بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الثانی 1441ھ- 08 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بٹ، اوجھڑی اور مرغی کے پوٹے کھانے کا حکم


سوال

بٹ، اوجھڑی  اور مرغی کے پوٹے کھانے کا کیا حکم ہے؟ حرام ہے یا مکروہ ہے یا حلال ہے بلا کراہت؟

جواب

حلال جانور کی اوجھڑی اور بٹ  کھانا جائز ہے، البتہ خوب پاک وصاف کرکے کھائیں، مرغی کے پوٹے کھانا بھی جائز ہے۔

’’امداد الفتاوی‘‘  میں ہے:

’’ اوجھڑی کی حلت اس لیے ہے کہ اس میں کوئی وجہ حرمت کی نہیں،  فقہاء نے اشیائے حرام کو شمار کردیا ہے، یہ ان کے علاوہ ہے، یہ شمار ’’درمختار‘‘  کے مسائل شتٰی میں مذکور ہے: والغدة، والخصیة والمثانة، والمرارة، والدم المسفوح، والذکر۔ اهـ ‘‘ (4/104)

’’حلال جانور کی اوجھڑی اور بٹ دونوں حلال ہیں، یہ دونوں حلال جانور کے ان سات اجزاء میں شامل نہیں جو ناجائز ہیں؛ اس لیے حلال جانور کی بٹ اور اوجھڑی کا کھانا جائز ہے‘‘.  (فتاوی رشیدیہ ، ص: ۵۵۱،۵۵۲، باقیات فتاوی رشیدیہ، ص ۳۶۸،)

’’فتاوی رحیمیہ‘‘  میں ہے:

’’ فقہاء نے جانور کی سات چیزوں  کو حرام قراردیا ہے ان سات چیزوں  میں  اوجھڑی شامل نہیں  ہے، لہذا اسے حلال کہا جائے گا، جو اسے حرام قرار دیتے ہیں  وہ دلیل پیش کریں‘‘۔ (10/81، ط: دار الاشاعت)  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201087

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے