بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ربیع الثانی 1441ھ- 07 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

ایصال ثواب کے لیے دن متعین کرنا اور کھانے کا اہتمام کرنا


سوال

اگر ایک بندے کا انتقال ہوگیا، اب اس شخص کے قریبی رشتے دار (مثلًا: بھتیجے وغیرہ) کے لیے اس کی میت کا کھانا اور تیسرے دن کا کھانا کھانا کیسا ہے؟  اور ہر جمعرات کو اس کے گھر پر تبارک (قرآن)  پڑھ کر کھانا کھانا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ضیافت خوشی و مسرت کے مواقع پر ہوتی ہے، نہ کہ میت کے گھر والوں  کی طرف سے، میت کے گھر والے چوں کہ خود غم کا شکار ہوتے ہیں؛ اس لیے میت کے اقرباء کے لیے مستحب  ہے کہ میت کے گھر کھانا پکا کر بھیجیں، میت کے گھر والوں کی طرف سے آنے والے لوگوں کے لیے کھانے کا اہتمام قابلِ ترک عمل ہے۔ ہاں! جو لوگ دور دراز سے جنازہ میں شرکت کے لیے آتے ہیں او رکسی وجہ سے واپس نہیں ہوسکتے اور  اہلِ میت یا ان کے قریبی اعزہ ان کے لیے کھانے کا نظم کردیں تو  ان کے لیے میت کے گھر کھانے میں مضائقہ نہیں ہے۔

باقی ایصالِ ثواب کے لیے کوئی دن متعین کرنا اور قرآنِ مجید کی تلاوت اور ذکر و اذکار کے بعد دعوت کا اہتمام کرنا بدعت ہے، جس کا ثبوت خیرالقرون میں نہیں ملتا، بلکہ احادیث میں اس قسم کی محفلوں کو نوحہ میں شمار کیا گیا ہے، جیساکہ سنن ابنِ ماجہ میں بروایت حضرت جریر بن عبد اللہ البجلی رضی اللہ عنہ منقول ہے : " ہم میت کے گھروالوں کے یہاں اجتماع اور کھانے کے اہتمام کو نوحہ شمار کرتے تھے۔ یعنی اس اجتماع اور کھانے کا گناہ ویسا ہی شمار کرتے جیسے نوحہ کا گناہ ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں تیسرے دن اور ہر جمعرات کو قرآن خوانی کے لیے دن متعین کرنا، پھر دعوت کا اہتمام کرنا بدعت ہے،  جس سے اجتناب ضروری ہے۔ایصالِ ثواب اپنے طور پر جتنا ہو سکے کرتے رہیں۔

’’عن جرير بن عبد الله البجلي قال: كنا نرى الإجتماع إلى أهل الميت و صنعة الطعام من النياحة‘‘. (باب ما جاء في النهي عن الاجتماع إلى أهل الميت و صنعة الطعام، ١/ ٥١٤)

شرح سنن ابن ماجہ میں ہے:

’’إن الناس يجتمعون عند أهل الميت فيبعث أقاربهم أطعمة، لاتخلو عن التكلف فيدخل بهذا السبب البدعة الشنيعة فيهم، وأما صنعة الطعام من أهل الميت إذا كان للفقراء فلا بأس به، لأن النبي صلي الله عليه وسلم قبل دعوة المرأة التي مات زوجها كما في سنن ابي داؤد، و أما للأغنياء و الأضياف فممنوع و مكروه؛ لحديث أحمد و ابن ماجة في الباب الآتي: كنا نرى الاجتماع و صنعة الطعام إلى أهل الميت من النياحة، أي نعد وزره كوزر النوح‘‘. (١/ ١١٦)
فتاوی شامیمیں ہے:

’’قَالَ: وَيُكْرَهُ اتِّخَاذُ الضِّيَافَةِ مِنْ الطَّعَامِ مِنْ أَهْلِ الْمَيِّتِ لِأَنَّهُ شُرِعَ فِي السُّرُورِ لَا فِي الشُّرُورِ، وَهِيَ بِدْعَةٌ مُسْتَقْبَحَةٌ، رَوَى الْإِمَامُ أَحْمَدُ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كُنَّا نَعُدُّ الِاجْتِمَاعَ إلَى أَهْلِ الْمَيِّتِ، وَصُنْعَهُمْ الطَّعَامَ مِنْ النِّيَاحَةِ. وَيُسْتَحَبُّ لِجِيرَانِ أَهْلِ الْمَيِّتِ وَالْأَقْرِبَاءِ الْأَبَاعِدِ تَهْيِئَةُ طَعَامٍ لَهُمْ يُشْبِعُهُمْ يَوْمَهُمْ وَلَيْلَتَهُمْ؛ لِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اصْنَعُوا لآلِ جَعْفَرٍ طَعَامًا فَقَدْ جَاءَ مَا يَشْغَلُهُمْ». حَسَّنَهُ التِّرْمِذِيُّ وَصَحَّحَهُ الْحَاكِمُ‘‘. (٦/ ٦٦٥)

"البحر الرائق" لابن نُجيممیں ہے :

’’وَلَا بَأْسَ بِالْجُلُوسِ إلَيْهَا ثَلَاثًا مِنْ غَيْرِ ارْتِكَابِ مَحْظُورٍ مِنْ فَرْشِ الْبُسُطِ وَالْأَطْعِمَةِ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ ". انتهى.‘‘ ( ٢/ ٢٠٧)

 فتاوی بزازیہ میں ہے:

’’و يكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول و الثالث و بعد الأسبوع، و نقل الطعام إلى القبر في المواسم و اتخاذ الدعوة لقراءة القرآن و جمع الصلحاء و القرآء للختم أو لقراءة سورة الأنعام أو الإخلاص. و الحاصل أن اتخاذ الطعام عند قراءة القرآن لأجل الأكل يكره. و فيها من كتاب الاستحسان: و إن اتخذ طعاماً للفقراء كان حسناً اهـ. و أطال في ذلك في المعراج، و قال: و هذه الأفعال كلها للسمعة و الرياء فيتحرز عنها‘‘. (٢/ ٢٤٠) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144003200196

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے