بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ربیع الثانی 1441ھ- 12 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بی سی کا حکم


سوال

بی سی  یا مروجہ کمیٹی کا کیا حکم ہے؟ ہمارے علاقے  کے ایک مفتی صاحب نے اس کو قمار کہہ کرحرام میں  شامل کیا ہے۔

جواب

بی سی اور کمیٹی کی حیثیت قرض کی ہوتی ہے، گویا کمیٹی کے ممبران میں سے ہر ممبر ایک معین رقم قرض دیتا ہے اور قرعہ اندازی میں نام نکلنے پر قرض دی ہوئی رقم وصول کر لیتا ہے،  اگر تمام ممبران شروع سے آخر تک بی سی میں شریک رہیں اور برابر رقم جمع کرائیں اور انہیں برابر برابر رقم ملے تو یہ نظام شرعاً درست ہے، اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں۔

تاہم بعض جگہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ کمیٹی کا چیئر مین کمیٹی کے پیسوں میں سے ہی اپنی دی ہوئی رقم سے کچھ زیادہ وصول کرتا ہے،یا بعض جگہوں پر یہ ہوتا ہے کہ جس کی بی سی نکل جاتی ہے، وہ آئندہ نہیں دیتا، اس طرح کی بی سی بھی شرعاً جائز نہیں ہے۔

اسی طرح شریعت کا ایک ضابطہ یہ بھی ہے کہ جب کوئی شخص قرض دے تو اُس قرض دینے والے کو  یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ کسی بھی وقت اپنی قرض دی ہوئی رقم کا مطالبہ کر لے اگرچہ قرض کی واپسی کے لیے  ایک مدت متعین کر لی ہو؛ لہذا کمیٹی کے ممبران کو بھی کسی بھی وقت اپنی دی ہوئی رقم واپس لینے کا حق حاصل ہو گا۔ لہذا اگر شرعی شرائط کوملحوظ رکھتے ہوئے بی سی ڈالی جائے تو جائز ہے اسے حرام کہنا درست نہیں۔

بعض جگہوں پر یہ صورت ہوتی ہے کہ ہر ماہ یا  بی سی کی قسط جمع کراتے وقت قرعہ اندازی ہوتی ہے اور جس کا نام نکلتاہے آئندہ اقساط سے وہ بری الذمہ ہوجاتاہے، یہ صورت ’’قمار‘‘  کے تحت داخل ہے، ممکن ہے کہ مذکورہ مفتی صاحب نے بی سی کی خاص ممنوعہ صورت کو قمار کہہ کر حرام کہاہو۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 158):

"(ولزم تأجيل كل دين) إن قبل المديون (إلا) ... (القرض)".فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200306

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے