بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الثانی 1441ھ- 13 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

جھوٹا طلاق نامہ بنانا


سوال

  ایک آدمی دوسری شادی کرنا چاہتا ہے اور دوسری بیوی کو مطمئن کرنے کے لیے پہلی بیوی کی طلاق کے لیے عدالتی فارم پر طلاق کے دستخط کر دیتا ہے، لیکن زبان سے طلاق نہیں دیتا اور نہ ہی حقیقت میں طلاق دینا چاہتا ہے۔ آیا طلاق واقع ہو جائے گی یا نہیں؟

جواب

  مذکورہ شخص طلاق کے عدالتی کاغذات پر دستخط کرنے سے قبل اگر کم از کم دو افراد کو گواہ بنالے کہ اس کا مقصد طلاق دینا نہیں ہے بلکہ محض دوسری بیوی کے اطمینان کے لیے ایسا کررہاہےتو یہ طلاق واقع نہیں ہوگی، اور اگر طلاق نامہ بنانے سے قبل دو گواہ نہیں بنائےتو یہ طلاق واقع ہوجائے گی، طلاق صرف زبان سےنہیں ہوتی ، بلکہ تحریر سے بھی ہوجاتی ہے۔ فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 143908200636

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے