بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ربیع الثانی 1441ھ- 15 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

حنفی المسلک شخص کا نماز میں رفع یدین کرنا


سوال

میرا ایک دوست پہلے حنفی مسلک سے نماز ادا کرتا تھا، اب وہ رفع یدین کرتا ہے ، کیا اس طریقے سے نماز ادا ہو جاتی ہے?

جواب

وتر اور عیدین کی نماز کے علاوہ عام نمازوں میں  صرف تکبیرِ تحریمہ کہتے وقت ہی رفعِ یدین کرنا مسنون ہے، اور یہ مسئلہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ سے مختلف فیہ ہے،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد بعض صحابہ کرام رفع یدین کرتے تھے اوربعض نہیں کرتے تھے۔اسی وجہ سے مجتہدینِ امت میں بھی اس مسئلہ میں اختلاف ہواہے،امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے ترکِ رفع یدین والی روایات کوراجح قراردیاہے،کئی اکابرصحابہ کرام کامعمول ترکِ رفع کاتھا،اوریہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاآخری عمل ہے۔ احناف کے نزدیک  ترکِ رفع یدین ہی  سنت ہے، اور یہ  مسئلہ  وجوب وعدمِ وجوب سے متعلق نہیں ہے؛ بلکہ صرف سنیت وافضیلت سے متعلق ہے، اس لیے اگر کوئی نماز میں رفع یدین کرلے گا تو اس کی نماز بھی ادا ہوجائے گی۔

 لیکن  حنفی مقلد کے لیے اپنے مسلک کی اقتدا کرنا ضروری ہے، غیر مقلدیت اختیارکرنا کسی حال میں درست نہیں ہے، اور خواہشِ نفسانی کی وجہ سے یا بلا ضرورت ایک امام کی تقلید چھوڑکر دوسرے امام کی تقلید  جائز نہیں ہے، البتہ اگر کسی کو کسی امام کے مستدلات پر عبور حاصل ہو اور اس کے مستدلات سے اطمینانِ قلبی حاصل ہورہا ہو تو اس کے لیے اس امام کی تقلید کی گنجائش ہے، محض  سہولت پسندی  کی بنا پر  یا علم سے بے بہرہ ہونے کے باوجود چند احادیث کا ترجمہ دیکھ کر مسلک تبدیل کرکے کسی بھی امام کے ہاں تقلید درست نہیں ہے،  خصوصاً بر صغیر میں جہاں دیگر مسلک کے علماء کا ملنا دشوار ہے اور نہ ہی ان کی کتابیں ہماری زبان میں میسر ہیں ۔

 حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

 "فإذا کان إنسان جاهل في بلاد الهند وبلاد ماوراء النهر ولیس هناک عالم شافعي ولا مالکي ولا حنبلي ولا کتاب من کتب هذه المذاهب وجب علیه أن یقلد لمذهب أبي حنیفة ویحرم علیه أن یخرج من مذهبه بأنه حینئذ یخلع من عنقه ربقة الإسلام ویبقی سدی مهملاً". (الإنصاف: ۷۰)

ترجمہ: جب کوئی ناواقف عامی انسان ہند وستان اور ماوراء النہر کے شہروں میں ہو (کہ جہاں مذہب حنفی پر ہی زیادہ تر عمل ہوتا ہے) اور وہاں کوئی شافعی، مالکی اور حنبلی عالم نہ ہو اور نہ ان مذاہب کی کوئی کتاب ہو تو اس وقت اس پر واجب ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے مذہب کی تقلید کرے اور اس پر حرام ہے کہ حنفی مذہب کو ترک کردے؛ کیوں کہ اس صورت میں (مذہبِ حنفی کو ترک کرنا) شریعت کی رسی اپنی گردن سے نکال پھینکنا ہے اور مہمل وبے کار بن جانا ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201192

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے