بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 ربیع الثانی 1441ھ- 06 دسمبر 2019 ء

بینات

 
 

شیخ الحدیث ڈاکٹر شیر علی شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت

 

شیخ الحدیث ڈاکٹر شیر علی شاہ صاحب v کی رحلت

 

الحمد للّٰہ وسلامٌ علٰی عبادہٖ الذین اصطفٰی

شیخ الحدیث ، بزرگ عالم دین، روحانی شخصیت، عظیم مدبر، مفسر، عالمی اسکالر، جہادِ افغانستان کے روحِ رواں، مجاہدین افغانستان کے سرپرست وعظیم راہنما، اکابر واسلاف کی روایات کے امین، تواضع وانکسار کے پیکر، حضرت مولانا عبدالحق vکے تلمیذ وبااعتماد رفیق، مدینہ یونیورسٹی کے فاضل، استاذ العلماء حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ صاحب، چند دن علیل رہنے کے بعد رحمن میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پشاور میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے، إنا للّٰہ وإنا إلیہ راجعون، إن للّٰہ ما أخذ ولہٗ ماأعطٰی وکل شیء عندہٗ بأجل مسمّٰی۔ بلاشبہ یہ اسلام کا اعجاز ہے کہ اسلام کے ہر دور میں علم وتحقیق کے آفتاب وماہتاب چمکتے رہے اور اسلام کی زرخیز زمین میں ایسی ہستیاں نمودار ہوتی رہیں، جن سے علوم ومعارف کے جواہر امت کو ملتے رہے۔ دور جانے کی ضرورت نہیں صرف متحدہ ہندوستان کی سرزمین نے حضرت شاہ ولی اللہv  اور شاہ عبدالعزیز دہلوی v جیسے بحر العلوم جامع کمالات اور علوم عقلیہ ونقلیہ کے ماہر پیدا کرکے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا تھا۔ اس آخری دور میں دیوبند، سہارن پور، گنگوہ، نانوتہ، تھانہ بھون، دہلی میں کیسی کیسی ہستیاں ظہور میں آئیں، جن کی نظیر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گی اور اس کے بعد ہمارے ملک پاکستان کو بھی اللہ تبارک وتعالیٰ نے ایسی علمی ہستیوں سے نوازا تھا،جن کے لیے بجاطور پر کہا جاسکتا ہے کہ وہ جبال العلم والعمل تھیں، جیسے: محدث العصرعلامہ سید محمد یوسف بنوریؒ، حضرت مولانا شمس الحق افغانیؒ، حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ، حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانیؒ، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع سرگودھویؒ، حضرت مولانا مفتی محمودؒ، حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، حضرت خواجۂ خواجگان خواجہ خان محمدؒ، حضرت مولانا عبدالستار تونسوی نور اللہ مراقدہم جن میں سے ہر ایک پوری جماعت کا کام کرتا نظر آتا تھا، جن کے اخلاص وتقویٰ اور علوم نبوت میں کمال کو دیکھ کر قرونِ اولیٰ کا شبہ ہونے لگتا ہے، آج ان کے علوم وحقائق اور علمی خصائص وکمالات کو سمجھنے والے بھی خال خال رہے، اور جو حضرات ان اکابر کے علوم وفنون کو سمجھنے والے تھے وہ یکے بعد دیگرے اس دنیا سے رخصت ہورہے ہیں۔ اس پرآشوب اور قحط الرجال کے زمانہ میں ایسی باخدا ہستیاں، عالم باعمل، جامع العلم، ماہر الفنون، حق تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے جفاکش، محنت وعرق ریزی کے ساتھ علوم دینیہ کی خدمت کرنے والے کہاں سے آئیں گے، نہ مال کی محبت نہ جان کی رغبت، نہ وجاہت کی خواہش،صرف علوم دینیہ کی خدمت زندگی کا مقصد ہو، ایسے بزرگ اب کہاں؟! ایسے خدا مست اور سرفروش علمائے کرام کے دنیا سے اُٹھ جانے کو حضور اکرم a نے قیامت کی علامات میں سے شمار کیا ہے، آپ aنے فرمایا: ’’إن من أشراط الساعۃ أن یرفع العلم ویکثر الجہل ویکثر الزنا ویکثر شرب الخمر ویقل الرجال ویکثر النساء حتی یکون لخمسین امرأۃ القیم الواحد۔‘‘           (مشکوٰۃ،ص:۴۶۹) ’’قیامت کی علامات میں سے ہے کہ علم اُٹھ جائے گا اور جہالت بڑھ جائے گی، زنا کی کثرت ہوگی، شراب پینے میں زیادتی ہوگی، مرد کم ہوجائیں گے، عورتیں زیادہ ہوجائیں گی، یہاں تک کہ پچاس عورتوں کا ایک ہی ذمہ دار ہوگا۔‘‘ دوسری حدیث جس کے راوی حضرت انس q ہیں وہ فرماتے ہیں کہ آپa نے ارشاد فرمایا: ۲:’’إن اللّٰہ لایقبض العلم انتزاعًا ینتزعہٗ من قلوب العباد ولکن یقبضہٗ بقبض العلمائ، حتٰی إذا لم یبق عالمًا اتخذ الناس رؤسًا جھّالًا فسئلوا فأفتوا بغیر علم فضلوا وأضلوا۔‘‘                                                  (مشکوٰۃ،ص:۳۳) ترجمہ:’’بے شک اللہ تعالیٰ اس علم کو اس طرح قبض نہیں کرے گا کہ بندوں کے سینوں سے چھین لے، بلکہ قبض علم کی صورت یہ ہوگی کہ اللہ تعالیٰ علماء کو اٹھاتا رہے گا، یہاں تک کہ جب ایک عالم بھی باقی نہیں چھوڑے گا تو لوگ جاہلوں کو پیشوا بنالیں گے، ان سے سوالات کیے جائیں گے، وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے، خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔‘‘ موجودہ دور میں جب کہ علماء ربانی اور صلحائے امت یکے بعد دیگرے اُٹھتے جارہے ہیں، آنحضرت a کی بیان فرمودہ علاماتِ قیامت روزِ روشن کی طرح بالکل واضح ہوکر سامنے آرہی ہیں، ان چند سالوں میں صرف پاکستان کی حد تک کتنا علمی شخصیات کس قدر تیزی سے ہم سے رخصت ہوگئی ہیں، ان اکابر کا اس تیزی سے ہمارے درمیان سے اُٹھ جانا اور دنیا کا اہل علم سے خالی ہوجانا کسی طوفان بلاخیز کا پیش خیمہ معلوم ہوتا ہے، اس لیے ہمیں توبہ، انابت، رجوع الی اللہ اور اصلاحِ اعمال کی طرف متوجہ ہوکر اپنی بداعمالیوں پر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنا چاہیے۔ حضرت مولانا شیر علی شاہ صاحبv کے حالاتِ زندگی کے بارہ میں حضرت مولانا عرفان الحق صاحب کی تحریر سے ایک اقتباس پیش کیا جاتا ہے: ’’ ۱۱؍ شعبان ۱۳۴۹ھ، ۱۹۳۰ء میں مولانا قدرت شاہ کے ہاں اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے، فقہ اور فارسی نظم کی کتابیں اپنے والد صاحب سے پڑھیں، نظم فارسی کی چند کتابوں میں حضرت مولانا عبدالرحیم صاحبؒ المعروف بہ ’’قصابانوحاجی صاحب‘‘ سے استفادہ کیا، یہ بزرگ فارسی، عربی اور ترکی تینوں زبانوں کے ماہر تھے اور کئی سال تک بغداد میں حضرت الشیخ گیلانیؒ کے نواسوں کو ابتدائی کتابیں پڑھاچکے تھے۔ شیخ الجامعہ پیر کرم شاہ المعروف باچا گل صاحب سے بھی کچھ اسباق پڑھے۔ اور حضرت شیخ الحدیث مولانا عبدالحقؒ سے بھی اس وقت کچھ کتابیں پڑھیں جب وہ شعبان ۱۳۶۶ھ میں دیوبند سے تعطیلات گزارنے اپنے گھر آئے تھے۔ تقسیم ہند کے بعد جب بعض طلبہ ان سے پڑھنے کے لیے اکوڑہ خٹک آئے اور دارالعلوم حقانیہ معرض وجود میں آیا تو پھر باقاعدہ تمام کتابیں دارالعلوم حقانیہ ہی میں مختلف اساتذہ سے پڑھیں، گویا آپ دارالعلوم حقانیہ کے ابتدائی طالب علموں میں سے ہیں۔ ۱۳۷۳ھ میں حضرت مولانا عبدالحق صاحب سے دورۂ حدیث پڑھا، دورۂ حدیث کے سال کے امتحان میں اول پوزیشن حاصل کی، فراغت کے بعد تقریباً تین ماہ آپ نے جامعہ اشرفیہ لاہور کے اساتذہ حضرت مولانا مفتی محمد حسن صاحبv (بانی ومہتمم) اور حضرت مولانا محمد ادریس صاحب کاندھلویv سے استفادہ کیا۔ فراغت کے بعد ۱۱؍ شوال ۱۳۷۳ھ مطابق ۱۳؍ اپریل ۱۹۵۴ء کو دارالعلوم حقانیہ میں ۳۰؍ روپیہ مشاہرہ کے ساتھ تدریس شروع کی۔ ترجمہ وتفسیر آپ نے ۱۳۷۸ھ میں شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریv سے پڑھی، پھر ۱۳۸۲ھ میں استاذ العلماء حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی v سے استفادہ کیا اور سند حاصل کی۔ شیخ التفسیر حضرت مولانا غلام اللہ خانv سے بھی تفسیر پڑھی، دورانِ درس مشہور مناظر مولانا لال حسین اخترv سے رد قادیانیت وملاحدہ وعیسائیت کے اسباق بھی لیے اور بعد میں اس قسم کے مختلف مناظروں میں شرکت بھی کی، جن میں کامیابی حاصل کی۔ ۱۳۹۳ھ میں جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں داخلہ لینے کے بعد عازم مدینہ ہوئے، وہاں پندرہ سولہ برس تک مختلف شعبہ جات میں استفادہ کرتے ہوئے ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں نمایاں کامیابیوں سے حاصل کیں، اس دوران آپ نے مسجد نبوی(l) میں درس وتدریس کا سلسلہ بھی جاری رکھا، فراغت کے بعد ۱۴۰۷ھ میں آپ کو جامعہ اسلامیہ مدینہ کی طرف سے دارالعلوم کراچی میں بطور استاذ تعینات کیا گیا، بعدمیں آپ نے احسن العلوم اور منبع العلوم میران شاہ میں بھی تدریسی خدمات انجام دیں۔ شوال ۱۴۱۷ھ کو شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی محمد فرید صاحب مدظلہٗ کی علالت وفالج کے بعد دارالعلوم حقانیہ میں مولانا سمیع الحق صاحب کی کوششوں سے سعودی حکومت کی طرف سے تعیناتی ہوئی۔ آپ کی تصنیفات میں ’’مکانۃ الحیۃ فی الإسلام، تفسیر الحسن البصری، زبدۃ القرأٰن، حول حرکۃ طالبان، زادا لمنتہی شرح ترمذی، تفسیر سورۃ الکہف‘‘ وغیرہ عربی میں ہیں۔ تحفظ ختم نبوت کے سلسلے میں ۱۹۷۷ء میں دو ماہ تک پابند سلاسل بھی رہے۔‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ صاحب آنکھوں کے آپریشن کے سلسلہ میں کراچی تشریف لائے ہوئے تھے، آپ کو معلوم ہوا کہ آج عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی قدس سرہٗ کی علمی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے گل بہار لان میں ایک سیمینار منعقد ہورہا ہے تو آپ اس میں تشریف لائے اور سامعین سے پرمغز اور پر اثر خطاب بھی فرمایا، قارئین بینات کے افادہ کے لیے اسے یہاں نقل کیا جاتا ہے، آپ نے فرمایا: ’’میں مدینہ منورہ میں تھا، چھٹیوں میں یہاں آیا ہوا تھا، قاری سعید الرحمنؒ کی ملاقات کے لیے راولپنڈی گیا تو قاری صاحبؒ نے بتایا کہ آج حضرت بنوریؒ ختم نبوت کے اجلاس میں شرکت کے لیے تشریف لارہے ہیں۔ہم ایئر پورٹ گئے، حضرت تشریف لائے، گاڑی میں سوار تھے۔ حضرت نے قاری صاحب کو کہا کہ قاری صاحب! ہوٹل میں اچھے اچھے کمرے لیں اور جو بھی مہمان آئیں ان کے لیے بہترین کھانا اور چائے کا انتظام کریں، تاکہ قادیانی یہ نہ کہیں کہ گویا خادمان محمد مصطفی (a) کے پاس دولت نہیں ہے۔ انہوں نے وہاں ناشتہ کیا، پھر حضرت بنوریؒ نے کہا: مجھے سعودی سفارت خانہ جانا ہے، میں اور قاری صاحب حضرت بنوریؒ کے ساتھ گئے۔ ان دنوں سفارت خانے میں ریاض الخطیب سفیر تھے، انہوں نے بڑے اعزاز و اکرام کے ساتھ خیر مقدم کیا۔ بیٹھے تو شعر و شاعری شروع ہوگئی، عربی اشعار اور عرب کے شعراء کا تذکرہ ہونے لگا، فلاں شاعر نے یہ کہا ہے، فلاں نے یہ کہا ہے۔ حضرت بنوریv کا ادبی مزاج تو بہت اونچا تھا، کافی دیر تک اس پر باتیں ہوتی رہیں، پھر حضرت بنوریv نے فرمایا کہ واقعی ان اشعار میں اور اس گفتگو میں تو لذت ہے، لیکن میں ایک اہم کام کے لیے آیا ہوں، ریاض الخطیب متوجہ ہوئے، فرمایا: آپ کو معلوم ہے کہ یہاں ختم نبوت کا مسئلہ ہے؟ میں نے تمام دُوَلِ اسلامیہ کے سربراہوں کو خطوط لکھے ہیں، یہاں سے اگر میں بھیجوں گا تمام سنسر ہوجائیں گے، یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ اس کو کسی طریقے سے سعودیہ سے ان تمام بادشاہوں کے نام ارسال کریں اور خاص کر شاہ فیصل (مرحوم) کو اس بات پر متوجہ کریں کہ یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے، ختم نبوت کا مسئلہ ایک بنیادی مسئلہ ہے، تاکہ وہ بھٹو (ذوالفقار علی بھٹو مرحوم) پر زور دیں کہ لازماً اس گمراہ طائفہ کے بارے میں وہ فیصلہ دے کہ ’’یہ مرتد اور کافر ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ یہ میری ذمہ داری ہے، کل میں ویسے بھی جارہا ہوں، یہ سب خطوط وہاں سے میں ان شاء اللہ! بھیج دوں گا اور شاہ فیصل کو اس بارے میں متوجہ کروں گا۔ تو میں یہ عرض کررہا ہوں کہ ہمارے اکابر نے اس مسئلے کو بہت اہمیت دی ہے، یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے۔ امیر شریعت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریv کا راولپنڈی میں اِسی موضوع پر جلسہ تھا، ہم شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خانv کے مدرسے میں پڑھتے تھے۔ مولانا غلام اللہ خانv نے درس میں کہا کہ احراریوں سے مجھے محبت نہیں ہے، یہ توحید بیان نہیں کرتے، ان کا عجیب مزاج تھا۔ طلبا بھی عجیب ہیں، شاہ جیv کی خدمت میں ایک طالب علم نے یہ بات پہنچائی کہ آج تو مولانا بڑے غصے میں تھے کہ احراریوں سے مجھے محبت نہیں ہے، یہ توحید بیان نہیں کرتے۔ عظیم الشان جلسہ تھا، ان دنوں اس جگہ کو کمپنی باغ کہتے تھے، اب تو اس کو لیاقت باغ کہتے ہیں، کیونکہ لیاقت علی خان کی شہادت وہاں ہوئی ہے۔ جلسہ شروع ہوا اور مولانا عبدالمنان ہزارویؒ جو جمعیت علماء ہند کے ناظم رہ چکے تھے، وہ موسیٰ منڈی میں خطیب تھے، وہ اسٹیج سیکریٹری تھے۔ انہوں نے مجلس احرار اسلام کی تمام قربانیاں بیان کیں کہ اس مجلس نے یہ کام کیا، یہ کیا، یہ کیا! پھر کچھ نظمیں سنائی گئیں، پھر شاہ جی v کی تقریر کا اعلان ہوا، اسٹیج پر بڑے بڑے علماء جلوہ افروز تھے۔ شاہ جیv نے ’’یَأَیُّہَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ‘‘ (البقرۃ:۲۱)  پر تقریر شروع کی، ڈھائی گھنٹے توحید پر بولتے رہے۔ پھر درمیان میں لوگوں سے پوچھنے لگے: جو اللہ کے سوا غیروں سے مانگتا ہے، غیروں کو نذر و نیاز دیتا ہے، وہ کیسا ہے؟ سب نے کہا کہ کافر و مشرک۔ شاہ جیv بڑے غصہ ہوئے کہ خاموش ہو جائو، سب مفتی کے بچے بن گئے ہو۔ اسٹیج پر مولانا عزیزالدین بھی جلوہ افروز تھے جو شاہ انور شاہv کے تلامذہ میں سے تھے اور شاہ جیv کے ہم درس رہ چکے تھے، ان کو مخاطب ہوکر کہنے لگے: خطیب صاحب! آپ بتائیں! انہوں نے بھی یہی جواب دیا کہ جو اللہ کے سوا غیروں سے مانگتا ہے، غیروں کو نذر و نیاز (دیتا ہے) وہ کافر اور مشرک ہے تو شاہ جی v نے کہا: مفتی صاحب! آپ نے بھی حرام کی روٹیاں کھائی ہیں! پھر مولانا غلام اللہ خانv کی طرف متوجہ ہوئے کہ آپ بتائیں؟ انہوں نے بھی کہا کہ کافر و مشرک ہے۔ شاہ جیv کے وہ بھی ہم درس رہ چکے تھے اور دونوں کے درمیان بہت زیادہ محبت اور شفقت تھی، شاہ جیv نے ان کو کہا: مولانا! آپ نے کفرو شرک کے علاوہ بھی کوئی مسئلہ سیکھا ہے؟ ان کو بھی خاموش کردیا! سب لوگ حیران کہ شاہ جی کیا کہہ رہے ہیں؟ شاہ جیv نے تین چار منٹ کی خاموشی کے بعد ’’إن شرالدّواب الخ‘‘ (الانفال:۵۵) کی آ یت پڑھی (اور فرمایا): جو اللہ کے سوا غیروں سے مانگتا ہے، غیروں کو نذر و نیاز (دیتا ہے) وہ سور ابن سور، خنزیر ابن خنزیر ہے، تم اس کو کافر و مشرک کہہ کے انسانیت کے دائرے میں لے آتے ہو، اللہ نے ان کو انسانیت کے دائرے سے نکالا ہے۔یہ جدا بات ہے کہ ہم نے مسئلہ ختم نبوت کو اس لیے ترجیح دی ہے کہ یہ فتنہ (فتنۂ قادیانیت) استعماری طاقت کی پشت پناہی لیے ہوئے پھیل رہا ہے۔ ہم الحمدللہ! توحید (بھی بیان کرتے ہیں) لیکن اس مسئلے کو مجلس احرار اسلام نے اس لیے ترجیح دی ہے کہ یہ معمولی مسئلہ نہیں ہے۔ ہم اتنے نکمے نہیں ہیں کہ ہم مسئلہ نہیں جانتے، لیکن یہ ایک بہت حساس موضوع ہے کہ علماء اگر خاموش رہیں پھر تمہاری یہ مساجد، تمہاری یہ خطابتیں، تمہاری یہ سب چیزیں ختم ہوجائیں گی، یہ کوئی معمولی مسئلہ ہے؟؟ یہ تو حد درجہ انتہائی بنیادی مسئلہ ہے۔ حضور اکرم a نے اس لیے ’’لانبی بعدی‘‘ فرمایا’ ’لا‘‘ کی تلوار کو لے لوا ور ان سب گمراہوں کے سروں کو قلم کردو۔ ’’لا‘‘  لنفی الجنس ہے، یہ جب بھی کسی چیز پر داخل ہوجاتا ہے اس کو بیخ و بُن سے اکھاڑ دیتا ہے، نہ کوئی ظلی رہتا ہے نہ کوئی بروزی ، ’’لا نبی بعدی‘‘دیگر مسائل میں تم سے سیکھوں گا، لیکن ’’لا‘‘ کا مسئلہ مجھ سے سیکھو۔ یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے، لما نزلت ہذہٖ الأٰیۃ الکریمۃ: ’’مَاکَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ۔ ‘‘ (الاحزاب: ۴۰) ’’محمد باپ نہیں کسی کا تمہارے مردوں میں سے لیکن رسول ہے اللہ کااور مہر سب نبیوں پر۔‘‘ ’’قال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم:’’ أنا خاتم النبیین لا نبی بعدی‘‘ وفی روایۃ: ’’ لا رسول بعدی‘‘ وفی روایۃ:’’لا أمۃ بعدی۔‘‘                                                   (الحدیث) ’’نبی کریم a نے فرمایا: میں تمام نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں، اور ایک روایت میں ہے: میرے بعد کوئی رسول نہیں اور ایک روایت میں ہے کہ: میرے بعد کوئی امت نہیں۔‘‘      اللہ اکبر! ان لوگوں نے اپنی زندگیاں اس مسئلہ کے لیے وقف کی تھیں۔ مجلس احرار اسلام نے جو عظیم خدمات سرانجام دی ہیں، یہ ان بزرگوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ لوگوں نے سمجھ لیا۔ علماء تو پہلے ہی سے اس فتنے کو عظیم فتنہ سمجھتے تھے اور قادیانیوں کو مرتد اور کافر کہتے تھے، لیکن عام مسلمان ان کو کافر نہیں کہتے تھے۔ جب حضرت مولانا سیّد محمد یوسف بنوریv  نے اور علماء کرام نے تحریک چلائی اور حکومت نے بھی تسلیم کیا تو ان کو ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو قومی اسمبلی نے کافر قرار دیا۔ کئی ساتھی ہمیں کہنے لگے: اچھا! یہ کافر تھے؟ ہم نے کہا: علماء نے تو پہلے سے کہاہے، لیکن تم حکومت کے غلام ہو۔ بہر حال! یہ معمولی مسئلہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ان اکابر اسلاف کی زندگیوں میں برکت عطا فرمائے۔ (آمین) ایسے اہم مسئلہ کو تمام مسائل پر ترجیح دینی چاہیے۔ امام بخاریv نے اپنی کتاب کے اخیر میں ’’کتاب التوحید‘‘ میں ان فرق باطلہ کے بارے میں تصریح فرمائی ہے اور یہ مسائل اس لیے لے آئے ہیں کہ ایک عالم کا فریضہ ہے کہ وہ فرق باطلہ کے بارے میں واشگاف الفاظ میں لوگوں کو باقاعدہ بتایا کرے کہ مرتدین، معتزلین، خوارج اور روافض کتنے باطل فرقے ہیں! ایک عالم کا فریضہ ہے کہ فضائل بھی بیان کرے، لیکن سب سے بنیادی بات کہ فرق باطلہ کی وضاحت ہونی چاہیے۔ عام لوگوں کے سامنے ان فرق باطلہ کی پوری تصریحات کرنی چاہئیں۔ میں زیادہ تقریر کرنے کے قابل نہیں ہوں، بیمار ہوں، لیکن اس کو میں اپنے لیے سعادت سمجھتا ہوں کہ ایسے اجلاس میں شرکت، یہ بھی ان شاء اللہ العزیز ! سعادت دارین کا باعث ہوگا۔ بڑے بڑے علماء آئے ہوئے ہیں، میں انہی کلمات پر اکتفا کرتا ہوں۔ وآخردعوانا أن الحمد للّٰہ رب العالمین۔‘‘ حضرت ڈاکٹر شیر علی شاہ صاحبv کے بارہ میں لکھا ہے کہ آخری دن جب آپ ہسپتال میں تھے جمعہ کا وقت ہوا تو آپ نے اپنے خدام سے فرمایا: میں نے جمعہ کی نماز مسجد میں پڑھنی ہے، خدام اور ڈاکٹروں نے بہت منع کیا کہ آپ کی جسمانی حالت ایسی نہیں ہے کہ آپ مسجد جاسکیں، لیکن آپ نے فرمایا کہ: نہیںمیں مسجد جاؤں گا، چنانچہ آپؒ نے اپنی وفات سے بمشکل ایک ڈیڑھ گھنٹہ پہلے مسجد میں نمازِ جمعہ باجماعت ادا کی اور تھوڑی ہی دیر بعد خالق حقیقی سے جاملے، یہ وہ حضرات ہیں جن کے بارہ میں صادق آتا ہے ’’عاش سعیدا ومات سعیدا‘‘ دنیا میں رہتے ہوئے جن کی ایک نماز بھی فوت نہ ہوئی اور آخری وقت بھی نماز باجماعت کا اہتمام ہو تو کیوں نہ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے ایسے بندوں کی وجہ سے فرشتوں پر فخرفرمائیں کہ دیکھو! میرے یہ وہ بندے ہیں جن کی تخلیق پر تم نے اعتراض کیا تھا۔ آپ کا وصال جمعہ کے دن سوا تین بجے ہوا، دوسرے دن ہفتہ کو ساڑھے گیارہ بجے آپ کی نمازِ جنازہ ہوئی، نمازِ جنازہ آپ کے بیٹے نے پڑھائی، جس میں عینی شاہدین کے مطابق تین لاکھ سے زیادہ مجمع تھا۔ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کی طرف سے استاذ الحدیث حضرت مولانا فضل محمد صاحب اور جامعہ کے ناظم تعلیمات واستاذ الحدیث حضرت مولانا امداد اللہ صاحب آپ کی نمازِ جنازہ میں شریک ہوئے اور جامعہ کی نمائندگی کی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ حضرت مولانا موصوف کی جملہ حسنات کو قبول فرمائے اور جنت الفردوس کا مکین بنائے، باتوفیق قارئین بینات سے حضرت v کے لیے ایصالِ ثواب کی درخواست ہے۔

وصلی اللّٰہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ سیدنا محمد وعلٰی آلہٖ وصحبہٖ أجمعین

 

 

 

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے