بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الثانی 1441ھ- 08 دسمبر 2019 ء

بینات

 
 

قربانی کرنے والے کے مقام کا اعتبار ہوگا یا جانور کے مقام کا؟

 

قربانی کرنے والے کے مقام کا اعتبار ہوگا  یا جانور کے مقام کا؟

    کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ:     اگر کوئی برطانیہ میں مقیم ہو اوروہ پاکستان میں کسی کواپنا وکیل بنا دے کہ آپ میری طرف سے قربانی کریں، چونکہ عموماً برطانیہ والے پاکستان سے دو دن پہلے عید کرتے ہیں یعنی جس دن پاکستان میں عید ہوتی ہے وہ ان کا تیسرا دن ہوتا ہے اور جب پاکستان میں عید کا دوسرا دن ہوتا ہے تو ان کے ایامِ عید ختم ہو چکے ہوتے ہیں تو کیا یہ وکیل ان کی طرف سے دوسرے دن میں قربانی کر سکتا ہے یا نہیں؟ یعنی قربانی میںقربانی کرنے والے کے مقام کا اعتبار ہوتا ہے یا جانور کے مقام کا؟     جبکہ فتاویٰ رحیمیہ میں ہے کہ جانور کے مقام کا اعتبار ہوگا اور دارالافتاء دارالعلوم کراچی سے فتویٰ دیاگیاہے کہ قربانی کرنے والے کے مقام کا اعتبار ہوگا، جس کی فوٹو کاپی ساتھ منسلک کی جاتی ہے، برائے کرم اپنی رائے سے مطلع فرمائیں۔                       مستفتی:ارشاد الرحمن،اٹک الجواب ومنہ الصدق والصواب     بطور تمہید چند امور کا ابتداء میں ذکر کرنا ضروری ہے، تاکہ اصل مسئلہ سمجھنے میں آسانی ہو۔     واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ کے اندر قربانی کا تعلق چونکہ مخصوص ایام و مخصوص زمانہ کے ساتھ رکھا گیا ہے، اس لیے فقہاء کرام نے قربانی کے وجوب کے لیے بنیادی اعتبار سے دو شرطیں ضروری قرار دی ہیں:     ۱-ایک یہ کہ نفسِ وجوب پایا جائے، یعنی ایامِ نحر کے مخصوص ایام شروع ہوجائیں، جو ذو الحجہ کی دسویں تاریخ کے دن صبح صادق طلوع ہونے کے بعد سے لے کر بارھویں ذو الحجہ کے سورج غروب ہونے سے پہلے تک ہے، یعنی مذکورہ ایام کا دخول قربانی کے نفسِ وجوب کے لیے بنیادی شرط ہے، ان تین ایام میں جس دن بھی چاہے قربانی کرنا جائز ہے، ان دنوں کے علاوہ میں قربانی کرنا جائز نہیں، جیساکہ ’’بدائع الصنائع‘‘ میں ہے: ’’وأیام النحر ثلاثۃ: یوم الأضحی وہو الیوم العاشر من ذی الحجۃ، والحادی عشر، والثانی عشر بعد طلوع الفجر من الیوم الأول إلٰی غروب الشمس من الیوم الثانی عشر‘‘۔ (کتاب التضحیۃ، ج:۴،ص:۱۹۸،ط: داراحیاء التراث العربی۔ کذا فی الہندیۃ، الأضحیۃ، الباب الثالث: فی وقت الأضحیۃ، ج:۵،ص:۲۹۵،ط:رشیدیہ)     اس طرح ان ایام کے گزرنے کے بعد بھی قربانی کرنا جائز نہیں ہوگا، جیساکہ ’’فتح القدیر‘‘ میں ہے: ’’ ولو ذہب الوقت تسقط الأضحیۃ۔‘‘ (فتح القدیر،الأضحیۃ، ج:۸،ص:۴۲۵،ط:رشیدیہ)     ۲- دوسری یہ کہ شرطِ وجوب بھی ہو اور وہ ’’غنی‘‘ (مالداری) ہے، یعنی اس شخص پر قربانی لازم ہو جاتی ہے جو مقدارِ نصاب یا اس سے زائد کا مالک ہو، یا اس کی ملکیت میں ضرورت سے زائد اتنا سامان ہو جس کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زائد ہو یا ساڑھے سات تولہ سونا یا اس کی قیمت کے برابر ضرورت سے زائد دیگر اشیاء اس کی ملکیت میں ہوں، جیساکہ ’’الدر مع الرد‘‘ میں ہے: ’’وشرائطہا أی شرائط وجوبہا: الإسلام والإقامۃ، والیسار الذی یتعلق بہٖ وجوب صدقۃ الفطر‘‘ وفی الشامیۃ:( قولہ: والیسار) بأن ملک مائتی درہم أو عرضًا یساویہا غیر مسکنہ وثیاب اللبس أو متاع یحتاجہٗ إلٰی أن یذبح الأضحیۃ ولولہٗ عقار یستغلہٗ، فقیل: تلزم لو قیمتہٗ نصاباً وصاحب الثیاب الأربعۃ لو ساوٰی الرابع نصابًا غنی وثلاثۃ فلا۔۔۔الخ۔‘‘                         (الأضحیۃ، ج:۶،ص:۳۱۲،ط:سعید)     غرضیکہ یہ دو چیزیں قربانی کے وجوب کے لیے بنیادی شرطیں ہیں، لہٰذا پہلی شرط کے مطابق وقت کے داخل ہونے کے بعد ہی قربانی کرنا جائز ہوگا، نہ وقت سے پہلے جائز ہے اور نہ ہی وقت کے ختم ہونے کے بعد جائز ہے، جیساکہ ’’شرح العنایۃ علٰی ہامش فتح القدیر‘‘ میں ہے: ’’فلایجوز فی لیلۃ النحر ألبتۃ لوقوعہا قبل وقتہا لا فی لیلۃ التشریق المحض لخروجہٖ‘‘۔                                                     (الأضحیۃ، ج:۸، ص:۴۳۲، ط:رشیدیہ)     نیز قربانی کرنے والا جس ملک میں موجود ہے اس ملک کے ایام النحر کا اعتبار ہوگا، اگر کوئی پاکستانی مثلاً برطانیہ میں رہ رہا ہے اور وہاں ایام النحر شروع ہوجائیں تو اس پر لازم ہے کہ برطانیہ کے ایامِ نحر کے اعتبار سے قربانی کرے، کیونکہ وہاں نفسِ وجوب کا سبب پایا جاچکا ہے۔     پھر یہ کہ قربانی کرنے والے حضرات یا تو شہری ہوتے ہیں یا دیہاتی، شہری باشندوں کا حکم الگ ہے اور دیہات میں رہنے والوں کا حکم الگ ہے۔     شہری باشندوں کے لیے نمازِ عید سے قبل قربانی کا جانور ذبح کرنا جائز نہیں، جبکہ دیہات میں رہنے والوں کے لیے طلوعِ صبح صادق کے ساتھ ہی قربانی کا جانور ذبح کرنا درست ہے، اس لیے کہ ان پر عید کی نماز واجب نہیں، جیساکہ ’’ہندیہ‘‘ میں ہے: ’’والوقت المستحب للتضحیۃ فی حق أہل السواد بعد طلوع الشمس وفی حق أہل المصر بعد الخطبۃ،  کذا فی الظہیریۃ۔‘‘ (الأضحیۃ، الباب الثالث فی وقت الأضحیۃ، ج:۵، ص:۲۹۵، ط:رشیدیہ)     ’’فتح القدیر‘‘ میں ہے: ’’ووقت الأضحیۃ یدخل بطلوع الفجر من یوم النحر إلا أنہٗ لایجوز لأہل الأمصار الذبح حتی یصلی الإمام العید۔‘‘          (الأضحیۃ،ج: ۸،ص:۴۳۰،ط:رشیدیہ)     مذکورہ سطور سے معلوم ہوا کہ نفسِ وجوب کا تعلق مکلف یعنی قربانی کرنے والے کے ذمہ کے ساتھ ہے، لہٰذا نفسِ وجوب میں قربانی کرنے والے کے محل (مکان) کا اعتبار ہوگا۔ نیز مذکورہ بالا تفصیل کا تعلق اس مسئلہ کے ساتھ ہے کہ اگر کوئی شخص بذاتِ خود اپنے مکان ومحل میں قربانی کرے، لیکن اگر کوئی شخص از خود اپنے محل میں قربانی نہیں کرتا، بلکہ کسی دوسرے ملک میں رہنے والے کسی دوسرے شخص کو اپنی قربانی کا وکیل بنادے تو اس مسئلہ سے متعلق حکم کے لیے آئندہ سطور میں تفصیل ملاحظہ فرمائیں:     چونکہ نفسِ وجوب کا سبب یوم النحر ہے، جیساکہ اوپر کی تفصیل سے معلوم ہوا، لہٰذا اگر کوئی شخص اپنی قربانی کے لیے کسی دوسرے ملک میں رہنے والے کسی شخص کو وکیل بنادے تو ایسی صورت میں یہ دیکھا جائے گا کہ قربانی کا وکیل بننے والا اور کروانے والا (مؤکل) دونوں کے ہاں یوم النحر ہوچکا ہے یا نہیں؟ اگر یوم نحر ہوچکا ہے تو نفس وجوب ہوگیا، اب دیگر شرائط کے پائے جانے کی صورت میں قربانی کرنے والا خود قربانی کرے یا کسی کو وکیل بناکر کروائے، دونوں صورتوں میں قربانی شرعاًادا ہوجائے گی، لیکن قربانی والا جہاں رہ رہا ہے اگر وہاں یوم نحر نہیں ہوا ہے جوکہ نفس وجوب کا سبب ہے تو جس طرح اس وقت وہ خود اپنی قربانی نہیں کرسکتا، اسی طرح اس کی طرف سے کوئی اور بھی نہیں کرسکتا، اگرچہ دوسرے شخص یعنی وکیل کے شہر یا ملک میں یوم النحر شروع ہو چکا ہو۔ اسی وجہ سے فقہاء کرام فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص قربانی کے لیے رقم کسی دوسرے ملک میں بھیج دے اور کسی کو قربانی کرنے کے لیے کہہ دے تو اس طرح رقم بھیج کر قربانی کرنا اگرچہ درست ہے اور شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں ہے، لیکن اتنی بات ضروری ہے کہ قربانی دونوں ملکوں کے مشترکہ دن میں کی جائے ورنہ قربانی درست نہیں ہوگی، مثلاً: برطانیہ میں پاکستان کے حساب سے دو دن پہلے اگر قربانی کے ایام شروع ہوتے ہیں اور پاکستان میں دو دن بعد تو برطانیہ میں رہنے والے آدمی کی قربانی پاکستان میں صرف پہلے دن میں صحیح ہوگی، دوسرے اور تیسرے دن میں نہیں، کیونکہ پاکستان کا پہلا دن برطانیہ کے حساب سے قربانی کا تیسرا دن ہے، جبکہ دوسرا اور تیسرا دن برطانیہ کے حساب سے قربانی کا دن نہیں۔     نیز یہ بھی واضح رہے کہ برطانیہ کا وقت پاکستان کے وقت سے پانچ گھنٹے پیچھے ہے، مثلاً: جب پاکستان میں صبح ساڑھے چھ بج رہے ہوتے ہیں تو برطانیہ میں رات کا ڈیڑھ بج رہا ہوتا ہے، لہٰذا اگر کوئی آدمی برطانیہ میں رہ رہا ہو اور وہ پاکستان میں کسی کو اپنی قربانی کا جانور ذبح کرنے کا وکیل بنادے تو پاکستان میں اس کی قربانی اس وقت تک شرعاً معتبر نہ ہوگی جب تک برطانیہ میں یوم نحر کی صبح طلوع نہ ہو، کیونکہ یومِ نحر کی ابتداء دس ذو الحجہ کی طلوع صبح صادق سے ہوتی ہے۔     لہٰذا برطانیہ اور پاکستان کے ایام النحر میں جو دن دونوں ملکوں میں مشترک ہو صرف اس دن میں قربانی کرنا صحیح ہوگا، اس کے علاوہ دنوں میں قربانی کرنا جائز نہیں ہوگا۔ باقی فقہاء کی جن عبارات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مکان اضحیہ کا اعتبار ہے تو اس کا تعلق ’’ادائ‘‘ سے ہے یعنی جانور جس جگہ پر ہے ذبح کے احکامات میں وہاں کا اعتبار ہوگا، نفس وجوب میں وہاں کا اعتبار نہیں ہوگا، بلکہ نفس وجوب میں مکلف یعنی قربانی کرنے والے کے محل کا اعتبار ہوگا۔     اگر جانور دیہات میں ہے تو اس صورت میں دیہات میں قربانی کے جانور کو صبح صادق کے طلوع ہونے کے بعد ذبح کرنا جائز ہوگا، اگرچہ خود قربانی کروانے والا شہر میں ہو، جیساکہ ’’فتاویٰ ہندیہ‘‘ میں ہے: ’’ولو أخرج الأضحیۃ من المصر فذبح قبل صلٰوۃ العید قالوا: إن خرج من المصر مقدار ما یباح للمسافر قصر الصلوٰۃ فی ذلک المکان جاز الذبح قبل صلوٰۃ العید وإلا لا‘‘۔    (الأضحیۃ، الباب الرابع: فیما بالمکان والزمان،ج: ۵،ص:۲۹۶،ط:رشیدیہ)     ’’بدائع الصنائع‘‘ میں ہے: ’’روی عن أبی یوسفؒ: یعتبر المکان الذی یکون فیہ الذبح، ولایعتبر المکان الذی فیہ المذبوح عنہ وإنما کان کذٰلک لأن الذبح ہو القربۃ فیعتبر مکان فعلہا لإمکان المفعول عنہ۔‘‘ (کتاب: التضحیۃ، فصل: وأما شرائط إقامۃ الواجب، ج:۵، ص:۷۴،ط:سعید)     اس کے برعکس اگر جانور شہر میں ہے اور قربانی کرنے والا دیہات میں ہو تو اس صورت میں جب تک شہر میں کسی ایک جگہ پر بھی عید کی نماز نہیں ہوگی، جانور کو ذبح کرنا جائز نہیں ہوگا، جیساکہ ’’ہندیہ‘‘ میں ہے: ’’ولو کان الرجل بالسواد وأہلہ بالمصر لم تجز التضحیۃ عنہ إلا بعد صلٰوۃ الإمام‘‘۔          (الأضحیۃ، الباب الرابع: فیما یتعلق بالمکان والزمان،ج: ۵،ص:۲۹۶،ط:رشیدیہ)     غرضیکہ ’’مکان الأضحیۃ‘‘ سے مطلق مراد لینا کہ قربانی کا جانور جہاں پر ہے وہاں اگر ایام نحر شروع ہیں تو قربانی کرنا جائز ہے، چاہے قربانی کرنے والا کسی ایسے ملک میں کیوں نہ ہو جہاں ایام نحر اَبھی شروع ہی نہیں ہوئے ہیں، ہرگز درست نہیں، کیونکہ جہاں ایامِ نحر شروع ہی نہیں ہیں وہاں اس شخص پر وجوب کا سبب ہی متحقق نہیں ہوا اور وجوب ذمہ سے ساقط نہیں ہوتا جب تک کہ نفسِ وجوب کا تحقق نہ ہو۔      اس پوری تفصیل کا لب لباب اور خلاصہ یہ ہوا کہ قربانی کروانے والے (مؤکل) اور کرنے والے (وکیل) کے مکان میں اگر اختلاف اور فرق ہوتو دونوں جگہوں میں دیگر شرائط کے ساتھ ایام نحر کا پایا جانا ضروری ہے۔      باقی جہاں ’’فتاوی رحیمیہ‘‘ میں ایک سوال کے جواب سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مفتی صاحبv نے مطلق مکان اضحیہ کو معتبر قرار دیا ہے خواہ قربانی کروانے والے شخص (مؤکل) پر نفسِ وجوب (ایامِ نحر کا پایا جانا) متحقق ہوا ہو یا نہیں۔ تو گزشتہ تفصیل اور فقہاء کرام کی صریح عبارات کے مطابق یہ رائے درست نہیں ہے، کیونکہ جواب میںپیش کردہ صاحبِ ہدایہ کی عبارت کا تعلق شہری اور دیہاتی سے متعلق ہے کہ شہری اگر دیہات میں اپنا جانور قربانی کی نیت سے بھیج دے تو ایسی صورت میں مؤکل کے شہر میں عید کی نماز پڑھی گئی ہو یا نہ پڑھی گئی ہو بہر دو صورت دیہات میں اس جانور کی قربانی شرعاً معتبر ہوگی اور اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ شہر میں رہنے والے شخص پرقربانی کا وجوب متحقق ہو چکا ہو اور وہ ایام نحر ہیں۔ قربانی کا وجوب متحقق ہونے سے قبل اگر جانور ذبح کردیا جائے تو لامحالہ ایسی قربانی شرعاً معتبر نہیں۔     لہٰذا حضرت مفتی صاحبv کا سائل کے جواب میں یہ فرمانا کہ مدراس میں عید الاضحی پیر کے دن ہو اور مدراس میں رہنے والا کوئی شخص حیدر آباد میں رہنے والے کسی شخص کو اپنی قربانی کے لیے وکیل بنادے، جبکہ حیدر آباد میں عید الاضحی مدراس سے ایک دن قبل یعنی بروز اتوار ہو تو مدراس والے کی طرف سے حیدرآباد میں بروز اتوار قربانی کی جاسکتی ہے۔ تو حضرت مفتی صاحبv کی یہ رائے فقہی عبارات کے مطابق درست نہیں ہے، کیونکہ قربانی کا جانور ذبح ہوتے وقت مدراس والے پر قربانی کا وجوب ہی متحقق نہیں ہوا جس کی تحقیقی تفصیل ماقبل میں گزری اور ادباً عرض ہے کہ مذکورہ تفصیل کی روشنی میں ہمیں حضرت مفتی صاحبv کی تحقیق یا رائے سے اتفاق نہیں ہے۔     باقی زیرِ بحث مسئلہ کے بارے میں استفتاء کے ہمراہ منسلک دارالعلوم کراچی کے فتویٰ کو بغور پڑھنے کے بعد واضح ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک بھی مطلق جانور کا محل معتبر نہیں، بلکہ مؤکل پر بھی نفسِ وجوب کا پایا جانا ضروری ہے، یعنی دونوں جگہوں پر ایامِ نحر کا پایا جانا ضروری ہے ، لہٰذا اس مسئلہ میں ان کی اور ہماری آراء میں کوئی اختلاف نہیں۔ فقط واللہ اعلم        الجواب صحیح                  الجواب صحیح         الجواب صحیح           کتبہ    محمد عبد المجید دین پوری          محمد انعام الحق       محمد شفیق عارف       طارق جمیل         الجواب صحیح                 الجواب صحیح                           متخصص فقہ اسلامی        محمد عبد القادر                  محمد داؤد                 جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے