بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الثانی 1441ھ- 08 دسمبر 2019 ء

بینات

 
 

کیا صرف ’’اضعافا مضاعفۃ یعنی دوگنا سود‘‘حرام ہے؟

کیا صرف ’’اضعافا مضاعفۃ یعنی دوگنا سود‘‘حرام ہے؟

کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس بابت کہ : قرآن کریم کی آیت مبارکہ ’’یَأَیُّھَا الَّذِیْنَ أٰمَنُوْا لَاتَأْکُلُوْا الرِّبٰوا أَضْعَافاً مُّضَاعَفَۃً‘‘ سے اس بات پر استدلال کرنا درست ہے کہ سو د صرف وہی حرام ہے جو دو گنا یا تین گنا ہو، اس سے کم سود کا لین دین حرام نہیں؟ چونکہ بینکوں کا سود دوگنا یا تین گنا نہیں ہوتا، اسی وجہ سے اس کا دلین دین حلال ہے؟ مستفتی:عبداللہ الجواب باسمہٖ تعالیٰ قرآن کریم کی آیت مبارکہ ’’یَأَیُّھَا الَّذِیْنَ أٰمَنُوْا لَاتَأْکُلُوْا الرِّبٰوا أَضْعَافاً مُّضَاعَفَۃً‘‘ یعنی ’’اے ایمان والو! سود مت کھاؤ ، کئی حصے زائد‘‘ سے بعض لوگ غلط استدلال کرتے ہیں کہ سود کی صرف وہ شکل ممنوع ہے، جس میں سود بڑھاچڑھا کر وصول کیاجائے اور اگر سود کی شرح دوگنا نہ ہو تو ایسا سود ممنوع نہیںہے۔ یہ استدلال چند وجوہ سے غلط ہے: ۱…: ہمارے علم کے مطابق آج تک اس آیتِ کریمہ سے یہ غلط استدلال گزشتہ صدی کے چند لادین حضرات کے علاوہ کسی نے نہیں کیا۔ امام ابوبکر جصاصؒ، علامہ زمخشریؒ، امام رازیؒ،حافظ ابن کثیرؒ، قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ اور علامہ محمود آلوسی رحمہم اللہ جیسے تمام مفسرین نے صراحت کے ساتھ یہ لکھا ہے کہ آیت بالا میں ’’أضعافا مضاعفۃ‘‘ کا مقصد سود کی مطلق حرمت کے ساتھ ساتھ اس زمانے کی مخصوص ومعروف شکل کی ممانعت بیان کرنا بھی تھا۔ وہ صورت یہ تھی کہ قرض خواہ مقررہ وقت پر قرض واپس نہ کرنے کی صورت میں مقروض شخص سے یہ کہہ کر سود بڑھایا کر تا تھا کہ ابھی ادا کریں، یا پھر واجب الاداء رقم کی مقدار میں اضافہ کریں، چنانچہ مقروض شخص مجبور ہوکر قرض کی مقدار میں اضافہ پر رضامند ہو جاتا اور ہر مدت پر یوں اضافہ در اضافہ ہوتا چلاجاتا تھا،جسے قرآن کریم نے سود کی حرمت کے ضمن میں  ’’أضعافا مضاعفۃ‘‘ کہہ کر بطورِ خاص ممنوع قرار دیا اور اُسے ظلم کی بد ترین شکل قرار دیا۔ حافظ عماد الدین اسماعیل بن کثیرؒ (متوفی۷۷۴ھ)تحریر فرماتے ہیں: ’’یقول -تعالیٰ- ناھیاً عبادَہٗ المؤمنین عن تعاطی الربا وأکلِہ أضعافاً مضاعفۃً  کما کانوا فی الجاھلیۃ یقولون إذا حل اجل الدین : إما أن تقضی وإما أن تربی، فإن قضاہ وإلا زادہ فی المدۃ وزادہ الآخر فی القدر ، وھکذا کل عام، فربما تضاعف القلیل حتی یصیر کثیراً مضاعفۃ‘‘۔                                                          (تفسیر ابن کثیر:۵۳۴/۱،طبع: موسسۃ الریان) ترجمہ:’’اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو سود کے لین دین اور کھانے سے ’’أضعافا مضاعفۃ‘‘ کہہ کر منع فرماتے ہیں، جیسا کہ لوگ جاہلیت میں کرتے تھے کہ جب قرض کی ادائیگی کا وقت آتا تو کہتے کہ یا تو ادائیگی کرو یا سود دو۔ اگر ادائیگی کرتا تو ٹھیک، ورنہ وہ مدت میں اضافہ کرتا اور دوسرا مقدارِ رقم میں(اضافہ کرتا)، اس طرح ہر سال ہوتا، لہٰذا بسا اوقات چھوٹی رقم دگنی ہوجاتی، یہاں تک کہ وہ کئی گنا ہوجاتی۔ ۲…:جو لوگ عربی قواعدِ صرف ونحو(گرامر) سے واقف ہیں، اُنہیں مذکورہ اشکال نہ کبھی ہوا ہے اور نہ آئندہ ہوگا،کیونکہ عربی گرامر کی رُو سے لفظ ’’أضعافا مضاعفۃ‘‘  ترکیب میں حالِ مقدرہ ہے، جس کے وقوع کا تعلق مستقبل کے ساتھ ہوا کرتا ہے اور آیت مذکورہ میں بھی چونکہ یہی مقصود تھا کہ وقت مقرر کے بعد آئندہ جب بڑھا چڑھا کر سود لیا جائے گا تو ایک وقت ایسا آئے گا کہ وہ رقم اصل مقدار کے کئی گنا کو پہنچ جائے گی۔ ( بحوالہ سود کیا ہے؟ ص:۷۱، طبع: ادارۃ القرآن) یہ ایک لغوی قاعدہ ہے ، جو لوگ لغت عرب سے واقفیت رکھتے ہیں، اُنہیں مذکورہ آیت کا مقصد ومفہوم سمجھنے میں غلطی نہیں ہوسکتی اور جن جن متجدّدین کو یہ غلطی لگی ہے، وہ در حقیقت عربی لغت کے ضروری قواعد کے علم سے بے بہرہ تھے، ان کی لاعلمی کو اُن کا عذر سمجھنا چاہئے، نہ کہ قرآنی آیت کا غلط مفہوم باور کرایا جائے۔ ۳…: قرآن اور عربی اسلوبِ کلام سے واقفیت رکھنے والے حضرات سمجھتے اور جانتے ہیں کہ اصطلاحی اعتبار سے ’’أضعافا مضاعفۃ‘‘ کی قید احترازی نہیں، بلکہ محض اتفاقی ہے، یعنی ’’أضعافا مضاعفۃ‘‘ کی قید کا یہ مقصد نہیں کہ اضافہ کی جو صورت دو چند یا اس سے زائد مقدار سے خالی ہو وہ جائزہے، بلکہ یہ قید قرآن کریم کے ایک خاص اسلوبِ بیان اور اپنے مخصوص پسِ منظر کے تحت محض اتفاقی طور پر ذکر کی گئی ہے، جس کی تفصیلات کا یہاں موقع نہیں ہے،، یہاں صرف، اس کی ایسی چند مثالیں ذکر کی جاتی ہیں جوخود قرآن کریم میں موجود ہیں، مثلاً: (الف) ’’وَلَاتَشْتَرُوْا بَأٰیَاتِیْ ثَمَناً قَلِیْلاً‘‘۔(البقرۃ:۴۱) ترجمہ:’’اور مت لو بمقابلہ میرے احکام معاوضہ حقیر کو‘‘۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے ایک خاص عمل کی نفی کے لئے وارد ہوئی ہے، اس کا یہ مقصد کسی نے نہیں سمجھا کہ ثمن قلیل کے بدلے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا سودا جائز نہیں، ہاں! ثمن کثیر کے ساتھ ہو تو جائز ہے، کیونکہ ایسا استدلال کرنا سراسر جہالت پر مبنی کہلائے گا۔ (ب)’’اجْتَنِبُوْا کَثِیْراً مِّنَ الظَّنِّ‘‘۔ (الحجرات:۱۲) ترجمہ:’’بہت سے گمانوں سے بچو‘‘۔ اس سے قلتِ ظن کے جواز پر استدلال کرنا جس طرح غلط ہے، اسی طرح سے ’’أضعافا مضاعفۃ‘‘ سے کم سود کے جواز پر استدلال بھی ایک سنگین غلطی ہے۔ (ج)’’وَلَاتُکْرِھُوْا فَتَیَاتِکُمْ عَلٰی الْبِغَائِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّناً‘‘۔      (النور:۳۳) ترجمہ:’’اور زبردستی نہ کرو، اپنی باندیوں پر بدکاری کے واسطے اگر وہ پاک دامنی چاہیں‘‘۔  ’’أضعافا مضاعفۃ‘‘ سے سود کی حلت ثابت کرنے والی فکر یہاں یہ نہیں کہہ سکتی کہ جو دوشیزائیں پاک دامن رہنا نہیں چاہتیں، اُنہیں بدکاری پر مجبور کرنا جائز ہے۔ اگر کوئی ایسی نادانی کرے تو اُسے سو فی صد غلط کہا جائے گا، کیونکہ ان قیودات کے مفاہیم ومطالب کے صحیح تعین اور فہم کے لئے ایک تو ان سترہ علوم (بالخصوص عربی گرامر) سے راسخانہ تعلق ضروری ہے جو قرآن فہمی کے لئے ضروری ہیں۔ دوسرے یہ کہ قرآن کریم کے اسلوبِ بیان سے مکمل واقفیت اور ممارست ضروری ہے، ورنہ وہی سنگین غلطی سرزد ہوگی، جس کے ازالہ کے لئے اہل علم کو یہ کوششیں کرنی پڑرہی ہیں۔ فقط واللہ اعلم        الجواب صحیح                                       کتبہ     ابوبکر سعید الرحمن                                رفیق احمد بالاکوٹی                                         جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے