بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الثانی 1441ھ- 08 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بئیر پینے کا حکم


سوال

 شراب کی ایک قسم بئیر(beer)ہے، اس میں8٪الکحل ہوتی ہے اور92٪آبِ جو یاآبِ  گندم ہوتاہے اور اس کے پینے سے پہلی دفعہ پینے والے کو ہلکا سا نشا ہوتا ہے جس میں بندے کے حواس باقی ہوتے ہیں۔

برائےمہربانی  یہ بتادیں اس کا پینا حلال ہے یا حرام؟ 

جواب

بیئر شراب ہے اور شراب (میں اگرچہ نشہ نہ ہو تو بھی اس) کا پینا حرام ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143609200024

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے