بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ربیع الثانی 1441ھ- 15 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

جس کپڑے پر شراب لگی ہو اس میں نماز کا حکم


سوال

جن کپڑوں پر شراب لگی ہو ان  میں نماز ہوگی؟

جواب

چار حرام شرابیںنجس ہیں، (یعنی کھجور/ چھوہارے/ انگور / کشمش سے بنی ہوئی شراب)۔ اس لیے اگر ان حرام شرابوں میں سے کوئی شراب کپڑوں پر لگ جائے توکپڑےنجس ہوجاتے ہیں۔ اورجن کپڑوں پر شراب لگی ہو ان کپڑوں کو پاک کیے بغیر ان میں نماز پڑھنا درست نہیں ۔

ان چاروں کے علاوہ اگر کوئی اورشراب کپڑے پر لگی ہوتو امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رحمہمااللہ کے نزدیک نماز ہوجائے گی، مگر امام محمد رحمہ اللہ اورجمہور اہلِ علم کے نزدیک اسے بھی دھونا ضروری ہے۔ اوراحتیاط اسی میں ہے کہ کپڑادھوکر نماز پڑھی جائے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908200069

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے