بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ربیع الثانی 1441ھ- 15 دسمبر 2019 ء

بینات

 
 

قرآن کریم کی تلاوت کے آداب! (پہلی قسط)

قرآن کریم کی تلاوت کے آداب!               (۱)

قرآن کریم نور ہے، اس کے ذریعہ راہِ نجات تلاش کی جاتی ہے، اس میں شفاء ہے، اس سے روحانی وجسمانی امراض سے نجات ملتی ہے، اس کے عجائبات وغرائب کی کوئی انتہاء ہے، نہ اس کے فوائد کی کوئی حد۔ یہ وہ کتاب ہے جس نے اولین وآخرین، جن وانس کو ہدایت کی راہ دکھلائی، جن لوگوں نے اس سے اعراض کیا اور اس سے لُو لگائے بغیر راہ رو بنے وہ راہ یاب نہ ہوسکے، انہیں منزل نہ ملی، اور جنہوں نے اس کتاب پر اعتماد کیا وہی راہ یاب ہوئے، جنہوں نے اس کے مطابق عمل کیا وہ دین ودنیا کی سعادت سے بہرہ ور ہوئے۔ یہ خصوصیات اس لئے بھی ہیں کہ یہ کتاب محفوظ کتاب ہے، اس کی حفاظت کے مختلف اسباب ہیں، ایک سبب تلاوت کی کثرت بھی ہے۔ قرآن کریم عام کتابوںسے ممتاز ہے، اس لئے اس کی تلاوت کے بھی کچھ ظاہری وباطنی آداب ہیں، جن کی رعایت لازم ہے، ذیل میں وہ آداب ذکر کئے جاتے ہیں۔ تلاوت کے ظاہری آداب پہلا ادب: پاکیزگی تلاوت کرتے وقت آدمی باوضو ہو، ادب واحترام کے ساتھ تلاوت کرے، خواہ کھڑے ہوکر یا بیٹھ کر، اگر بلاوضو لیٹ کر تلاوت کی جائے تب بھی ثواب ملے گا، قرآن کریم میں ارشاد ہے: ’’اَلَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اﷲَ قِیَاماً وَّقُعُوْداً وَّعَلٰی جُنُوْبِہِمْ وَیَتَفَکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ‘‘۔                                                          (آل عمران:۱۹۱) ترجمہ:…’’جو لوگ کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (ہرحال میں) اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمان وزمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں‘‘۔ البتہ افضل یہ ہے کہ بیٹھ کر، قبلہ رخ ہوکر باوضوہونے کی حالت میں تلاوت کی جائے، چار زانو ہوکر بیٹھنے اور تکیہ لگانے سے اجتناب کرے۔ دوسرا ادب: پڑھنے کی مقدار مقدار قرأت کے سلسلے میں لوگوںکی عادتیں جدا جدا ہیں، مقدار کے سلسلے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد گرامی سے بھی راہ نمائی ملتی ہے: ’’لایفقہ من قرأ القرآن فی أقل من ثلاث‘‘۔                  (سنن ابی داؤد) ترجمہ:…’’جس شخص نے تین دن سے کم میں قرآن ختم کیا اس نے سمجھا نہیں ‘‘۔ وجہ یہ ہے کہ اس سے کم مدت میں ختم کرنے سے تلاوت کا حق ادا نہیں ہوتا۔ ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے فرمایا کہ سات دن میں ختم قرآن کیا کرو۔ (بخاری ومسلم)  اس سے معلوم ہوا کہ معتدل درجہ یہ ہے کہ ہفتہ میں ایک ختم ہو، اس سے زیادہ یہ ہے کہ ہفتہ میں دو ختم کئے جائیں، اس طرح تقریباً تین دن میں ایک ختم ہوگا۔ اگر تلاوت کرنے والا عالم ہو اور قرآن کریم کے معانی ومضامین میں غور وفکر کرنا اس کا مشغلہ ہو تو اس کے لئے ایک مہینے میں ایک ختم قرآن بھی کافی ہے۔ تیسرا ادب: قرآنی سورتوں کی تقسیم جو شخص ہفتے میں ایک ختم قرآن کرے، اُسے قرآنی سورتوں کو سات منزلوں میں تقسیم کرلینا چاہئے، احادیث سے بھی اس کا ثبوت ملتا ہے۔’’حضرت عثمان ؓ جمعہ کی شب میں قرآن پاک کی تلاوت شروع کرتے اور سورۂ مائدہ کے آخر تک تلاوت فرماتے، ہفتہ کی شب میں سورۂ انعام سے سورۂ ہود تک ، اتوار کی شب میں سورۂ یوسف سے سورۂ مریم تک، پیر کی شب میں سورۂ طہٰ سے سورۂ قصص تک، منگل کی شب میں سورۂ عنکبوت سے سورۂ ص تک، بدھ کی شب میں سورۂ زمر سے سورۂ رحمن تک اور جمعرات کی شب (شبِ جمعہ) میں سورۂ واقعہ سے آخر تک تلاوت فرماتے‘‘۔ چوتھا ادب:ترتیل کے ساتھ پڑھنا قرآن پاک کو اچھی طرح ترتیل کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے۔ قرآن کا مقصد تدبر اور تفکر ہے، ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے سے تدبر میں مدد ملتی ہے، چنانچہ حضرت ام سلمہؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت کے متعلق بیان فرمایا کہ:’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک حرف کو واضح کرکے پڑھا کرتے تھے‘‘۔ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ:’’ پورا قرآن جلدی جلدی پڑھنے کے مقابلے میں میرے نزدیک یہ زیادہ بہتر ہے کہ میں صرف سورۂ بقرہ وآل عمران کی تلاوت کروں‘‘۔ یہاں یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ ترتیل صرف تدبر کی وجہ سے مستحب نہیں ہے، بلکہ اس آدمی کے لئے بھی ترتیل مستحب ہے جو قرآن کے معانی نہ سمجھتا ہو، اس لئے کہ ٹھہر کر پڑھنے سے دل پر بھی زیادہ اثر ہوتا ہے۔ پانچواں ادب:تلاوت کے دوران کیفیت تلاوت کرتے وقت انسان قرآن کریم کی وعید اور تہدید پر عذاب واحوالِ قیامت اور سابقہ قوموں کی ہلاکت کی آیات پر غور کرے اور اس دوران رونا بھی مستحب ہے، چنانچہ حدیث شریف میں ہے: ’’فإذا قرأتموہ فابکوا فإن لم تبکوا فتباکوا‘‘۔ (ابن ماجہ، باب فی حسن الصوت بالقرآن) ترجمہ:…’’قرآن پڑھو اور روؤ، اگرنہ روسکو تو رونی صورت ہی بنادو‘‘۔ رونا نہ آئے تو انسان اپنے دل پر غم طاری کرلے اور یہ سوچے کہ قرآن نے مجھے کس چیز کا حکم دیا ہے اور کس چیز سے روکا ہے؟ اس کے بعد قرآنی اوامر ونواہی کی تعمیل میں اپنی کوتاہی پر نظر ڈالے، اس سے یقینا غم پیدا ہوگا اور غم سے ہی رونے کوتحریک ملتی ہے، رجاء وامید کی آیت گذرے تو دعا مانگے اور خوف کی آیت گذرے تو پناہ مانگے۔ چھٹا ادب: آیات کا حق ادا کرنا دورانِ تلاوت آیات کے حقوق کی رعایت کرے، جب کسی آیتِ سجدہ سے گذرے یا کسی دوسرے سے سجدہ کی آیت سنے تو سجدہ کرے، بشرطیکہ پاکی کی حالت میںہو، اگر زبانی تلاوت کررہا ہو اور تلاوت کرتے وقت یا سنتے وقت پاک نہ ہو تو پاک ہونے کے بعد سجدہ ادا کرلے۔ ساتواں ادب: تلاوت کی ابتداء جب تلاوت شروع کرے تو یہ پڑھے: ’’أعوذ باﷲ السمیع العلیم من الشیطٰن الرجیم، رب أعوذ بک من ہمزات الشیاطین وأعوذ بک رب أن یحضرون‘‘۔ اور ہر سورت کے اختتام پر یہ کہے: ’’صدق اﷲ العظیم وبلّغ رسول اﷲ  صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، اللّٰہم انفعنا وبارک لنا فیہ‘‘۔                                        (احیاء علوم الدین للغزالیؒ) آٹھواں ادب:آواز کے ساتھ تلاوت کرنا اتنی آواز کے ساتھ تلاوت کرنا آدابِ تلاوت میں شامل ہے کہ خود سن سکے، اس لئے کہ پڑھنے کے معنی یہ ہیں کہ آواز کے ذریعہ حروف ادا ہوں، اس لئے آواز ضروری ہے اور آواز کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ خود سن سکے، جہاں تک زیادہ بلند آواز کے ساتھ تلاوت کرنے کا معاملہ ہے تو یہ محبوب بھی ہے اور مکروہ بھی، بعض روایات میں بلند آواز سے تلاوت کرنے کو سراہا گیا ہے اور بعض احادیث میں اس کو ناپسند کیا گیا ہے۔ تطبیق کی صورت یہ ہے کہ آہستہ پڑھنے میں ریاکاری وتصنع کا اندیشہ نہیں ہے، جس شخص کو ریا کا اندیشہ وخوف ہو اسے آہستہ پڑھنا چاہئے، لیکن اگر اس کا خوف نہ ہو اور دوسرے کی نماز میں یا کسی دوسرے عمل میں خلل بھی نہ پڑتا ہو تو بلند آواز میں پڑھنا افضل ہے، کیونکہ اس میں عمل زیادہ ہے اور جہری قرأت دل کو بیدار کرتی ہے، اس کے افکار مجتمع کرتی ہے، نیند دور کرتی ہے، پڑھنے میں زیادہ لطف آتا ہے۔ نواں ادب:تحسین قرأت قرآن کریم کو خوبصورت آواز میں پڑھاجائے، تحسین قرأت پر پوری توجہ دی جائے ، لیکن حروف اتنے نہ کھینچے جائیں کہ الفاظ بدل جائیں اور نظم قرآنی میں خلل واقع ہو، اگر یہ شرائط ملحوظ رکھی جائیں تو تحسین قرأت سنت ہے، حدیث شریف میں ہے: ’’زینوا القرآن بأصواتکم‘‘۔ قرآن کو اپنی آواز سے زینت دو‘‘۔ (سنن ابی داؤد) ایک اور حدیث میں ہے:’’ما أذن اﷲ لشئ ما أذن للنبی أن یتغنی بالقرآن‘‘۔ ترجمہ:…’’اللہ تعالیٰ نے کسی اور چیز کا اس قدر حکم نہیں دیا ہے جتنا قرآن کے ساتھ خوش آوازی کا نبی کو حکم دیا ہے‘‘۔                (بخاری،باب من لم یتغن بالقرآن) اسی بیان پر مشتمل ایک اور روایت ہے: ’’لیس منا من لم یتغنّ بالقراٰن‘‘۔                       (بخاری،فضائل القرآن) ترجمہ:…’’جو شخص خوش الحانی کے ساتھ قرآن نہ پڑھے، وہ ہم میں سے نہیں‘‘۔ دسواں ادب:تلاوت کے بعد دعا تلاوت سے فارغ ہوکر دعا بھی مانگنی چاہئے اور اگر اختتام تلاوت پر وہ دعا جو اکثر قرآنی نسخوں کے اخیر میں تحریر ہے:’’ اللّٰہم ارحمنی بالقراٰن العظیم…‘‘ پڑھی جائے تو زیادہ بہتر ہے، بعض کتب میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تلاوت کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔ (روح البیان)                                                                            (جاری ہے)

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے