بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 ربیع الثانی 1441ھ- 06 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

ایام تشریق میں فرض نماز کے بعد تکبیرات تشریق بھول جانا


سوال

 اگر کوئی ایامِ  تشریق میں تکبیراتِ تشریق بھول جائے تو  ایسی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟

جواب

اگر کوئی ایامِ تشریق میں فرض نماز کے بعد تکبیر کہنا بھول گیا کہ نماز سے فارغ ہوکر دوسرے کاموں میں مشغول ہوگیا، یا مسجد سے نکل گیا تو ایسی صورت میں تکبیر کی قضا نہیں ہے، بلکہ توبہ واستغفار  کرنا لازم ہوگا۔

البحر الرائق میں ہے:

"وَأَمَّا مَحَلُّ أَدَائِهِ فَدُبُرُ الصَّلَاةِ وَفَوْرُهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَتَخَلَّلَ مَا يَقْطَعُ حُرْمَةَ الصَّلَاةِ حَتَّى لَوْ ضَحِكَ قَهْقَهَةً أَوْ أَحْدَثَ مُتَعَمِّدًا أَوْ تَكَلَّمَ عَامِدًا أَوْ سَاهِيًا أَوْ خَرَجَ مِنْ الْمَسْجِدِ أَوْ جَاوَزَ الصُّفُوفَ فِي الصَّحْرَاءِ لَايُكَبِّرُ؛  لِأَنَّ  التَّكْبِيرَ  مِنْ خَصَائِصِ الصَّلَاةِ حَيْثُ لَا يُؤْتَى بِهِ إلَّا عَقِبَ الصَّلَاةِ فَيُرَاعَى لِإِتْيَانِهِ حُرْمَتَهَا وَهَذِهِ الْعَوَارِضُ تَقْطَعُ حُرْمَتَهَا، وَلَوْ صَرَفَ وَجْهَهُ عَنْ الْقِبْلَةِ، وَلَمْ يَخْرُجْ مِنْ الْمَسْجِدِ، وَلَمْ يُجَاوِزْ الصُّفُوفَ أَوْ سَبَقَهُ الْحَدَثُ يُكَبِّرُ؛  لِأَنَّ  حُرْمَةَ  الصَّلَاةِ بَاقِيَةٌ وَالْأَصْلُ أَنَّ كُلَّ مَا يَقْطَعُ الْبِنَاءَ يَقْطَعُ التَّكْبِيرَ وَمَا لَا فَلَا وَإِذَا سَبَقَهُ الْحَدَثُ، فَإِنْ شَاءَ ذَهَبَ وَتَوَضَّأَ وَرَجَعَ فَكَبَّرَ وَإِنْ شَاءَ كَبَّرَ مِنْ غَيْرِ تَطْهِيرٍ؛ لِأَنَّهُ لَا يُؤَدَّى فِي تَحْرِيمَةِ الصَّلَاةِ فَلَا يُشْتَرَطُ لَهُ الطَّهَارَةُ قَالَ الْإِمَامُ السَّرَخْسِيُّ وَالْأَصَحُّ عِنْدِي أَنَّهُ يُكَبِّرُ، وَلَايَخْرُجُ  مِنْ الْمَسْجِدِ لِلطَّهَارَةِ؛ لِأَنَّ التَّكْبِيرَ لَمَّا لَمْ يَفْتَقِرْ إلَى الطَّهَارَةِ كَانَ خُرُوجُهُ مَعَ عَدَمِ الْحَاجَةِ قَاطِعًا لِفَوْرِ الصَّلَاةِ فَلَا يُمْكِنُهُ التَّكْبِيرُ بَعْدَ ذَلِكَ فَيُكَبِّرُ لِلْحَالِ جَزْمًا كَذَا فِي الْبَدَائِعِ". ( خطبة العيد، ٢ / ١٧٨) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200181

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے