بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الثانی 1441ھ- 08 دسمبر 2019 ء

بینات

 
 

قسطوں پر کاروبار اور اس سے متعلقہ احکام

 

قسطوں پر کاروباراور اُس سے متعلقہ احکام!

    کیا فرماتے ہیں علماء کرام اور مفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ:      ہمارے معاشرے میں بعض چیزیں دکاندار اگر نقد دیتے ہیں تو کم ریٹ لگاتے ہیں اور اگر قسطوں پر دیتے ہیں تو زیادہ ریٹ لگاتے ہیں، مثلاً رکشہ نقد بیچتے ہیں تو (1,80,000) ایک لاکھ اسّی ہزار روپے ریٹ لگاتے ہیں اور جب یہی رکشہ قسطوں پر بیچتے ہیں تو (2,40,000) دو لاکھ چالیس ہزار روپے ریٹ وصول کرتے ہیں۔ ماہانہ آٹھ سے دس ہزار روپے قسط ہوتی ہے اور کسی مجبوری کی وجہ سے وہ خریدنے والا قسط ادا نہ کرسکے تو دکاندار مطلوبہ رقم سے زیادہ وصولی نہیں کرتا ، بلکہ رکشے کے کاغذات ضبط کرلیتا ہے اور قسط ادا کرنے کی صورت میں کاغذات واپس کردیتا ہے۔ کیا یہ صورت شریعت کی روسے جائز ہے یا ناجائز ہے؟ کیا یہ سود تو نہیں ہے؟     وضاحت: دوسری قسط میں تاخیر ہوجانے پر گاڑی ضبط کرلیتے ہیں، پھر اگر وہ دوماہ قسطیں نہ دے سکا تو گاڑی بھی ضبط اورجو قسطیں اس نے بھری ہیں وہ بھی ضبط ہوجاتی ہیں۔مستفتی:عتیق الرحمن، کراچی الجواب باسمہٖ تعالٰی صورتِ مسؤلہ میں قسطوں پر خرید وفروخت کی پہلی صورت جس میں مقررہ قسط کی متعینہ وقت پر ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں اضافی رقم وصول نہیں کی جاتی، صرف کاغذات ضبط کرلیے جاتے ہیں، جو کہ قسط کی ادائیگی پر واپس بھی کردیئے جاتے ہیں، یہ معاملہ جائز ہے، بشرطیکہ نقد واُدھار کی دونوں قیمتیں خرید وفروخت کی مجلس میں ذکر ہوکر ادھار پر معاملہ کرنا طے ہوچکا ہو۔     جبکہ مؤخر الذکر صورت جس میں قسط ادا نہ کرسکنے کی نوبت آنے پر گاڑی اور ادا شدہ رقم ضبط کرلی جاتی ہے،یہ شرعاً ناجائز ہے۔ اگر کوئی شخص مجبوری کی بنا پر قسطیں ادا نہ کرسکے تو ادائیگی میں مہلت دے دینا کارِ ثواب ہے۔ اگر کسی مجبور شخص کو مہلت دینا کسی وجہ سے مفید نہ ہو تو بیع کالعدم قرار دی جائے اور اداشدہ رقم واپس کردی جائے۔ اگر خریدار شخص محض ٹال مٹول سے کام لے رہا ہو تو ایسے شخص پر دباؤ ڈالنے کے لیے اس پر فروخت شدہ گاڑی یا اس کی کوئی اور قیمتی چیز اپنی قیمت کی وصولی کے لیے محض قبضہ میں لی جاسکتی ہے، مگر اس چیز کو مالک(خریدار) شخص کی مرضی یا عدالت کی مداخلت کے بغیر بیچنا جائز نہیں ہوگا۔ اگر جائز طریقہ سے بیچنے کی نوبت آجائے تو ایسی صورت میں خریدار کے ذمہ واجب الاداء رقم وصول کرکے بلاکم وکاست بقیہ رقم خریدار کے حوالہ کرنا شرعاً لازم ہوگا۔ المبسوط للسرخسی میں ہے: ’’وإذا عقد العقد علی أنہ إلی أجل بکذا وبالنقد بکذا أو (قال)  إلی شہر بکذا وإلی شہرین بکذا فہو فاسد لأنہ لم یعاملہ علی ثمن معلوم ولنہی النبی a یوجب شرطین فی بیع وہذا ہو تفسیر الشرطین فی البیع ومطلق النہی یوجب الفساد فی العقد الشرعیۃ وہذا إذا افترقا علی ہذا ۔۔۔۔۔۔  فإن کان یتراضیان بینہما ولم یتفرقا حتی قاطعہٗ علی ثمن معلوم وأتما العقدَ فہو جائز لأنہما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحۃ العقد الخ۔‘‘  (المبسوط للسرخسی،ج:۸،ص:۱۳) بدائع الصنائع میں ہے: ’’وکذا إذا قال: بعتک ہذا العبد بألف درہم إلی سنۃ أو بألف وخمسمأۃ إلی سنتین لأن الثمن مجہول ۔۔۔۔۔۔ فإذا علم ورضی بہ جاز البیع لأن المانع من الجواز ہو الجہالۃ عند العقد وقد زالت فی المجلس ولہٗ حکم حالۃ العقد، فصار کأنہ کان معلوما عند العقد وإن لم یعلم بہٖ حتی إذا افترقا تقرر الفساد۔‘‘     (بدائع الصنائع ،ج:۵،ص:۱۵۸) فتاویٰ شامی میں ہے: ’’ وفی شرح الآثار التعزیر بأخذ المال کان فی ابتداء الإسلام ثم نسخ۔ والحاصل أن المذہب عدم التعزیر بأخذ المال‘‘۔          (فتاویٰ شامی، ج:۳، ص:۶۱-۶۲،ط:سعید) ’’ والقاضی یحبس الحر المدیون لیبیع مالہ لدینہ وقضی دراہم دینہ من دراہمہ یعنی بلاأمرہ ، وکذا لوکان دنانیر وباع دنانیرہ بدراہم دینہ وبالعکس استحسانًا لاتحادہما فی الثمنیۃ لایبیع القاضی عرضہ ولاعقارہ للدین خلافًا لہما وبہ أی بقولہما ببیعہما للدین یفتی اختیار۔ وصححہ فی تصحیح القدوری ویبیع کل مالایحتاجہ فی الحال‘‘۔  قال العلامۃ الشامی رحمہ اللّٰہ: ’’أقول: رأیت فی الحظر والإباحۃ من المجتبٰی رامزًا مانصہٗ وجد دنانیر مدیونہ ولہ علیہ درہم لہ أن یأخذ لاتحادہما جنسًا فی الثمنیۃ ۔۔۔۔۔ تنبیہ:قال الحموی فی شرح الکنز نقلاً عن العلامۃ المقدسی عن جدہٖ الأشقر عن شرح القدوری للأخصب: إن عدم جواز الأخذ من خلاف الجنس کان فی زمانہم لمطاوعتہم فی الحقوق والفتوی الیوم علٰی جواز الأخذ عند القدرۃ من أی مال کان لاسیما فی دیارنا لمداومتہم العقوق ‘‘۔                   (فتاویٰ شامی، ج:۶، ص:۱۵۰-۱۵۱،ط:سعید) قرآن کریم میں ہے: ’’وَإِنْ کَانَ ذُوْ عُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ إِلٰی مَیْسَرَۃٍ الخ ‘‘۔ (البقرۃ:۲۸۰)۔۔۔۔۔۔ ترجمہ:’’اور اگر تنگ دست ہو تو مہلت دینے کا حکم ہے آسودگی تک۔‘‘            (بیان القرآن از حضرت تھانویv)        الجواب صحیح           الجواب صحیح                        کتبہ       محمد انعام الحق        محمد شفیق عارف                     عبد الحمید                                      دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے