ھ- 15 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

دوائی سے ایام ماہواری کو روکنا


سوال

کچھ عورتیں روزہ رکھنے کے لیے حیض روکنے کی دوائیں لیتی  ہیں ، اسی طرح کچھ عورتیں عمرہ کرنے کے لیے حیض روکنےکی دوائیاں لیتی ہیں،  کیا اس طرح کرنا اسلام میں جائز ہے؟

جواب

دوائیاں لے کر حیض کو روکنا ایک غیر فطری عمل ہے، جب عورت کو حیض آ جائے تو اس کے لیے حکم یہ ہے کہ ان دنوں کے روزے نہ رکھے، پاکی کے ایام میں ان دنوں کی قضا کرلے، اس لیے دوا لے کر ماہواری روکنے کی ضرورت نہیں، خصوصاً جب کہ یہ صحت کے لیے نقصان دہ ہو، البتہ اگر کسی عورت نے  ماہواری کو روک کر روزے رکھے یا عمرہ کیا تو اس کے روزے درست شمار کیے جائیں گے اور اس کا عمرہ بھی ادا ہوجائے گا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201010

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے