بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 ربیع الثانی 1441ھ- 09 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بغیر داڑھی والے کا اذان دینا


سوال

میں نے اپنی سوسائٹی کی مسجد میں ایک بات نوٹ کی ہے کہ مسجد کمیٹی کے صدر جن کی داڑھی مکمل نہیں ہے، وہ مؤذن کے ہوتے ہوئےبھی فجر کی اذان دیتے ہیں، کیا یہ درست ہے؟

جواب

داڑھی مندوانے یا ایک مشت سے کم کروانے والا فاسق ہے اور فاسق  کا ذان دینا مکروہ تحریمی ہے، اذان ایک اہم عبادت کی طرف دعوت ہے،  اس کے لیے باشرع مؤذن مقرر ہے تو اسی سے اذان دلوانی چاہیے۔

'' عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلی الله علیه وسلم: لیؤذن لکم خیارکم، ولیؤمکم قراؤکم''۔ (سنن أبي داؤد، باب من أحق بالإمامة، النسخة الهندیة ۱/ ۸۷، دارالسلام، رقم: ۵۹۰)
''ویکره أذان جنب -إلی قوله:- وفاسق ولو عالماً''. وفي الشامیة: ''وظاهره أن الکراهة تحریمیة ''۔ (الدرالمختار مع الشامي، باب الأذان، مطلب في المؤذن إذا کان، کراچی ۱/ ۳۹۲)
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909200115

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے