بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 ربیع الثانی 1441ھ- 06 دسمبر 2019 ء

بینات

 
 

من گھڑت اور غیر معتبر روایات بنیادی عوامل اور ان کے سدِّ باب کی راہیں

من گھڑت اور غیر معتبر روایات بنیادی عوامل اور ان کے سدِّ باب کی راہیں

    شریعتِ غَرَّاء میں اَحادیثِ رسول اللہ (l) کو مصدرِ ثانی کی اَساسی حیثیت حاصل ہے، جس میں نقب زنی سے حفاظت کا انتظام عہدِ رسالت کی ابتدا ہی سے کر دیا گیا تھا، اور یہ صیانت و حفاظت آپ a کے اس فرمان کا نتیجہ تھی: ’’مَنْ کَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّداً فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ‘‘۔1 ترجمہ:’’جس نے مجھ پر جھوٹ بولا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔‘‘     جاں نثار صحابہs آپ a کے اس ارشاد سے ہر دَم خوفزدہ رہتے تھے اور آپ a کا یہ دستور ہمہ وقت اُن کی نگاہوں کے سامنے رہتا تھا۔ صحابہs کی اسی کیفیت کوعلامہ جلال الدین سیوطیv نے اِن لفظوں میں بیان کیا ہے : ’’سید الکونین a کا یہ فرمان، محافل صحابہؓ میں اتنی شہرت اختیار کر گیا تھا کہ آج بھی کتبِ حدیث میں سو سے زائد ایسے صحابہ s کے نام محفوظ ہیں،جن سے یہ روایت مسنداً (سند کے ساتھ )منقول ہے۔‘‘2     اگراِن تمام طُرق اور روایات کو بنظر غائردیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ a کا یہ فرمان ہمہ گیری میں اپنی نظیر نہیں رکھتا، کیونکہ جہاں اِبتدائے نبوت کی خفیہ مجالس میں اس حدیث کی سرگوشیاں تھیں،وہاں اِکمالِ نبوت یعنی خطبۂ حجۃ الوداع کے عظیم اجتماع میںبھی اسی اعلان کی گونج تھی، جہاں عشرہ مبشّرہؓ اس روایت کو نقل کر رہے ہیں، وہاں صحابہ s کے عام وخاص بھی اس کو دُہرا رہے تھے، صحابہ s میں جس طرح یہ ارشاد زبان زَد عام تھا، صحابیات u کی مجالس بھی اس فرمان سے مزیّن تھیں۔     آپ a کے اسی ارشاد کا اثر تھا کہ جب ذخیرۂ اَحادیث میں من گھڑت اور ساقط الاعتبار روایات کے ذریعے رَخنہ اندازی کی مذموم کوششیں شروع ہو گئیں، تو محدثینِ کرام نے احادیث کے صحت و سُقَم کے مابین ــــ ’’اِسناد‘‘ کی ایسی خلیج قائم کر دی،جس کی مثال اُممِ سابقہ میں ملنا مُحال ہے، محدثینِ کرام نے احادیث کو خس وخاشاک سے صاف کرنے کے لیے یہی ’’میزانِ إسناد‘‘ قائم کی، جس کے نتیجے میں حدیث کے مبارک علوم وجود میں آتے رہے، ضعیف اور کذّاب راویوں پر مستقل تصانیف کی گئیں،انہی متقدمین علماء نے کتب العِلَل میں ساقط الاعتبار(غیر معتبر) احادیث کو واضح کیا، علماء متأخرین نے بھی باقاعدہ مُشتَہَرات (زبان زَد عام روایات پر مشتمل کتابیں) ساقط الاعتبار اور من گھڑت روایات پر کتابیں لکھیں، چنانچہ ہر زمانے میں احادیث کا ذخیرہ محفوظ شاہراہ پر گامزن رہا، غرضیکہ روئے زمین پر جہاں کہیں اسلام کا سورج طلوع ہوا ہے، وہ حدیث کے محافظین خودساتھ لایا ہے۔ پاک وہند میں ساقط الاعتبار اور من گھڑت روایات اور اُن کا سدّباب     اگر ہم اپنے خطّے برّصغیر پاک وہند کا جائزہ لیں،تو موضوعات کی روک تھام میں سرفہرست علامہ ابو الفضل الحسن بن محمد صغانی لاہوریv کا نام نظر آتا ہے، آپ ۵۷۷ھ لاہور (پاکستان) میں پیدا ہوئے، اور حدیث و لغت کی دیگر خدمات کے ساتھ، خود ساختہ روایات پر دو گراں قدر کتابیں لکھیں:     ۱:-الدُرَرُ المُلْتَقَط في تَبیینِ الغَلَط     ۲:-موضوعات الصَّغَانِي من گھڑت اور غیر معتبر روایات کے بنیادی عوامل     پاک وہند میں َمن گھڑت اور باطل روایات کا مطالعہ بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے،جن میں یہ نکتہ بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ برّصغیر پاک وہند میں وہ کونسے قدیم بنیادی طبقات ہیں، جو یہاں خود ساختہ روایات کی ترویج میں راہ ہموار کرتے رہے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں سب سے قدیم تحریر علامہ صغانیv ہی کی ملتی ہے، جس سے ہمیںبڑی حد تک اس مسئلے کے جواب میں رہنمائی ملتی ہے، چنانچہ علامہ صغانیv ’’الدُّرَرُ المُلْتقَط‘‘3 میں اپنی تصنیف کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’وقد کثرت في زماننا الأحادیث الموضوعۃ، یرویھا القصاص علی رؤوس المنابر و المجالس، ویذکر الفقراء والفقھاء في الخوانق والمدارس، وتداولت في المحافل، واشتھرت في القبائل، لقلّۃ معرفۃ الناس بعلم السنن، وانحرافھم عن السُّننِ۔‘‘     اس عبارت میں امام صغانیv نے موضوعات اور غیر معتبر روایات کی اِشاعت میں مُلوَّث چند عوامل کا ذکر کیا ہے، ملاحظہ ہو:     ۱:۔۔۔۔۔ قصہ گو برسرِ منبر اور مجالس عامہّ میں، من گھڑت روایتیں بیان کرتے تھے، ایسے ہی جاہل صوفیاء اور جاہل فقہاء کی مجالس بھی ان باطل مرویّات سے پُر تھیں۔     ۲:۔۔۔۔۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ یہ خود ساختہ عبارتیں ملّت اسلامیہ کے ہر طبقے اور قبیلے میں رواج پاتی رہیں، اور یہی کلام، مجالس کی زینت بنتا رہا،بالآخر موضوعات کی یہ گرم بازاری پورے معاشرے میں سرایت کر گئی۔     ۳:۔۔۔۔۔ اس شرعی اِنحطاط کا باعث صرف معرفتِ حدیث سے دوری تھی۔ وضّاعین کی اقسام اور ان کے مذموم مقاصد     علامہ صغانیv کا گزشتہ اِقتباس ہماری قدیم خستہ حالی کی جیتی جاگتی تصویر ہے، جس میں مذکور طبقات ہمارے سابقہ سوال کا اجمالی جواب ہیں، مزید وضاحت کے لیے ہم علامہ عبد الحی لکھنوی v کے اس مقدمے 4کو بہت ہی معاون پاتے ہیں، جس میں انہوں نے حدیث گھڑنے والوں کی اغراض و مقاصد بتاتے ہوئے انہیں کئی اقسام پر تقسیم کیا،اِن اقسام سے ہم بخوبی یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ برصغیر پاک وہند میں وہ کونسے حلقے، اَفراد اور گروہ ہیں، جن کے ہاں موضوع روایات کا ایک بڑا ذخیرہ جنم لیتا رہا ہے، بالفاظِ دیگر یہ روایات انہیں کے راستے سے مشہور ہوئیں۔ ۱-زَنادِقہ     زَنادِقَہ، ان کا مقصد اُمت میں رطب و یابس پھیلا کر شریعت کو مسخ کرنا ہے، علامہ عبدا لحی لکھنویv نے اس عنوان کے تحت پاک وہند کے ’’فرقۂ نیچریہ‘‘ اور اُن کے گمراہ کُن عقائد کا ذکر کیا ہے، آپ نے یہ وضاحت بھی کی ہے کہ یہ فرقہ نصوصِ شرعیہ میں تحریف (تبدیلی) لفظی ومعنوی کا مرتکب رہا ہے۔ ۲-مؤیِّدینِ مذاہب     دوسری قسم اُن افراد کی ہے، جنہوں نے اپنے مذہب اور موقف کی تائید میں روایتیں گھڑیں، اِس عنوان کے تحت علامہ عبد الحی لکھنویv نے حدیث میں خوارج کے طریقۂ واردات کو بیان کیا ہے، تاریخ شاہد ہے کہ بعض خوارج نے خود اس بات کا اقرار کیا ہے کہ ہم نے اپنے موقف اور رائے کو ثابت کرنے کے لیے بہت سی احادیث گھڑی ہیں۔     یہاں برّصغیر پاک وہند میں موجود اہل سوء اور بدعتیوں کا ذکر بھی برمحل ہے، جنہوں نے اس خطّے میں بہت سی مُحدَثَات(دین میں نئی باتیں ایجاد کرنا) اور بدعات کو سندِ جواز فراہم کی، اور اپنی اِختراعات کے ثبوت میں، من گھڑت اورساقط الاعتبار روایتوں کا سہارا لیا۔ ۳-اصلاح پسند اَفراد     تیسرا طبقہ اُن افراد کا ہے، جنہوں نے لوگوں کی اصلاح کے خیال سے ترغیب وترہیب کی احادیث گھڑیں۔ اس میں علامہ عبدالحی لکھنویv نے ایک دلچسپ مثال بیان کی ہے، آپ فرماتے ہیں کہ پاک وہند کے بعض اصلاح پسند لوگوں نے تمباکو نوشی سے زَجرووَعِید پر مشتمل احادیث وضع کی ہیں، پھر موصوف نے اس مضمون پر مشتمل وضّاعین کی آٹھ ایسی روایتیں لکھیں، جو سب کی سب جعلی ہیں۔ ۴-طبقۂ جہلاء     چوتھی قسم اُن لوگوں کی ہے جو رسول اللہ a کی جانب ہر اَمرِ خیر، اقوالِ زَرِیں وغیرہ کا انتساب جائز سمجھتے ہیں،حالانکہ معتبر سند کے بغیر اس طرح انتساب کرنا ہرگز جائز نہیں۔  ۵-اہل غلو     ایک قسم اُن لوگوں کی ہے جو عقیدت ومحبت میں اِفراط وغُلُوّ کا شکار ہوجاتے ہیںاور اہل بیتؓ، خلفائے راشدینؓ،ائمہ کرامؒ اور رسالتِ مآب a کے حوالے سے باطل وبے اصل مضامین مشہور کردیتے ہیں۔ ۶-واعظین       چھٹا طبقہ ان قصہ گَو واعظین کا ہے جو جعلی غرائبِ زمانہ سُنا کر عوام سے دادِ تحسین وُصول کرتے ہیں۔ خلاصہ کلام     خلاصہ کلام یہ رہا کہ یہی طبقات اور اَفراد، خطۂ ہند وپاک میں حدیث کی جعل سازی کا بیڑا اٹھائے رہے ہیں، بلکہ اس تفصیل کے بعد ہم بصیرت سے یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ہمارے گرد و پیش ایسی بہت سی ہم معنی باطل احادیث پھیلی ہوئی ہیں، جو بلا تردّد انہیں خاص طبقات کی مذموم کوششوں کانتیجہ ہے۔ پاک وہند میں تکاسلِ حدیث اور اس کے اسباب     اگرچہ برصغیر پاک و ہند میں زبان زَد عام روایات کی تنقیح بجا طور پر ہوتی رہی ہے،لیکن پھر بھی یہ سوال جواب کا مستحق ہے کہ پاک وہند میں، افرادِ اُمت عام طورپراحادیث میں صرف سطحی ذہن رکھنے والے ہیں، اور اکثر احادیث کی چھان بین کو خاطر میں نہیں لایا جاتا، آخر حدیث کے عنوان سے مزاجوں میں حسّاسیت اتنی مَدھَم کیوں رہی ہے؟      تلاشِ بسیار کے بعد پاک و ہند کی قابل فخر شخصیت علامہ عبدالعزیز پرہاڑویv (متوفیٰ: ۱۲۳۹ھ) کی عبارت میں اس مُعَمّہ کا حل مل گیا۔ علامہ عبد العزیز پرہاڑویvنے ’’کوثر النَّبِیّ وزُلَالُ حَوْضِہٖ الرَّوِيّ‘‘5 میں ایک مقام پر بعض ایسی کتبِ تفسیر،کتب ِزہد،کتب ِ اَورَاد وغیرہ کا تذکرہ کیا، جن میں مقدوح اور غیر مُعتبر احادیث بھی ہیں، پھر اِن کتابوں میں موجود ساقط الاعتبار احادیث کے اسباب ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’ والسّبب أنّہ قلّ اشتغالھم بصناعۃ الحدیث،وأنّھم اعتمد وا علی المشہورفي الألسنۃ من تحسین الظّنّ بالمسلم وأنّھم انخدعوا بالکتب الغیر المنقّحۃ الحاویۃ للرّطب والیابس،وأنّہ لم یبلغھم وعیدُ التّھاون في روایۃ الحدیث، وأیضاً منھم من یعتمد علی کلّ ما أسند من غیر قدحٍ وتعدیلٍ في الرّواۃ۔‘‘ ’’(اِن کتب میںرطب ویابس احادیث کی) وجہ یہ ہے کہ ان کتابوں کے مصنّفین فنِ حدیث سے کم اِشتغال رکھتے ہیں، اور مسلمان سے حسن ظن رکھتے ہوئے زبان زد عام روایتوں پر بھروسہ کر لیتے ہیں (حالانکہ ایسا اعتماد صرف ماہرِ فن پر ہی کیا جا سکتا ہے، نہ کہ حدیث میں کم اشتغال رکھنے والے پر) اور یہ مصنّفین رطب ویابس پر مشتمل، غیر منقّح کتابوں سے دھوکے میں پڑ جاتے ہیں اور (ان کے بارے میں یہی حسنِ ظن ہے کہ) ان مصنفین کو حدیث نقل کرنے میں تہاون (حقیر سمجھنا) کی وعید نہیں پہنچی ہوگی، اور بعض مصنّفین سند کے راویوں کی جرح وقدح دیکھے بغیر، ہر سند والی روایت پر اعتماد کر لیتے ہیں۔‘‘ اسبابِ تکاسل کا جائزہ     دراصل علامہ عبدالعزیز پرہاڑویv نے جن کتبِ حدیث و تفسیر وغیرہ کا تذکرہ کیا ہے، یہ کتب برصغیر میں مُتَدَاوَل اور مُرَوّج ہیں اور ان کتابوں کے مؤلفین کی جلالت اور عُلُوِّ شان بلا شبہ مُسَلَّم ہے، لیکن اس حقیقت کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اِن مؤلفین کا فنِ حدیث میں اشتغال ناقص رہا ہے، چنانچہ صاحبِ کتاب کی یہ کمزوری عوام میں بھی سرایت کرتی رہی اور احادیثِ موضوعہ معاشرے میں پھیلتی رہیں، بہرحال ذَیل میں ہم مولانا عبد العزیز پرہاڑویv کے بیان کردہ نِکات اور ان سے ماخوذ نتائج کا جائزہ لیتے ہیں: فنِ حدیث میں اشتغال کی کمی     ان مصنّفین کی تالیفات میں رَطب و یابس روایات کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان مؤلفین نے علومِ حدیث سے ایسا اشتغال نہیں رکھا، جس سے ان میں اُصولِ حدیث کے مطابق، حدیث کے ردّو قبول کا مَلَکَہ اور اُسے پرکھنے کی قابلیت پیدا ہو جاتی، حتیٰ کہ ہمارے زمانے میں بھی مُعتَد بہ تالیفات اس بات کی مقتضی ہیں کہ ان کے مؤلفین احادیث کے معاملے میں محض تحویل (حوالہ دینا) پر اکتفاء نہ کریں، بلکہ حسبِ ضرورت اس بات کا پورا اطمینان حاصل کریں کہ یہ حدیث‘ معتبر سند سے ثابت ہے۔ محض حسنِ ظن کی بناپر روایات پر اعتماد     ان کتابوں میں باطل اور بے اصل روایتوں کے شیوع کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اِن مصنّفین کے نُفُوسِ قدسیہ ہر مسلم کے بارے میں حسنِ ظن رکھتے تھے،اور زبان زَد عام روایتوں کو حسنِ ظن کی بنا پر بلاتحقیق قبول کر لیتے تھے۔      واضح رہے کہ اس مقام پر مولانا عبد الحی لکھنویv نے لکھا ہے: حدیث میں اعتماد کا مدار صرف ماہرینِ فن ہیں،چنانچہ اگر کوئی شخص صناعتِ حدیث میں مہارت نہیں رکھتا ہو، توایسے شخص پر بلاتحقیق حسنِ ظن سے اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔‘‘6 تہاونِ حدیث پر وعید سے نا آشنائی     ان کتب میں قابلِ رَدّ مواد کی تیسری وجہ یہ ہے کہ یہ حضرات تہاونِ حدیث( یعنی روایتِ حدیث میں پوری احتیاط سے کام نہ لینا) کی وعیدوں سے واقف نہیں ہوں گے، بلاشبہ ان حضرات کی عُلوِّ شان اسی حسنِ ظن کی مقتضی ہے، البتہ اس تہاون سے اجتناب کی اہمیت اپنی جگہ ہے،خاص طور پر عوامی حلقوں میں اس کی ضرورت بڑھ جاتی ہے کہ ملّتِ اسلامیہ کا ہر فرد یہ محسوس کر رہا ہو کہ میں رسالتِ مآبa کی طرف ایسی بات ہرگز منسوب نہ کروں جو آپ a سے ثابت نہ ہو، تاکہ’’ مَنْ کَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّداً۔۔۔۔الخ ‘‘ کا مصداق بننے سے بچ جاؤں، ورنہ یہی تہاون نہ صرف غیر مستند روایات کو پھیلانے میں کام آتا ہے، بلکہ اِن روایتوں کو تحفّظ بھی فراہم کرتا ہے۔ تحقیق کا فقدان     ان تالیفات میں جو احادیث مُسنَد (سند والی روایات) تھیں، ان میں اس بات کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی کہ فن جرح و تعدیل کی روشنی میں اس کا جائزہ لیا جائے، تاکہ قابلِ احتراز روایتیں ظاہر ہوجاتیں۔ ایک اہم فائدہ     اگر ہم بھی اپنے گردوپیش کا جائزہ لیں،تو ہم دیکھتے ہیں کہ علم الروایۃ(علمِ حدیث) میں ہمارا منتہیٰ صرف سندِ حدیث پانا ہے، اس کے بعد ہم کسی چیز کی ضرورت محسوس نہیں کرتے، حالانکہ صاحبِ کتاب سند بیان کر کے ایک حد تک اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جاتا ہے، اب اگلا مرحلہ ہم سے متعلق ہے کہ ہم حسبِ ضرورت، متقدمین اصحاب ِتخریج اور ائمۂ علل کی جانب رجوع کریں اور روایات کے قابل تحمل (روایت لینے کے قابل) ہونے کا پورا اطمینان حاصل کریں۔  حاصل کلام     سابقہ اسبابِ تکاسل خطۂ پاک وہند میں موضوعات کی اشاعت اور ان کی ترویج میں انتہائی مؤثر رہے ہیں، بلکہ اگر ان اسباب کے سدِّ باب کے لیے اکابرین کے طرز پر عملی اِقدامات جاری رکھے جائیںتو کافی حد تک اس ساقط الاعتبار ذخیرے کی روک تھام ہو سکتی ہے۔ من گھڑت اور ساقط الاعتبار روایات کے سدِّ باب میں علماء پاک وہند کی خدمات       سابقہ اقتباسات سے ہمیں من گھڑت روایات کی اِشاعت میں ملوّث بہت سے گروہوں اور طبقات کا بخوبی علم ہوجاتا ہے، اس کے علاوہ ان کی اغراض، اَفکار، اورطریقۂ کار بھی وضاحت سے سامنے آگیا، لیکن واضح رہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہوا کہ عمائدینِ اُمت نے اس فتنے کے سدّ باب کے لیے اپنی خدمات پیش نہ کی ہوں،بلکہ تاریخ شاہد ہے کہ برّ صغیر پاک وہند پر ایسے شب وروز بھی آئے ہیں،جن میں صیانتِ حدیث کا تاج، علماء برّصغیرکے سر رہا ہے، چنانچہ علامہ زاہد الکوثریv فرماتے ہیں: ’’دسویں صدی ہجری کے نصف آخر میں جب کہ علمِ حدیث کی سر گر میاں ماند پڑ گئی تھیں، برّصغیر میں یہ سرگرمیاں عروج پر تھیں۔‘‘ 7     گویا کہ یوں کہنا چاہیے کہ اس وقت عالمِ اسلام کی سر براہی کی سعادت برِ صغیر کو حاصل رہی ہے۔ بہرحال یہاں ہم پاک وہند کے اُن چند مشہور مشایخ کا مختصر تذکرہ کریں گے، جنہوں نے زبان زَد عوام و خواص روایات کی حقیقت واضح کی، اور ذخیرۂ احادیث میں تنقیح کی خدمات انجام دیں:     ۱-امام رضی الدین ابوالفضائل الحسن بن محمدv (المتوفی: ۵۷۷ھ)     آپ کی تالیف ’’الدُّرَرُ الْمُلْتَقَط‘‘ اور ’’رسالۃ موضوعات الصَّغَانی‘‘ کا شمار فن ہذا کے اوّلین مصادر میں ہوتا ہے۔ مشتہرات پر مشتمل شاید ہی کوئی کتاب موصوف کے اقوال سے خالی ہو۔     ۲-ملک المحدّثین علامہ محمد طاہر صدیقی پٹنیv (المتوفی: ۹۸۶ھ)     آپ نے اس فن میں ’’تذکِرۃُ الموضوعات‘‘ اور ’’ قانون الموضوعات‘‘ لکھیں، بلاشبہ مشتہرات کا یہ مجموعہ ایک انسا ئیکلو پیڈیا کی حیثیت رکھتا ہے۔     ۳- امام علامہ سید محمد بن محمد حسینی زَبِیدی الشہیر بمرتضیv (المتوفی: ۱۲۰۵ھ)      آپ نے ’’إتحاف السَّادَۃ المُتقِین‘‘ میں ’’إحیاء علوم الدین للغزاليؒ‘‘ کی احادیث پر تخریج و تشریح میں محدثانہ شان کا مظاہرہ کیا ہے، اہل علم طبقہ بالخصوص پاک و ہند میں اس سے مستغنی نہیں رہ سکتا۔     ۴- امام عبدالعزیز بن أحمد فرہارویv (المتوفی: ۱۲۳۹ ھ)     آپؒ نے تقریباً ۲؍ ہزار موضوع اور زبان زَد عام روایتوں پر مشتمل مجموعہ تیار کیا ہے،فی الحال یہ مخطوط ہے۔ آپ کے بارے میں مولانا موسیٰ خان روحانی بازیv فرماتے ہیں کہ:’’ اگر میں اس بات پر قسم کھاؤں کہ اللہ تعالیٰ نے سرزمینِ پنجاب کو جب سے وجود بخشا ہے،ان جیسی کسی دوسرے شخصیت نے یہاں جنم نہیں لیا تو میں حانث نہیں ہوں گا۔‘‘8     ۵-علامہ ابو الحسنات محمد عبدالحی لکھنویv(المتوفی: ۱۳۰۴ ھ)     آپ کی شخصیت اور حدیثی خدمات‘ محتاجِ تعریف نہیں ہیں، اس فن میں آپ نے ’’الآثار المرفوعۃ في الأخبار الموضوعۃ‘‘ کے نام سے یادگار چھوڑی ہے۔     ۶-حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویv (المتوفی: ۱۳۶۲ھ)     آپ امراضِ امت کی پہچان اور اس کے علاج میں وَہْبی بصیرت رکھتے تھے،آپ نے پاک و ہند میں مُتَدَاوَل من گھڑت اور بے اصل روایتوں کا سدّباب عملاً بھی کیا اور عوام کو بھی اس سے اجتناب کی طرف توجہ دلائی، چنانچہ بہشتی زیورحصہ دہم میں یہ عنوان قائم کیا ہے: ’’بعضی کتابوں کے نام جن کے دیکھنے سے نقصان ہوتا ہے‘‘اس عنوان کے تحت ایک اقتباس ملاحظہ ہو : ’’دعا گنج العرش،عہد نامہ، یہ دونوں کتابیں اور بہت سی ایسی ہی کتابیں ایسی ہیں کہ ان کی دعائیں تو اچھی ہیں،مگران میں جو سندیں لکھی ہیںا ور ان میں حضرت رسول اللہa کے نام سے لمبے چوڑے ثواب لکھے ہیں،وہ بالکل گھڑی ہوئی باتیں ہیں۔‘‘9     اسی طرح حضرت تھانویv اس بات سے بھی بخوبی واقف تھے کہ سلوک و تصوّف کی مجالس میں ایک معتد بہ تعداد بے اصل روایتوں کی ہیں، چنانچہ آپ نے ’’التَشَرُّفُ بِمَعْرِفَۃِ أَحَادِیْثِ التَّصَوُّفِ‘‘ میں ایسی بہت سی روایات پر روایتی اور درایتی پہلؤوں سے بحث کی ہے،جو درجۂ اعتبار سے ساقط ہیں۔ ایک اہم التماس     یہ مختصر اور محدود مقالہ اس کی مزید گنجائش رکھنے سے قاصر ہے کہ ہم اکابرینِ پاک وہند کی متعلقہ موضوع میں تاریخی خدمات سے تفصیلی بحث کریں، البتہ اگر کوئی فرد علامہ عبد الحی الحَسَنیv کی تصنیف ’’نزہۃ الخواطر وبہجۃ المسامع والنّواظر‘‘ کو سامنے رکھ کر ان محدثینِ کرام کی خدمات کو جمع کرے، جنہوں نے باطل اور من گھڑت روایتوں کا تعاقب کیا ہے، تو یہ کام نہ صرف ہمارے اسلاف کے منہج کی جانب رہنمائی کرے گا، بلکہ ملک بھر میں پھیلے ہوئے اُن مخطوطات کی جانب بھی رہنمائی کرے گا جو آج دِیمک اور گرد وغبار سے تحلیل ہوتے جارہے ہیں،بلاشبہ نت نئی تحقیقات، شروحات،تسہیلات وغیرہ ناگزیر تالیفات ہیں،لیکن کہیں ایسا نہ ہو کہ آج جن مخطوطات کو ہم محفوظ کر سکتے ہیں، کل ان کا نام ’’حَسَراتِ زمانہ‘‘ کی فہرست میں شامل کر دیا جائے ۔ حوالہ جات اور مآخذ 1۔۔۔۔الجامع الصحیح للبخاری: باب إثم من کذب علی النبیa، ج:۱،ص:۳۳، رقم الحدیث:۱۰۷، دار طوق النجاۃ ـ بیروت،الطبعۃ الأولیٰ،۱۴۲۲ھ 2۔۔۔۔اللآلی المصنوعۃ، ص:۳۵،ت: محمد عبد المنعم رابح،دار الکتب العلمیۃ ـ بیروت، الطبعۃ الثانیۃ، ۱۴۲۸ھ 3۔۔۔۔الدُرَرُ الملتقظ: بحوالہ مجلّہ ’’فکر ونظر‘‘، ص:۷۶، خصوصی اشاعت، ربیع الأول ـ شعبان، ۱۴۲۶ھ،اسلام آباد، پاکستان 4۔۔۔۔الآثار المرفوعۃ، ص: ۱۲، دارالکتب العلمیۃ بیروت 5۔۔۔۔کوثر النَّبِیّ وزُلَالُ حَوْضِہ الرَّوِی (فن معرفۃ الموضوعات)،ص:۱۰۸، المخطوط،نَسَخَہ العلامۃ عبد اﷲ الوَلْہَارِی(۱۲۸۳ھ) 6۔۔۔۔الآثار المرفوعۃ، ص: ۱۹، دارالکتب العلمیۃ بیروت 7۔۔۔۔مقالات الکوثری،ص:۶۷، دار السلام ـ مصر، الطبعۃ الثانیۃ، ۱۴۲۸ھ 8۔۔۔۔بغیۃ الکامل السامی فی شرح المحصول والحاصل للجامی،ص:۲۲۷، مکتبۃ مدینۃ بلاہور باکستان، الطبعۃالخامسۃ ۱۴۱۴ھ 9۔۔۔۔بہشتی زیور، ص:۷۰۴، حصہ دہم، دار الإشاعت،ایم ـ اے ـ جناح روڈ، ارد و بازار کراچی

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے