بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ربیع الثانی 1441ھ- 15 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

تعلیق طلاق کا حکم


سوال

ایک شخص نے اپنی  بیوی سے کہاکہ اگر تونے اپنے شہر میں مکان نہیں دلوایا تو تجھے طلاق ہے،کیایہ طلاق ہوجائے گی؟

جواب

سوال میں ذکرکردہ صورت تعلیقِ طلاق کی ایک صورت ہے، اور تعلیقِ طلاق کا حکم یہ ہے کہ جب شرط پائی جائے اس وقت طلاق واقع ہوجاتی ہے، مذکورہ الفاظ میں شوہر نے بیوی سے مکان دلوانے کا مطالبہ کرکے اس  مطالبے پر طلاق کو معلق کیاہے ، لیکن مکان کے حصول کے لیے کوئی وقت متعین نہیں کیا؛ لہذا  آخرِ عمر  تک انتظار کیاجائے گا،اگر اس وقت تک عورت مکان نہیں دلواسکی تو زوجین میں سے کسی ایک کی بھی موت کے وقت طلاق واقع ہوجائے گی۔"البحرالرائق" میں ہے:
'' (قوله : ليأتينه فلم يأته حتى مات حنث في آخر حياته )؛ لأن البر قبل ذلك موجود ولا خصوصية للإتيان بل كل فعل حلف أنه يفعله في المستقبل وأطلقه ولم يقيده بوقت لم يحنث حتى يقع الإياس عن البر مثل ليضربن زيدا أو ليعطين فلانة أو ليطلقن زوجته وتحقق اليأس عن البر يكون بفوت أحدهما فلذا قال في غاية البيان وأصل هذا أن الحالف في اليمين المطلقة لا يحنث ما دام الحالف والمحلوف عليه قائمين لتصور البر فإذا فات أحدهما فإنه يحنث ا هـ ''۔

"فتاوی شامی" میں ہے:
''مطلب: حلف ليفعلنه بر بمرة ( قوله: لأن النكرة في الإثبات تخص ) أراد بالنكرة المصدر الذي تضمنه الفعل وهذا مبني على التعليل السابق وقد علمت ما فيه .
وفي الفتح لأن الملتزم فعل واحد غير عين إذ المقام للإثبات فيبر بأي فعل ، سواء كان مكرها فيه أو ناسيا أصيلا أو وكيلا عن غيره ، وإذا لم يفعل لا يحكم بوقوع الحنث حتى يقع اليأس عن الفعل ، وذلك بموت الحالف قبل الفعل فيجب عليه أن يوصي بالكفارة أو بفوت محل الفعل كما لو حلف ليضربن زيدا أو ليأكلن هذا الرغيف فمات زيد أو أكل الرغيف قبل أكله وهذا إذا كانت اليمين مطلقة .
''(14/463)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143905200015

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے