بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الثانی 1441ھ- 13 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

ترکہ میں شامل مالِ حرام کی تقسیم کا حکم


سوال

 زید کی والدہ کا بہت عرصہ پہلے انتقال ہو گیا تھا اور والد نے اپنے ترکے میں اپنے انتقال کے وقت حیات ورثاء ( 5 بیٹوں اور 4 بیٹیوں) کے لیے مندرجہ ذیل مال چھوڑا تھا:

1_کئی ہزار مالیت کے پرائز بانڈز۔

2_اپنی اولاد میں سے ہر ایک کے نام پر آج سے 35 سال پہلے خریدے گئے دو، تین اور چار ہزار روپے مالیت کے ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹس، جن پر سود لگ کر اب ان میں سے ہر ایک کی قیمت کئی لاکھ تک پہنچ چکی ہے.

3_ بینک میں پنشن کے لیے کھلا ہوا سودی اکاؤنٹ جس میں پنشن کی اصل رقم کے ساتھ ساتھ سودی رقم کی بھی ایک بڑی مقدار موجود ہے.

4_ جوتے اور کپڑے.

اب ان کی تقسیم کرنی ہے اور آپ سے شریعت کی روشنی میں مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات درکار ہیں:

 1ـ حصے کیا ہوں گے؟

2- پرائز بانڈز کی تقسیم ہو گی یا نہیں ہو گی؟ اگر ہو گی تو طریقہ کار بتا دیں. اور اگر نہیں ہو سکتی تو ان کا کیا کریں؟

3- ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹس تو اولاد میں سے ہر ایک کے نام محتلف مالیت کے ہیں. اور والد صاحب نے اجمالاً اپنی زندگی میں اپنی اولاد سے ذکر بھی کر دیا تھا کہ میں نے تم میں سے ہر ایک کے لیے خرید کر رکھ چھوڑے ہیں. آیا ان میں تقسیم ہو گی یا جس کے نام جتنی مالیت کے سرٹیفیکیٹ ہیں وہی ان کا مالک ہو گا؟ پھر آیا یہ تقسیم صرف اصل مالیت کے اعتبار سے ہو گی؟ کیوں کہ ان میں سود کی ایک بڑی مقدار لگ چکی ہے؟ اور اگر نہیں تو ان کا کیا کیا جاۓ؟

4-سودی بنک اکاؤنٹ میں موجود رقم میں بھی یہ وضاحت درکار ہے کہ تقسیم صرف اصل پنشن کی رقم میں ہو گی یا سودی رقم میں بھی تقسیم ہو گی؟ پہلی صورت میں اس سودی رقم کا کیا کیا جاۓ؟

5- جوتے اور کپڑے اگر تمام بہن بھائی آپس میں پسند و نا پسند کے اعتبار سے تقسیم کر لیں، حصے کے مطابق نہ کریں اور سب اس پر راضی بھی ہوں تو کیا یہ تقسیم جائز ہے؟

جواب

1، 2، 3،4۔ صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے ترکہ میں شامل تمام سودی اموال (باؤنڈز، سیونگ سرٹیفکیٹس کی سودی رقم، اکاؤنٹ کی سودی رقم) ورثاء کے لیے اپنی ملکیت میں لینا جائز نہیں ہے، لہذا اگر سودی رقم متعلقہ اداروں کو واپس ہوسکتی ہو تو سودی رقم ان کو واپس کردی جائے، اور اصل رقم ورثاء میں ان کے حصصِ شرعیہ کے اعتبار سے یعنی فی بیٹا دو حصے اور فی بیٹی ایک حصہ کر کے تقسیم کردیا جائے، اور اگر سودی رقم واپس کرنا ممکن نہ ہو تو مذکورہ تمام رقم ثواب کی نیت کے بغیر مستحقِ زکات افراد پر صدقہ کر کے اصل رقم ورثاء میں تقسیم کر دی جائے۔

مرحوم نے جو سرٹیفیکیس اور دیگر فائنائنشیل انسٹرومنٹس اپنی اولاد کے نام پر اگر محض ٹیکس و دیگر معاملات کی وجہ سے خریدے ہوں اور ان پر اپنی زندگی میں نامزد اولاد کو کسی قسم کے مالکانہ حقوق نہ دیے ہوں تو ایسے تمام سیونگ سرٹیفیکیٹس مرحوم کا ہی ترکہ شمار ہوں گے، اور ان کی اصل رقم ورثاء میں حصصِ شرعیہ کے تناسب سے تقسیم کی جائے گی، تاہم جن سرٹیفیکیٹس پر مالکانہ حقوق نامزد اولاد کو زندگی میں ہی دے دیے تھے، وہ مرحوم کے ترکہ میں شامل نہیں ہوں گے۔

5۔ مرحوم کے استعمال کی اشیاء کپڑے جوتے گھڑی وغیرہ سب مرحوم کے ترکہ میں شامل ہیں، جس میں تمام ورثاء حصصِ شرعیہ  کے تناسب سے شریک ہیں، البتہ اگر تمام ورثاء بالغ ہوں اور باہمی رضامندی سے اس کی تقسیم کرلیتے ہیں تو اس کی اجازت ہوگی۔ نیز اگر کوئی وارث نابالغ ہو تو اسے پورا حصہ دینے کے ساتھ  بالغ ورثاء اپنے حصے میں باہمی رضامندی سے تقسیم کرسکتے ہیں۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200831

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے