بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 ربیع الثانی 1441ھ- 06 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

انگریزی تعلیم حاصل کرنا / علماء کرام کا تصاویر بنانا


سوال

1- دیوبند کے علماء نے پہلے سکولوں یعنی انگلش تعلیم کے خلاف فتویٰ دیا تھا کہ جو لوگ اپنے بچوں کو سکول کے  گیٹ میں داخل کریں وہ کافر ہیں،  اب اس فتوے کا کیا بنا؟ کیا اب بھی انگلش تعلیم کفر ہے یا نہیں؟

2-  مدرسہ بنوری ٹاؤن کراچی کی طرف سے بھی ایک فتویٰ شائع ہوا تھا کہ پکچر کھیچنا حرام ہےاور اس پر کمنٹ  کرنا دوسرا جرم ہے. جو فیس بک  پر آج کل ہوتا ہے. اب سب سے پہلے علماء پکچر بناتے ہیں کیا وہ فتویٰ بھی ناکارہ ہوگیا؟

جواب

1۔۔ اول یہ ذہن نشین رہے کہ ہمارے اکابرین نے انگریزی تعلیم سیکھنے پر  کبھی کفر کا فتوی نہیں دیا ہے، انگریزی بلکہ کوئی بھی زبان سیکھنا فی نفسہ مباح ہے، اگر کسی نیک مقصد سے سیکھی جائے تو مستحسن بھی ہے، ہمارے اکابرین نے انگریزی سامراج کے تسلط کے زمانے میں انگریزی تعلیم کو  اس ماحول کے اثر کی وجہ سے مخربِ عقائد اور مفسدِ اعمال میں سے شمار کیا ہے، اس لیے مستقل اس تعلیم کو حاصل کرنے والوں پر ماحول کا اتنا اثر ہوتا ہے وہ اپنے اقوال، اعمال، افعال اور وضع قطع کو بالکل غیر قوموں کی طرح کرلیتے ہیں،حتی کہ ان کے عقائد تک مسخ ہوجاتے ہیں، اور اس کے علاوہ بہت سے مفاسد پائے جانے  کی وجہ سے اس سے منع کیا جاتا رہا، اب بھی جہاں کہیں یہ مفاسد پائے جائیں وہاں مسلمانوں کو اس سے منع کیا جائے گا۔

2۔۔  دینِ اسلام میں صورت گری، کسی بھی شکل میں ہو، کسی بھی طریقے سے بنائی جائے، بناوٹ کے لیے جو بھی آلہ استعمال ہو، کسی بھی غرض و مقصد سے تصویر بنائی جائے، حرام ہے، اس تنوع واختلاف سے صورت گری اور تصویر سازی کے حکم میں کوئی فرق یانرمی نہیں آتی، نصوص کی کثیر تعداداور بے شمار فقہی تصریحات اس مضمون کے بیان پر مشتمل ہیں، جو اہلِ علم سے مخفی نہیں ہیں، ماضی قریب تک تصویر سازی کی حرمت کا مسئلہ اہلِ علم کے ہاں مسلم و متفق علیہ رہا ہے اور اسے بدیہی امور میں سمجھا جاتا تھا، یعنی جس کو عرف نے تصویر کہا وہ تصویر قرار پائی۔

لہذا کسی بھی جان دار کی تصویر کھینچنا ، بنانایا بنوانا ناجائز اور حرام ہے، خواہ  اس تصویر کشی کے  لیے کوئی بھی  آلہ استعمال کیا جائے،اہلِ علم و اہلِ فتوی کی بڑی تعداد کی تحقیق کے مطابق تصویر کے جواز وعدمِ جواز کے بارےمیں ڈیجیٹل اور غیر ڈیجیٹل کی تقسیم شرعی نقطہ نظر سے ناقابلِ اعتبار ہے۔

ہمارا فتوی اب بھی وہی ہے جو پہلے تھا کہ تصویر سازی کا عمل شرعاً ناجائز ہے  خواہ وہ ڈیجیٹل ہو یا غیر ڈیجیٹل، کسی فرد (خواہ وہ عالم ہو) کے غلط عمل کی وجہ سے شریعت کا حکم تبدیل نہیں ہوتا ۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010201013

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے