بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 ربیع الثانی 1441ھ- 05 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

حالت حیض میں طواف کرنا


سوال

کیا عورت حالتِ حیض میں مسجدِ حرام میں جاسکتی ہے. اور ارکانِ حج اور عمرہ ادا کر سکتی ہے؟  کیوں کہ پاکستان واپس آنا ہوتا ہے. یا پھر حج کے دن گزر کاجانے کا اندیشہ ہوتا ہے. ان تمام صورتوں میں کیا حکم ہے؟

جواب

حائضہ عورت  ناپاکی کی وجہ سےمسجدِ حرام نہیں جاسکتی۔  نہ ہی طواف کرسکتی ہے۔البتہ حج کے دیگر ارکان ادا کرسکتی ہے۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حالتِ حیض و نفاس والی عورت کے بارے میں فرمایا : ’’وہ طواف کے سوا (حج کے) تمام ارکان ادا کرے۔‘‘ (ابن ماجہ، السنن، کتاب المناسک، باب الحائض تقضی المناسک الا لطواف، 3 : 447-448، رقم : 2963)

لیکن اگرپاک ہونے تک وہاں رہنے کی اجازت نہیں ملتی ہے یا محرم واپس آرہا ہے تو اسی حالت میں طوافِ زیارت کر لے اور حدودِ حرم میں ایک بدنہ (اونٹ، گائے یا بھینس)  ذبح کرے۔ اور اگر قربانی سے پہلے خون بند ہوجائے اور پاکی کی حالت میں  طواف دہرانے کا موقع مل گیا  تو دم ساقط ہو جائے گا۔

 

مکہ مکرمہ سے رخصت ہونے کے وقت جو طواف کیا جاتا ہے وہ طوافِ وداع کہلاتا ہے، یہ طواف واجب ہے، لیکن اگر مکہ مکرمہ سے رخصت ہوتے وقت عورت حالتِ حیض میں ہو تو اس طواف کو چھوڑ دے، حیض کی وجہ سے طوافِ وداع چھوڑنے سے کوئی کفارہ، دم یا قضا لازم نہیں ہوگی۔

اسی طرح عمرہ میں   اگر واپسی سے پہلے پہلے حیض سے پاک ہوکر عمرہ کرنے کی کوئی صورت نہ ہو، یعنی ویزا بڑھانے کی یا محرم کے ساتھ رہنے کی کوئی صورت نہیں تو مجبوراً حالتِ حیض ہی میں عمرہ کرلے اور حرم کی حدود میں ایک دم (قربانی )  دے دے۔

"ولو طاف للزیارة جنباً أو حائضاً أو نفساء کله أوکثره ویقع معتداً به في حق التحلل ویصیر عاصیاً فإن أعاده سقطت عنه البدنة". (غنیة الناسک ۲۷۲)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 550):

"(أو طاف للقدوم)؛ لوجوبه بالشروع (أو للصدر جنباً) أو حائضاً (أو للفرض محدثاً ولو جنباً فبدنة إن) لم يعده، والأصح وجوبها في الجنابة، وندبها في الحدث، وأن المعتبر الأول، والثاني جابر له، فلا تجب إعادة السعي، جوهرة. وفي الفتح: لو طاف للعمرة جنباً أو محدثاً فعليه دم ، وكذا لو ترك من طوافها شوطاً؛ لأنه لا مدخل للصدقة في العمرة ... (قوله: بلا عذر) قيد للترك والركوب. قال في الفتح عن البدائع: وهذا حكم ترك الواجب في هذا الباب اهـ أي أنه إن تركه بلا عذر لزمه دم، وإن بعذر فلا شيء عليه مطلقاً. وقيل: فيما ورد به النص فقط، وهذا بخلاف ما لو ارتكب محظوراً  كاللبس والطيب، فإنه يلزمه موجبه ولو بعذر، كما قدمناه أول الباب".فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200698

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے