بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ربیع الثانی 1441ھ- 12 دسمبر 2019 ء

بینات

 
 

سالگرہ سے متعلق ایک اشکال کی وضاحت!

 

سالگرہ سے متعلق ایک اشکال کی وضاحت!

کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام کہ درج ذیل دو مسئلوں میں کونسا مسئلہ درست ہے؟ ۱:…’’سوال:سالگرہ بچوں کی اور ا س کی خوشی میں اطعام الطعام کرنا جائز ہے یا نہیں؟ جواب:سالگرہ یادداشت ِعمر اطفال کے واسطے کچھ حرج معلوم نہیں ہوتا اور بعد سال کھانا لوجہ اللہ تعالیٰ کھلانا بھی درست ہے۔‘‘ (فتاویٰ رشیدیہ، ج:۱، ص:۲۵۶، حضرت مولانا مفتی رشید احمد گنگوہی صاحبؒ ،ادارہ صدائے دیوبند)     ۲:…’’مسئلہ: رسم سالگرہ یہ خالص غیر اقوام کا طریقہ ہے اور ان ہی کی رسم ہے۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ مذکور طریقہ (بچہ کی تاریخ پیدائش پر کیک کاٹنا اور جتنے سال کا بچہ ہے اتنی ہی موم بتیاں جلا کر بجھوانا وغیرہ) سے اجتناب کریں، ورنہ اس کی نحوست سے ایمان خطرے میں پڑنے کا اندیشہ ہے‘‘۔                                                                        (فتاویٰ رحیمیہ،ج:۷،ص:۷۷) بحوالہ:      مسائل شرک وبدعت، ج:۱۴، ص:۱۱۰، مولانا محمد رفعت صاحب قاسمی، مکتبہ سید احمد شہید۔      آپ کے مسائل اور ان کا حل، ج:۸، ص:۱۲۶، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدv۔      فتاویٰ محمودیہ، ج:۳،ص:۱۷۹، فقیہ الامت حضرت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی نور اللہ مرقدہٗ۔     احسن الفتاویٰ، ج:۸، ص:۱۵۴، فقیہ العصر مفتی رشید احمدلدھیانویؒ، ایچ ایم سعید کمپنی۔     اصلاحی خطبات، ج:۴، ص:۲۱۰، حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہ، میمن اسلامک پبلشرز۔      تسہیل بہشتی زیور، ج:۱،ص:۵۴، نظرثانی: مفتی ابولبابہ شاہ منصور، الحجازکراچی۔      آپ کے مسائل کا حل، ج:۱،ص:۱۸۴، مفتی محمد مدظلہ، دار الافتاء والارشاد ناظم آباد کراچی۔                                                                           مستفتی:محمد اسلم،کراچی الجواب باسمہٖ تعالٰی     سوالنامہ میں ذکر کردہ دونوں مسئلے درست ہیں اور ان میں کوئی تعارض نہیں۔     حضرت مولانا مفتی رشید احمد صاحب گنگوہی v کے ذکرکردہ مسئلہ کا مصداق وہ صورت ہے جو سالگرہ پر ہونے والی مروجہ نمود ونمائش، رسومات، فضولیات اور اسراف سے پاک ہو اور محض اپنی خوشی اور تشکر کے جذبات کے اظہار کے لیے ہو۔     جب کہ دیگر اکابرین کی عبارات کا مصداق وہ صورت ہے جہاں کیک کے التزام ، موم بتیوں، نمود ونمائش اور اسراف جیسی خرابیاں پائی جاتی ہوں اور تشکر کی بجائے رسماً اس کا انعقاد کیا جاتا ہو۔ فتاویٰ رحیمیہ کے درجِ ذیل اقتباس سے یہ بات بخوبی سمجھ میں آتی ہے: ’’سالگرہ منانے کا جو طریقہ رائج ہے (مثلاً کیک کاٹتے ہیں) یہ ضروری نہیں، بلکہ قابل ترک عمل ہے، غیروں کے ساتھ تشبہ لازم آتا ہے، البتہ اظہارِ خوشی اور خدا کا شکر ادا کرنا منع نہیں ہے‘‘۔        (فتاویٰ رحیمیہ، ج:۱۰،ص:۲۲۶،ط:دار الاشاعت)                    فقط واللہ اعلم      الجواب صحیح             الجواب صحیح                            کتبہ    ابوبکرسعید الرحمن        محمد شفیق عارف                         عبد الحمید                                              دار الافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے