بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ربیع الثانی 1441ھ- 10 دسمبر 2019 ء

بینات

 
 

مختصر درود شریف میں’’ تعالیٰ‘‘اور ’’ آلہٖ‘‘وغیرہ کااضافہ بھی درست ہے

مختصر درود شریف میں’’ تعالیٰ‘‘اور ’’ آلہٖ‘‘وغیرہ   کااضافہ بھی درست ہے

ماہنامہ ’’بینات‘‘ کے شمارہ بابت ماہ ربیع الاول ۱۴۳۴ھ میں جناب ابوطلحہ صاحب کا مضمون پڑھنے کا موقع ملا، اس مضمون کے جو اہم فوائد راقم کی نظر میں آئے، وہ درج ذیل ہیں اور پھر اُن پر مختصر تبصرہ کیا جائے گا۔ فائدہ:۱… صرف ’’صلی اﷲ علیہ وسلم‘‘ مسنون ہے۔ فائدہ:۲…ان میں’’ آلہٖ‘‘ ’’ تعالیٰ ‘‘اور’’علیٰ آلہٖ‘‘ کا اضافہ خلافِ سنت اور اسلاف کے عمل کے خلاف ہے۔ فائدہ:۳…ان میں کمی بیشی کسی طور پر درست نہیں، نہ کسی کو حق ہے۔ فائدہ:۴…سیرت، مغازی ،حدیث اورتفسیر کی تمام کتب میں ’’صلی اﷲ علیہ وسلم‘‘ مکتوب ہے۔ فائدہ:۵… ’’آلہٖ‘‘ کا اضافہ شیعوں سے مستفادمعلوم ہوتا ہے۔ فائدہ:۶… ’’صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلم‘‘ میں ’’آلہٖ‘‘ کاکلمہ خلافِ قواعد ِ نحویہ ہے۔ سب سے پہلے تو ہمیں یہ تنقیح کر لینی چاہئے کہ صحاح ستہ ودیگر کتب میں جو دعائیہ کلمات جیسے ’’رضی اﷲ عنہ‘‘، ’’صلی اﷲ علیہ وسلم‘‘ موجود ہیں، ان کی نسبت مؤلفین کی طرف کرنی درست ہے یا نہیں؟ ہماری نظر اس نکتہ پر پہنچی ہے کہ ۹۹ فیصد حصہ، ناسخین، کاتبین اور ناقلین کا تصرف ہوتا ہے۔ مصنف، مؤلف اور محقق کی طرف ان دعائیہ کلمات کی نسبت درست نہیں، وگرنہ معاملہ مشکل پڑ جاتا ہے، مثال کے طور پر اصول الشاشی میں ’’قال أبو حنیفۃ رضی اﷲ عنہ‘‘ مرقوم ہے، جب کہ یہ صحابیؓ کے ساتھ خاص ہے اور اگر یہاں یہ تاویل کردی جائے کہ یہ جملہ انشائیہ دعائیہ ہے، جب کہ صحابہؓ کے ساتھ یہ جملہ خبریہ بن کر آتا ہے تو پھر یہ سوال ہوگا کہ ہمارے اکابر کی کتب میں حضرات حسنینؓ کے ساتھ’’ علیہ السلام‘‘ بھی لکھا مل جاتا ہے، جب کہ اس کو محققین ممنوع قرار دیتے ہیں، مثلاً سید نفیس شاہ ؒ نے الامام الحسینؓ، مناقب الحسنین ؓنامی کتب چھپوائی ہیں، ان میں ’’علیہ السلام‘‘ بکثرت واقع ہے، حالانکہ محققین اُسے ناجائز کہتے ہیں۔ (نبراس،ص:۷) ملاقاریؒ نے اہل بدعت کا شعار قرار دیا ہے۔ (شرح فقہ اکبر،ص:۱۶۷) خلاصہ یہ کہ کتب میں جو دعائیہ کلمات منقول ہوتے ہیں، ان میں ناسخین، کاتبین اور اہل طباعت کا خاصا دخل وتصرف ہوتا ہے۔ ہمارے اس دعویٰ کی بیّن دلیل آپ حضرت تھانویؒ کی مناجات مقبول کے آخر میں منقول دعا سے بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ اس کتاب کے راقم نے کوئی مختلف چھ (۶) ایڈیشن دیکھے ہیں: اشرفیہ ملتان، ادارہ اسلامیات، گابا سنز، فریدیہ اسلام آباد، وغیرہ سب ہی مطابع نے اس دعا میں تصرف کیا ہے۔ اب اگر یہ بات محقق ہوچکی کہ کتب میں موجود دعائیہ کلمات کی نسبت ان کے مؤلفین کی طرف کرنا درست نہیں تو پھر یہ کہنا ہرگز روانہ ہوگا کہ تمام اسلاف کی کتب میں صرف ’’صلی اﷲ علیہ وسلم‘‘ کا منقول ہونا صرف اسی کی صحت پر دلیل ہے اور اگر ان کتب میں موجود دعائیہ کلمات کی نسبت اسلاف مؤلفین کی طرف درست ہے تو پھر معترض کو یہ حق پہنچتاہے کہ وہ صحابہؓ کے ماسوا بزرگوں کے لئے بھی عموماً ’’رضی اﷲ عنہ‘‘ اور آل بیتؓ کے لئے ’’علیہ السلام‘‘ کا لفظ بھی استعمال کرے، جب کہ یہ غلط ہے۔ایسے ہی’’ صلی اﷲ علیہ وسلم‘‘، ’’صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم‘‘،’’صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وبارک وسلم‘‘ اور اس قسم کے دیگر مختلف کلمات بھی استعمال کرے کہ مختلف کتب اسلاف میں یہ تمام کلمات استعمال ہوتے ہیں۔اور اس صورت میں یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ ان کلمات میں کمی بیشی کا حق کسی کو نہیں ہے، ایسے اُسے اسلاف کے عمل کے خلاف قرار دینا درست نہیں، کیونکہ اسلاف کی کتب میں یہ تمام کلمات مختلف طریقوں سے منقول ہیں: مثلاً: امام ربانی حضرت مجدد الف ثانیؒ اپنی مایہ ناز تحریروں میں ’’صلی اﷲ علیہ وسلم‘‘ (مکتوبات ۲؍۲۲۶،۲۲۷) اور’’ صلی اﷲ تعالیٰ علی سیدنا محمد وآلہٖ وصحبہٖ وبارک وسلم‘‘ (مکتوبات ۲؍۳۵۲) اور’’ علیہ وعلی آلہٖ وأصحابہٖ البررۃ‘‘ (مکتوبات ۲؍۲۰۶) لکھتے نظر آتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ تنوعِ الفاظ صرف جواز ہی کا پہلو لئے ہوئے ہے اور اس کا مقصد صرف درود ابراہیمی کی تلخیص ہے ۔ان گزارشات سے اوپر مرقوم فوائد نمبر:۲، نمبر:۳، نمبر:۴ کا محل نظر ہونا معلوم ہوگیا۔ رہا فائدہ نمبر:۱ تو یہ خود محتاج دلیل ہے، مسنون سے مراد سنت نبوی تو ہرگز نہیں ہوسکتی کہ رسول اللہ ا سے یہ منقول نہیں کہ آپ نے ’’صلی اﷲ علیہ وسلم‘‘ کا تلفظ فرمایا ہو تو لامحالہ سنتِ سلف مراد ہوگا تو اس صورت میں کیا ان اسلاف کا عمل زیادہ قابل اخذ وعمل نہیں، جنہوں نے ’’صلی اﷲعلیہ وآلہٖ وسلم‘‘ تحریر کیا ہے؟ خصوصاً جب کہ یہ درود ابراہیمی میں ملفوظ’’ وعلی آل محمد‘‘ کی نمائندگی بھی کررہا ہے، جب کہ محض ’’صلی اﷲ علیہ وسلم‘‘ بظاہر اس سے قاصر ہے۔ اسی طرح اس مختصر درود میں ’’أصحابہٖ‘‘ کا اضافہ بھی بنصِ قرآنی ’’وصل علیہم‘‘ درست ہے اور’’  تعالیٰ ‘‘کا اضافہ بھی کہ امام ربانی کے کلام سے ظاہر ہے۔ فائدہ نمبر:۵ میں قدرے تنگ نظری کا مظاہرہ کیا گیا ہے اور صرف اس لئے کہ کہیں انجانے میں شیعوں کی موافقت نہ ہوجائے۔ حالانکہ ’’صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم‘‘ کا قائل سنی اس کا تلفظ شیعہ نکتہ نظر سے نہیں، بلکہ درود ابراہیمی کی تلخیص کی خاطر کرتا ہے۔ یہ شبہ نہ کیا جائے کہ درودِ ابراہیمی میں تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل کا بھی ذکر ہے، جب کہ مختصر درود پاک میں اس کا ذکر نہیں؟ اس لئے کہ عموماً دو اجزاء والے کلمات جیسے موصوف صفت، مضاف مضاف الیہ، مشبہ مشبہ بہ میں اصل الاصول مقصود پہلا جزء ہوا کرتا ہے۔ غیر مسلم ہوں یا اہل بدعت، اُن کے اُن شعائر کو اپنانے کی مذمت ہے جو ان کا خاصہ ہوں، اگر شرع اسلام پر عمل کرتے ہوئے ان سے کوئی موافقت ہوجائے تو وہ ممنوع نہیں۔ کلامیات کے محقق عالم مولانا عبد العزیز پرہاڑویؒ اپنی ایک نظم میں فرماتے ہیں:  لیس التشبہ بالروافض باطلا  فی کل قول سیما سنن الہدی  کالأ کل بالیمنی وحب المرتضیؓ  وقرأۃ القرآن یا أہل الندی  بل فی شعارہم الذی قد بدعوا  من غیر أن یقفوا الرسول الأمجدا (نزہۃ الخواطر:۷؍۲۷۷)  مولانا موصوف ہی شرح عقائد کی مایہ ناز شرح ’’نبراس‘‘ میں فرماتے ہیں:  ’’ذکر الآل فی التصلیۃ علی النبی ا سنۃ مأثورۃ، وقد ثبت فی کثیر من الأحادیث الصحیحۃ ’’أن الصحابۃؓ قالوا: یا رسول اﷲ! کیف نصلی علیک؟ فقال: قولوا: اللّٰہم صل علی محمد وعلی آل محمد إلی آخر الحدیث‘‘ أما اکتفاء أہل الحدیث بقولہم ’’صلی اﷲ علیہ وسلم‘‘ فلاختصارٍ أو بإرادۃِ أنہم مع النبی ا کنفس واحدۃٍ فالصلاۃ علیہ صلاۃٌ علیہم‘‘۔                                            (شرح نبراس،ص:۷)  مولانا کی اس عبارت سے درج ذیل فوائد حاصل ہوئے: ۱…درود شریف میں آلؓ کا ذکر سنت نبوی ہے۔ ۲…محدثین اختصار کے پیش نظر یا پھر نفسِ واحدۃ کی تاویل کرکے آلؓ کا لفظ ترک کرتے ہیں۔ ان گزارشات سے جناب ابو طلحہ صاحب کے مضمون میں بیان کردہ پہلے پانچ (۵) فوائد کی حقیقت سامنے آگئی۔  رہا یہ شبہ کہ ’’وآلہٖ‘‘ کا جملہ نحوی قواعد کے خلاف ہے، تو اس بارے میں عرض یہ ہے کہ کوفہ کے نحوی حضرات تمام اور بصرہ کے بعض مشائخ کے ہاں ’’عطف علی الضمیر الخافض من غیر إعادۃ الجار‘‘ مطلقاً جائز ہے۔ ہاں! بصرہ کے اکثر مشائخ اس کو صرف اضطرار کے وقت درست قرار دیتے ہیں، عام حالات میں وہ اُسے درست نہیں سمجھتے، تو جمہور نحو یین کے نزدیک جب یہ درست ہے تو پھر کیسے یہ کہنا درست ہے کہ ’’صلی اللّٰہ علیہ وسلم‘‘ نحوی قاعدہ کے خلاف ہے؟  درسیات کی مشہور کتاب شرح ملاجامیؒ کے فاضل مصنف فرماتے ہیں: ’’وأجاز الکوفیون ترکَ الإعادۃ فی حال السعۃ‘‘۔ (شرح جامی، ص:۱۹۹)  علامہ ابن ہشامؒ جنہیں سیبویہ سے بھی بڑا نحوی کہا گیا ہے ’’شرح شذور الذہب‘‘ میں اس قاعدہ کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’ولایجب ذلک خلافاً لأکثر البصریین‘‘ یعنی ’’اعادۂ جار کا قاعدہ وجوبی نہیں، بخلاف بصرہ کے اکثر اہل علم کے‘‘۔ قرآن پاک کی متواتر قراء ۃ سے بھی یہی مستفاد ہوتا ہے کہ یہ اعادۂ جار واجب نہیں۔ ہاں! یہ ضرور تسلیم ہے کہ ترکِ اعادہ جار کے ساتھ کلام عرب بہت کم ہے، لیکن یہ عدم صحت پر دال نہیں۔  ’’معجم القواعد العربیۃ‘‘ کے مصنف ڈاکٹر عبد الغنی الدقر تحریر کرتے ہیں: ’’ویقل العطف علی الضمیر المخفوض إلا بإعادۃ الخافض… وہناک قراء ۃ حمزۃ والنخعی وقتادۃ والأعمش ’’  تَسَائَ لُوْنَ بِہٖ وَالأرْحَامَ ‘‘ بالخفض من غیر إعادۃ الجار‘‘۔                                (معجم القواعد العربیہ، ص:۳۳۱) مشہور نحوی علامہ ابن مالکؒ (جن کی الفیہ ابن مالک ہے) فرماتے ہیں کہ: حرف جر کا اعادہ ضمیر مجرور پر عطف کرتے ہوئے میرے ہاںلازم نہیں۔  علامہ سیوطیؒ فرماتے ہیں کہ یہ مسلک علماء کوفہ اور یونس نحویؒ، امام زجاجؒ اور اخفشؒ کا بھی ہے۔موصوف نے ’’وَاتَّقُوْا اﷲَ الَّذِیْ تَسَائَ لُوْنَ بِہٖ وَالأَرْحَامِ‘‘ سے دلیل لیتے ہوئے فرمایا کہ: قاری حمزہؒ کی یہ قراء ت حضرت ابن عباسؓ، مجاہدؒ، حسن بصریؒ، قتادہؒ، نخعیؒ اور اعمشؒ کی بھی ہے ۔ علامہ ابن عقیلؒ نے امام سیبویہؒ سے ایک شعر نقل کیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا مسلک بھی علماء کوفہ جیساہے۔ (شرح ابن عقیل ،ص:۱۳۶)  ٭٭٭

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے