بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ربیع الثانی 1441ھ- 15 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

امام زرکشی اور علامہ بیہقی کا مختصر تعارف


سوال

علامہ زرکشی اور علامہ بیہقی رحمہما اللہ کے بارے میں معلومات بھیج سکتے ہیں ان کی دینی خدمات اور حالات زندگی وغیرہ ؟

جواب

 امام زرکشی کے مختصر حالاتِ زندگی

نام و نسب: امام زرکشی کا  پورا نام محمد بن عبد اللہ بن بہادر ہے۔بعض کے نزدیک ان کے  باپ کا  نام بہادر بن عبد اللہ ہے ۔
کنیت: ابو عبد اللہ، جب کہ  نسبت زرکشی  اور مصری ہے۔ترکی الاصل اور شافعی المسلک ہیں۔
آٹھویں صدی ہجری کے اہل نظر ومجتہد علماء میں سے ہیں۔ قرآنِ کریم، اَحادیث ِمبارکہ اور اُصولِ دین  وفقہ میں امتیازی  حیثیت کے حامل تھے۔
’زرکش‘ فارسی کلمہ ہے،  جو ’’زر‘‘ اور ’’کش‘‘ سے مرکب ہے، یعنی  سونےکا کام کرنے والا ۔ ان کو  ’’زرکشی‘‘ اس لیے کہا  جاتا ہے کہ  طلب ِعلم سے پہلے وہ سنارکا کاکام کرتے تھے۔

امام زرکشی کی ولادت، نشوونما اور ابتدائی تعلیم 
امام بدر الدین  زرکشی  قاہرہ میں  745ھ میں ایک ترکی خاندان میں پیدا ہوئے۔

چھوٹی عمر میں سنار کا کام سیکھا  اور اس پیشہ  سے منسلک ہوگئے-پھر  خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے تحصیلِ علم کی طرف متوجہ ہوئے تو اپنے معاشرے کو  مدارس، علماء، کتب اور دور دور سے علماءِ مصر سے استفادہ کے لیے  آنے والے طلبہ کے  حلقاتِ علم سے بھرا ہوا پایا۔ انہی  حلقات میں  امام زرکشی نے بھی شریک ہونا شروع کر دیا  اور امام نووی  کی  فقہ شافعی پرکتاب "منہاج الطالبین  وعمدۃ  المفتیین" کو حفظ کر لیا۔ اسی  نسبت سے ان کو "المنہاجی" بھی کہا جاتا ہے-
پھر  امام زرکشی  "مدرسہ کاملیہ" میں امام جمال الدین  اسنوی کے حلقہ میں  داخل ہوگئے۔ امام اسنوی اس زمانے میں مصر میں شافعی مذہب کے  سب سے بڑے فقیہ تھے۔ امام زرکشی  نے ان سے خوب استفادہ کیا اور ان کے سب سے ذہین و فطین شاگرد ثابت ہوئے۔ نیز امام سراج الدین بلقینی اور حافظ مغلطائی جیسے محدثین سے علم حدیث میں کمال  حاصل کیا۔
رحلاتِ علمیہ
سلفِ صالحین کا یہ طریقہ تھا کہ سب سے پہلے اپنے شہرکے جید  علماء سے استفادہ کیا کرتے تھے  اور پھر  دوسرے شہروں کے جید علماء کی  طرف سفرکرتے اور ان سے اپنے علم کی پیاس  بجھاتے تھے،  امام زرکشی  نے بھی  سلف کی اسی  سنت پر عمل کیا  اور سب سے پہلے شام کی طرف سفر  کیا  اور وہاں شیخ  صلاح الدین سے حدیث کا علم حاصل کیا۔ اور امام عماد الدین ابن کثیر سے حدیث  وفقہ میں مہارت حاصل کی اور ان کی  مدح میں شعربھی کہے۔ پھر  جب ان تک شہاب الدین کی شہرت پہنچی تو ان سے استفادہ کےلیے حلب کا سفر کیا اور ان سے فقہ واُصول فقہ میں مہارت حاصل کی۔
بڑے بڑے علماء  سے مختلف علوم میں مہارت حاصل کرنے کے  بعد امام زرکشی  واپس مصر تشریف لے آئے اور تدریس کرنے کے ساتھ ساتھ افتاء کے منصب پر بھی  فائز ہوئے- اورپھر  تدریس  وافتاء کے  ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف کی طرف بھی متوجہ ہوئے اور اپنی 49 سالہ مختصر عمر میں  متنوع موضوعات پر اپنے ہاتھ سے اتنی کتابیں تصنیف کر گئے کہ بڑے بڑے علماء اتنی تصنیفات نہ کر سکے۔
امام زرکشی اپنے گھر میں  ہر قسم کے کاموں سے کنارہ کش رہا کرتے تھے  اور کتابوں کے بازار کے علاوہ کبھی بھی  بازار وغیرہ نہیں جاتے تھے  اور جب بھی کتابوں کے  بازار تشریف لے جاتے توکچھ خریداری نہ کرتے، بلکہ وہیں بیٹھے بیٹھے پورا دِن کتابوں کے مطالعے میں  گزار دیتے اور جو بات پسند آتی  وہ اپنے پاس موجود  خالی اوراق میں لکھ لیتے اورپھر  واپس اپنے گھر آ کر  اس کو اپنی کتابوں میں نقل کر لیتے تھے۔
امام زرکشی بیک وقت کئی  علوم میں مہارت رکھتے تھے جن میں علومِ قرآن، حدیث، فقہ، اُصول فقہ اور ادب شامل ہیں  اور ہر علم میں  ان کی  متعدد تصانیف ہیں جو کہ ان علوم میں  ان کے  تبحرعلمی پر دلالت کرتی ہیں۔

امام زرکشی کی اہم کتب حسبِ ذیل ہیں:

  • الإجابة لإيراد ما استدركته عائشة على الصحابة
  • الأزهية في أحكام الأدعية امام بوصیری کے قصیدہ بردہ کی شرح ہے۔
  • اللآلي المنتثرة في الأحاديث المشتهرة
  • المعتبر في تخريج أحاديث المنهاج والمختصر
  • المنثور في القواعد الفقهية
  • النكت على مقدمة ابن الصلاح مقدمه ابن الصلاحکی شرح 
  • إعلام الساجد بأحكام المساجد 
  • تشنيف المسامع بجمع الجوامع امام سبکی کی  اُصولِ فقہ پر’’جمع الجوامع‘‘ کی  شرح 
  •  تفسير القرآن
  • تكملة شرح المنهاج للنووي
  • خبايا الزوايا (الفقه)
  • خلاصة الفنون الأربعة
  • ربيع الغزلان (الأدب)
  • رسالة في كلمات التوحيد المعروف معنى لا إلٰه إلا الله 
  • سلاسل الذهب (أصول الفقه)
  • شرح الأربعين النووية
  • البحر المحيط (أصول الفقه)
  • البرهان في علوم القرآن 
  • الذهب الإبريز في تخريج أحاديث فتح العزيز (الحديث)
  • الفتاوىٰ (الفقه)
  • الكواكب الدرية في مدح خير البرية 

الدرر الكامنة في أعيان المائة الثامنة (5/ 133):
" 1059 محمد بن بهادر بن عبد الله التركي الأصل المصري الشيخ بدر الدين  الزركشي ولد سنة 745 وعنى بالاشتغال من صغره فحفظ كتبا وأخذ عن الشيخ جمال الدين الآسنوى والشيخ سراج الدين البلقيني".

الدرر الكامنة في أعيان المائة الثامنة (5/ 134):
"وكان منقطعاً في منزله لايتردد إلى أحد إلا إلى سوق الكتب واذا حضره لايشترى شيئا وإنما يطالع في حانوت الكتبي طول نهاره ومعه ظهور أوراق يعلق فيها ما يعجبه ثم يرجع فينقله إلى تصانيفه ...... ومات في ثالث رجب سنة 794 بالقاهرة". 

امام بیہقی کے حالاتِ زندگی

آپ کا اسم گرامی ابو بکر احمد بن حسین بن علی بن عبد اللہ بن موسیٰ خسروجردی، بیہقی، خراسانی ہے۔ انہیں امام بیہقی بھی لکھا جاتا ہے۔

آپ شعبان 384ھ 994ء میں خسرو جرد نامی بستی میں پیدا ہوئے جو بیہق (نیشاپور)کے نواح میں واقع ہے ۔

امام بیہقی کی وفات کے سلسلے میں امام ذہبی لکھتے ہیں کہ آخر عمر میں وہ نیشاپور اُٹھ گئے تھے اور وہاں اپنی کتب کے درس میں مشغول ہو گئے، لیکن جلد ہی وقتِ رحلت آن پہنچا اور 10 جمادی الاولیٰ 458ھ1066ء میں نیشاپور میں ہی داعیٔ اجل کو لبیک کہا اور  "بیہق" میں لاکر آپ کو سپرد خاک کیا گیا۔

اساتذہ کرام میں انتہائی شہرت کے حامل یہ حضرات ہیں : ابو الحسن محمد بن حسین العلوی، امام ابو عبد اللہ الحاکم، ابو اسحاق اسفرائینی، عبد اللہ بن یوسف اصبھانی، ابو علی الروزباری، امام بزاز، ابو بکر ابن فورک وغیرہ۔

کسی بھی عالم کے علمی مقام کا جہاں ان کی کتب سے اندازہ ہوتا ہے وہاں اس سے بھی بڑھ کر اس کا تعارف اس کے وہ ارشد تلامذہ ہوتے ہیں جنہیں وہ انتہائی محنت اور جاں فشانی سے تیار کرتا ہے، بالکل ایسے ہی امام بیہقی اگر اپنی گراں قدر تصانیف عالمِ وجود میں نہ بھی  چھوڑ کر جاتے تو ان کو زندہ رکھنے کے لیے ان کے تلامذہ ہی کافی تھے۔ جنہوں نے آپ کی کتب کو آئندہ نسلوں کی طرف منتقل کیا اور ہمیشہ آپ کی ملازمت اختیار کی ہے، ان میں ابو عبد اللہ محمد بن الفضل الفرادی، ابو عبد اللہ محمد عبد الجبار بن محمد بن احمد البیهقي الخواری، ابو نصر علی بن مسعود بن محمد الشجاعی، ابو عبد اللہ بن ابو مسعود الصاعدی، فرزندِ حضرت ِامام اسماعیل بن احمد البیهقي اور آپ کے پوتے ابو الحسن عبید اللہ بن محمد بن احمد شامل ہیں۔

امام بیہقی کی تصانیف:

  • السنن الکبریٰ 
  • السنن الصغری
  • المعارف
  • الاسماء والصفات
  • دلائل النبوۃ
  • الآداب - حدیث میں ہے
  • الترغیب والترہیب
  • المبسوط
  • الجامع المصنف في شعب الإيمان
  • مناقب الامام الشافعی
  • معرفة السنن والآثار
  • القراءة خلف الامام
  • البعث والنشور
  • الاعتقاد
  • فضائل الصحابہ

تذكرة الحفاظ للذهبي (3/ 219):

"البيهقي الإمام الحافظ العلامة شيخ خراسان، أبو بكر أحمد بن الحسين بن علي بن موسى الخسروجردي البيهقي، صاحب التصانيف:

ولد سنة أربع وثمانين وثلاثمائة في شعبان، وسمع أبا الحسن محمد بن الحسين العلوي وأبا عبد الله الحاكم وأبا طاهر بن محمش وأبا بكر بن فورك وأبا علي الروذباري وعبد الله بن يوسف بن بانويه وأبا عبد الرحمن السلمي وخلقًا بخراسان، وهلال بن محمد الحفار وأبا الحسين بن بشران وابن يعقوب الإيادي وعدة ببغداد، والحسن بن أحمد بن فراس وطائفة بمكة، وجناح بن نذير وجماعة بالكوفة، ولم يكن عنده سنن النسائي ولا جامع الترمذي ولا سنن ابن ماجه، بل كان عنده الحاكم فأكثر عنه وعنده عوالٍ ومسانيد وبُورك له في علمه لحسن قصده وقوة فهمه وحفظه.

وعمل كتبًا لم يسبق إلى تحريرها؛ منها الأسماء والصفات وهو مجلدان، والسنن الكبير عشر مجلدات، والسنن والآثار أربع مجلدات، وشعب الإيمان مجلدان، ودلائل النبوة ثلاث مجلدات، والسنن الصغير مجلدان، والزهد مجلد، والبعث مجلد، والمعتقد مجلد، والآداب مجلد، ونصوص الشافعي ثلاث مجلدات، والمدخل مجلد، والدعوات مجلد, والترغيب والترهيب مجلد، وكتاب الخلافيات مجلدان، والأربعون الكبرى، والأربعون الصغرى، وجزء في الرؤية ومناقب الشافعي مجلد، ومناقب أحمد مجلد، وكتاب الأسرى، وكتب عديدة لا أذكرها".

تذكرة الحفاظ للذهبي (3/ 220):

"حضر في أواخر عمره من بيهق إلى نيسابور، وحدث بكتبه، ثم حضره الأجل في عاشر جمادى الأولى من سنة ثمانٍ وخمسين وأربعمائة, فنقل في تابوت فدفن ببيهق, هي ناحية من أعمال نيسابور على يومين منها، وخُسروجِرد هي أم تلك الناحية".فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200727

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے