بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ربیع الثانی 1441ھ- 12 دسمبر 2019 ء

بینات

 
 

نقد ونظر

حکایتِ مہر ووفا

مفتی عبدالرؤف غزنوی صاحب مدظلہٗ۔ صفحات: ۲۵۴۔ قیمت: درج نہیں۔ ناشر: مکتبہ غزنوی، سلام کتب مارکیٹ، علامہ بنوری ٹاؤن کراچی۔ زیرِتبصرہ کتاب کے مؤلف حضرت مولانا عبدالرؤف غزنوی صاحب دامت برکاتہم العالیہ دارالعلوم دیوبند کے سابق استاذوخطیب، جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے استاذِ حدیث، سہ ماہی ’’البینات‘‘ عربی کے مدیراور ایک متبحر عالم ہیں۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے جہاں آپ کو بہت ساری ظاہری وباطنی نعمتوں اور خوبیوں سے نوازا ہے، وہاں عربی واردو میں تحریر کا بھی بطور خاص آپ کو ملکہ ودیعت فرمایا ہے۔ آپ کی تحریر کیا ہے؟! جی چاہتا ہے کہ آپ لکھتے رہیں اور قاری پڑھتا رہے۔ اس کتاب میں بھی یہی خوبی قاری کو جھلکتی ہوئی نظر آئے گی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کو بطورِ خاص دو سفروں کی سعادت بخشی: ایک سفر حجازِ مقدس کا اور دوسرا دارالعلوم دیوبند کا ۔زیرِتبصرہ کتاب ان دونوں اسفار کا وجد آفریں تذکرہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اس کتاب کا تعارف کراتے ہوئے آپ لکھتے ہیں: ’’ اس سفر نامے میں حرمین شریفین اور دیگر مقامات مقدسہ کی والہانہ حاضری کی پرکیف داستانِ محبت بھی ہے اور ازہر الہنددارالعلوم دیوبند کے نیازمندانہ سفر کی پر اثر حکایتِ وفا بھی۔ بلادِ عرب کے چند مایہ ناز اہل علم وتقویٰ کے حیرت انگیز تذکرے وبصیرت افروز واقعات بھی قلمبند کیے گئے ہیں اور دارالعلوم دیوبند، گنگوہ اور تھانہ بھون کی چند پرانی اور چند موجودہ عظیم شخصیات سے متعلق تأثراتی مضامین، ان کی گراں قدر نصیحتیں اور مفید معلومات بھی۔ عقیدت ومحبت کے جن جذبات کے تحت ایک سادہ انداز میں یہ ’’حکایتِ مہرووفا‘‘ جو لکھی گئی ہے، ان جذبات کی بنیاد پر یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ قاری کے لیے دلچسپ اور باعثِ اطمینان وسکون ثابت ہوگی۔ وماذٰلک علٰی اللّٰہ بعزیز۔‘‘ کتاب کا کاغذ، جلد بندی، اور طباعت بہت ہی اعلیٰ اور جاذب نظر ہے۔ امید ہے باذوق حضرات اس کتاب کی قدر افزائی فرمائیں گے۔ عمدۃ البیان فی تفسیر القرآن (المعروف ’’المدنی الکبیر‘‘[ جلد پنجم]) شیخ التفسیر حضرت مولانا ابوطاہر محمد اسحاق خان صاحب المدنی۔ صفحات: ۷۲۳۔ قیمت: درج نہیں۔ ناشر: المدنی پبلی کیشنز، اسلام آباد۔ شیخ التفسیر حضرت مولانا محمد اسحاق خان المدنی حفظہٗ اللہ ہمارے بزرگوں کے تربیت یافتہ اور معتمد ہیں، جنہوں نے دبئی جیسے ملک کے ماحول میں رہ کر قرآن کریم کا درس اور ترجمہ کا ماحول بنائے رکھا، اب تفسیری انداز میں اس کی طباعت کراکر اُمت کے سامنے پیش کی جاری ہے، جس کی یہ پانچویں جلد پارہ نمبر: ۱۱، اور پارہ نمبر :۱۲ پر مشتمل ہے۔ یہ تفسیر مولانا موصوف کی ۳۵؍ سالہ محنت شاقہ کا ثمرہ اور نچوڑ ہے۔ اس تفسیر کی خصوصیات درج ذیل ہیں: ۱:…آیات کا ترجمہ نہ تو بالکل پرانے انداز کا ہے اور نہ ہی بالکل آزاد ماڈرن انداز کاہے، بلکہ اپنے اندر دونوں کی خوبیوں کو لیے ہوئے ہے۔ ۲:…ترجمہ میں حتیٰ المقدور قرآن کریم کی بلاغت کو برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ۳:…ترجمہ وتفسیر میں بنیادی عقائد پر خصوصی توجہ رکھی گئی ہے، خصوصاً عقیدۂ توحید پر ۔ ۴:ترجمہ وتفسیر میں اہل زیغ وضلال کی طرف سے تحریفات وتلبیسات کی نشان دہی اور اُس کے ازالہ اور بیخ کنی پر توجہ دی گئی ہے۔ ۵:…اس تفسیر میں اکابر کی جہودِ مبارکہ اور مساعیِ جمیلہ سے خوب خوب استفادہ کیا گیا ہے۔ ۶:…شانِ نزول کے بیان میں اس چیز کا خاص خیال رکھا گیا کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ ارشادِ ربانی صرف اس ماحول اور معاشرہ سے متعلق تھا۔ ۷:…اس میں معنی خیز ترجمہ، عام فہم انداز، سلاست وروانی اور رواں دواں عبارات ہیں، جس میں تصنیف سے زیادہ خطابی انداز زیادہ جھلکتا ہے، جو عام قارئین کے لیے بے حد مفید ہے۔ ہمارے حضرت اقدس مولانا سعید احمد جلال پوری شہید قدس سرہٗ نے اس کی تفسیر کے حصہ اول پر درج ذیل تبصرہ لکھا تھا، جی چاہتا ہے اس کو یہاں نقل کردیا جائے، حضرت نے لکھا: ’’حضرت مولانا محمد اسحاق خان مدنی دامت برکاتہم کی علمی شخصیت اہل علم حلقے یں محتاجِ تعارف نہیں ہے۔ آپ ایک عرصے سے دبئی میں قیام پذیر ہیں، آپ کا حلقۂ درس قرآن بھی کافی شہرت رکھتا ہے۔ آپ نے ایک عرصے سے اپنے آپ کو درسِ تفسیر قرآن کے لیے وقف کر رکھاتھا، آپ اپنی مساعی میں کس قدر کامیاب ہوئے ہیں پیش نظر تفسیر ’’عمدۃ البیان کی جلد اول۔۔۔۔۔ جو سورۂ فاتحہ سے سورۂ نساء تک کی تفسیر پر مشتمل ہے ۔۔۔۔۔ کی شکل میں اس کا خوب صورت نتیجہ اور ثمرہ حاضر خدمت ہے۔ موصوف کا تفسیری انداز بلاشبہ اکابر دیوبند کی طرز پر تحقیقی ہے۔ کتاب کا ایک ایک حرف اور ایک ایک بحث قابل قدر اور لائق رشک ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو عوام وخواص کے لیے نفع بخش بنائے اور مولانا کی ترقی درجات اور نجاتِ آخرت کا ذریعہ بنائے۔ آمین! اس تفسیر کے بارے میں کچھ لکھنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے، کیونکہ مشک آنست کہ خود ببوید!۔‘‘   (ماہنامہ بینات، رمضان ۱۴۲۷ھ - اکتوبر ۲۰۰۶ئ) اللہ تبارک وتعالیٰ القاسم اکیڈمی کے کارپردازان کو جزائے خیر دے کہ انہوں نے اس قیمتی جوہر کو زیورِ طباعت سے آراستہ کرکے اُمتِ مسلمہ کے استفادہ کے لیے منصۂ شہود پر لائے۔ افادات وملفوظاتِ عزیزیہ حضرت اقدس شاہ عبد العزیز دعاجوؒ۔ انتخاب وتالیف: عتیق الرحمن۔ صفحات:۱۷۶۔ قیمت: درج نہیں۔ ناشر: القاسم اکیڈمی، جامعہ ابوہریرہؓ، خالق آباد ، نوشہرہ۔ حضرت اقدس شاہ عبد العزیز دعا جو قدس سرہٗ ایک روحانی اور صاحبِ نسبت بزرگ گزرے ہیں۔ زندگی بھر علم وعمل، روحانیت اور تبلیغ کا پھریرا بلند کرتے رہے ، ان کا تعلیمی اور تربیتی انداز نرالا تھا، جو آپ کی صحبت میں بیٹھنے والوں کو بخوبی محسوس ہوتا تھا۔ اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے ان کے متوسلین کو کہ انہوں نے حضرت کے فرمودات اور ارشادات کو اگلی نسل تک پہچانے کے لیے انہیں کتابی صورت میں یکجا کرکے شائع کیا۔ اللہ تبارک تعالیٰ انہیں اجر جزیل سے نوازے۔ یہ کتاب دعوت کا کام کرنے والوں کے لیے ایک بہترین راہنمائی کا ذریعہ ہے۔ ’’نوائے اُمت‘‘ کی اشاعت خاص مولانا محمد زاہد اقبال صاحب۔ صفحات: ۳۳۶۔ قیمت: درج نہیں۔ ناشر:تحریک نفاذ اسلام پاکستان ۔ملنے کا پتہ: اسلامی کتب خانہ بالمقابل جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’نوائے اُمت‘‘ کی اشاعت خاص حضرت مولانا مفتی حمید اللہ جان v کی سوانح، سیرت وکردار، اخلاق وعادات، انفرادی خصوصیات، فقاہت، جہاد وانقلاب، اصلاح وارشاد، تصنیف وتالیف، مقالات ومضامین، منظوم خراجِ تحسین جیسے عناوین پر مشتمل ہے۔  حضرت مولانا مفتی حمید اللہ جان قدس سرہٗ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے فاضل اور محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری نوراللہ مرقدہٗ کے تلمیذ اور قابلِ رشک شاگردِ رشید تھے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے گوناگوں صفات سے متصف فرمایاتھا، فقاہت میں بھی بے مثال کارنامے انجام دیئے۔ آپ کے خدام اور متعلقین نے حضرت کی یاد میں اس خصوصی اشاعت کا اہتمام کیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ان کی مساعیِ جمیلہ کو قبول فرمائے۔ البتہ کتاب کی پروف ریڈنگ میں کئی جگہ اغلاط نظر آئیں اور یہ ایسی اغلاط ہیں کہ ان سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا،مثلاً: ایک جگہ لکھا ہے: ’’حضرت ’’شیخ الہندؒ  ‘‘ دورہ حدیث کے لیے جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن تشریف لائے۔‘‘ ایک جگہ لکھا ہے: حضرت’’شیخ الہندؒ  ‘‘ کو اللہ پاک ان نسبتوں کی لاج رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔‘‘ اُمید ہے اگلے ایڈیشن میں اس کمی کو دور کیا جائے گا۔ اعجاز القرآن حضرت مولانا شبیر احد عثمانی قدس سرہٗ۔ صفحات: ۷۷۔ قیمت: چالیس روپے۔ ناشر: مکتبۃ البشریٰ ،چوہدری محمد علی چیریٹیبل ٹرسٹ (رجسٹرڈ) کراچی ۔ زیر تبصرہ رسالہ میں معجزہ، اس کی حقیقت، اس کے مدارج، وحی الٰہی کی ضرورت اور اس کے مراتب بیان کرنے کے بعد قرآن کریم کا معجزہ اور کلام ربانی اور وحی الٰہی ہونا نہایت پر عظمت تفصیل اور شافی دلائل سے ثابت کیاگیا ہے۔ حضرت نے ہر ہر بات عقلی دلائل سے سمجھائی ہے، بیان اور طرزو انداز اتنا عمدہ ہے کہ ہر ہر بات قاری کے دل ودماغ میں بآسانی اترتی جاتی ہے۔ موجودہ ماحول میں کہ جہاں ہر بات کو عقلی دلائل سے سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے، یہ رسالہ اس کے لیے شافی علاج ہے۔ جوہر عالم کی ضرورت ہے۔ تحفۃ الائمہ مولانا محمد حنیف عبد المجید۔ صفحات:۷۳۲۔ قیمت: درج نہیں۔ ناشر: مکتبہ بیت العلم، فدا منزل، نزد مقدس مسجد، اردو بازار، کراچی۔ اس کتاب کے مؤلف حضرت مولانا محمد حنیف عبد المجید جو جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے فاضل، وسابق استاذ، بزرگوں کے معتمد اور موفق من اللہ ہیں، اللہ تبارک وتعالیٰ نے معاشرہ کی اصلاح کے لیے آسان کتابیں شائع کرنے کے لیے آپ کو انفرادیت بخشی ہے۔ مثالی ماں، مثالی باپ، مثالی دولہا ،مثالی بیوی اس طرح کی اور بے شمار کتابیں ہیں۔ اب یہ زیر تبصرہ کتاب ’’تحفۃ الائمۃ‘‘ خاص کر کے مساجد کے ائمہ، خطباء اور علماء کے لیے ترتیب دی ہے، اس کتاب کوآٹھ ابواب پر تقسیم کیا ہے:بابِ اول:۔۔۔۔۔۔ ائمہ کرام کی صفات، بابِ دوم:۔۔۔۔۔۔ ائمہ کرام کے لیے نصیحتیں، بابِ سوم:۔۔۔۔۔۔ آداب وعظ ، بابِ چہارم:۔۔۔۔۔۔ ائمہ کرام کی مسجد کی ذمہ داریاں، بابِ پنجم:۔۔۔۔۔۔ مقتدیوں کی تعلیم وتربیت، بابِ ششم:۔۔۔۔۔۔ ائمہ کرام کی امامت کی ذمہ داریاں، بابِ ہفتم:۔۔۔۔۔۔ اتفاق کی اہمیت، بابِ ہشتم:۔۔۔۔۔۔ ائمہ کرام کی دعوت وتبلیغ کی ذمہ داریاں۔ غرض ہر مسجد کے امام کو جن خوبیوں اور صفات سے آراستہ ہونا ضروری ہے ان تمام امور کا ذکر بڑے دل نشین اور دل چسپ انداز سے کیاگیا ہے۔ کتاب کی ابتداء میں شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان قدس سرہٗ اور حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر دامت برکاتہم العالیہ کی تقاریظ کتاب کی ثقاہت کے لیے بین دلیل ہیں۔

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے