بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الثانی 1441ھ- 16 دسمبر 2019 ء

بینات

 
 

حضرت علامہ بنوریؒ کے شاگردِ خاص مولانا مولیٰ بخش صاحب ایک باہمت اور درویش صفت مہتمم

حضرت علامہ بنوریؒ کے شاگردِ خاص مولانا مولیٰ بخش صاحب

ایک باہمت اور درویش صفت مہتمم


    حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ کو جہاں اللہ تعالیٰ نے علومِ دینیہ میں اتنا بڑا مقام عطا فرمایا تھا کہ اہل علم وبصیرت انہیں ان کے استاذ محدث العصر حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ (سابق شیخ الحدیث وصدر المدرسین دارالعلوم دیوبند) کے علوم کا صحیح ترجمان اور ان کے جانشین کے طور پر یاد کرتے ہیں‘ وہاں رب العزت نے ان کو قرآن وسنت کی تعلیمات پر عمل کرنے، تقویٰ وطہارت کی زندگی بسر کرنے اور اپنے اکابر کے نقشِ قدم پر چلنے کی دولت سے بھی نوازا تھا۔ انہوں نے اپنے خداداد علمی مقام اور مقبولیتِ عامہ کو کبھی اپنی ذات یا اپنی اولاد کے ذاتی مفادات ومقاصد کے حصول کا ذریعہ نہیں بنایا، بلکہ اپنی صلاحیتوں، محنتوں اور سوچ وفکر کو دین کی ترقی، فتنوں کی سرکوبی اور رجالِ کار تیار کرنے میں صرف کیا۔
    ان کے مخلصانہ جذبات کی بدولت اللہ تعالیٰ نے ایک کام تو ان سے یہ لیا کہ ان کو ایک عظیم اور بابرکت دینی ادارہ ’’جامعہ علوم اسلامیہ‘‘ قائم کرنے کی توفیق بخشی، جس کی برکات چار دانگِ عالم میں پھیل گئیں۔ دوسرا یہ کہ ان کی محنتوں سے تحریکِ ختم نبوت کو کامیابی سے ہم کنار کردیا۔ تیسرایہ کہ تصنیف وتحقیق کے میدان میں ’’معارف السنن شرح جامع الترمذی‘‘ اور دیگر تحقیقی رسائل ومضامین لکھنے کی توفیق عطا فرمائی۔ اور چوتھا یہ کہ تدریس وتربیت کے میدان میں ان کے ذریعے ایسے مخلص شاگرد اور اہلِ علم وتقویٰ افراد تیار کردیئے جنہوں نے اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک مختلف دینی میدانوں میں کامیاب کارنامے انجام دیئے اور دینی اداروں کے جال بچھادیئے۔
    حضرت علامہ بنوری قدس سرہٗ کے شاگردوں اور تیار کردہ افراد میں سے ایک حضرت مولانا مولیٰ بخش صاحب مدظلہم العالی سابق استاذ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی اور بانی ومہتمم جامعہ امام ابوحنیفہؒ مستونگ بلوچستان بھی ہیں۔ حضرت علامہ بنوری قُدِس سرہٗ نے اپنی خداداد فراست وبصیرت کے ذریعے موصوف کی صلاحیت وصالحیت کو بھانپتے ہوئے ان کی فراغت کے بعد ہی مدرس کی حیثیت سے جامعہ علوم اسلامیہ میں ان کی تقرری کردی، اور وہ اس طرح کہ ۱۳۹۲ھ مطابق ۱۹۷۲ء کو مولانا مولیٰ بخش صاحب کی جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن سے فراغت ہوئی اور سالانہ امتحانات بھی دے دیئے، امتحانات کے بعد ان کا ارادہ تھا کہ رحیم یارخان پنجاب جاکر چھٹیوں میں حضرت مولانا شریف اللہ خان صاحب سے فنِ میراث (سراجی) پڑھیں گے اور آنے والے تعلیمی سال میں جہاں بھی اللہ نے توفیق دی دین کی خدمت کریںگے۔ اس مقصد کے لیے اپنا بستر باندھ کر جامعہ علوم اسلامیہ کو خیرباد کہہ کر جانے والے تھے کہ حضرت مولانا مفتی ولی حسن صاحب قدس سرہٗ نے اچانک ان کو دیکھ لیا اور پوچھا کہ کیا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ حضرت! میں نے تو جامعہ سے فراغت حاصل کرلی ہے، اب چھٹیوں میں پنجاب جاکر فنِ میراث پڑھنا ہے اور آگے اللہ تعالیٰ جہاں بھی دین کی خدمت کا موقع دیںگے وہاں خدمت کروںگا۔ حضرت مفتی صاحب نے اُنہیں جانے سے روک لیا اور چھٹیوں میں دار الافتاء کے اندر حضرت مفتی احمد الرحمن صاحب کے معاون کی حیثیت سے کام کرنے کا حکم دیا، اور پھر حضرت علامہ بنوری قدس سرہٗ سے جاکر عرض کیا کہ مولیٰ بخش نامی ایک بلوچ طالب علم جو اس سال فارغ ہوا ہے صاحبِ استعداد وصلاحیت ہونے کے ساتھ ساتھ نیک وصالح بھی ہے، وہ جارہا تھا، میں نے اسے روک لیا ہے، میرے خیال میں جامعہ علوم اسلامیہ میں مدرس کی حیثیت سے اس کی تقرری جامعہ کے حق میں اور خود اس کے حق میں بہتر رہے گی۔
    حضرت علامہ بنوری رحمہ اللہ نے حضرت مفتی صاحب کی رائے کی تائید فرماتے ہوئے ان کو بلایا اور فرمایا کہ: آپ کو چھٹیوں کے بعد کہیں بھی جانے کی ضرورت نہیں، آپ آنے والے تعلیمی سال میں اپنی مادرِ علمی جامعہ علوم اسلامیہ میں پڑھائیں گے! انہوں نے عرض کیا کہ: حضرت! میں جامعہ میں پڑھانے کا اہل کہاں؟ اور ابھی تک تو سالانہ امتحانات کا نتیجہ بھی نہیں آیاہے، پتہ نہیں کہ میں پاس ہوںگا یا فیل؟ اگر فیل ہوا تو میں کیسے پڑھاؤں گا اور وہ بھی اتنے بڑے ادارہ میں! حضرت علامہ بنوریؒ نے فرمایا کہ ہمیں اپنے آپ کو نااہل اور فیل سمجھنے والے استاذ کی ضرورت ہے، لہٰذا آپ یہیں رہیں۔
    راقم کہتا ہے کہ کتنا خوش قسمت ہے وہ طالب علم جس پر اساتذۂ کرام کی نظرِ انتخاب واعتماد پڑے؟ اور بالخصوص حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری اور حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی E جیسے اساتذہ کی ! مولانا مولیٰ بخش صاحب نے اپنے دونوں بزرگوں کی دعائیں لیتے ہوئے جامعہ علوم اسلامیہ میں پڑھانا شروع کیا اور تقریباً چار سال تک حضرت علامہ بنوریؒ کی زندگی میں اور تقریباً چودہ سال ان کے وصال کے بعد کل اٹھارہ سال کامیابی اور پابندی کے ساتھ جامعہ میں پڑھاتے رہے، چنانچہ آج تک جامعہ کے اساتذہ میں ان کے شاگرد موجود ہیں اور بعض تو اساتذۂ حدیث بھی ہیں۔

جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن سے مستونگ منتقلی

حضرت مولانا مولیٰ بخش صاحب جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں اٹھارہ سال تک کامیابی کے ساتھ مدرس کی حیثیت سے مصروفِ عمل اور ترقی کی راہ پر گامزن رہے، ایک دفعہ ان کے آبائی علاقے ’’مستونگ، بلوچستان‘‘ کے ایک عالم دین اور ان کے ابتدائی درجات کے استاذ مولانا قاضی عبد الرحمن صاحبؒ نے ان سے فرمایا کہ: اپنے علاقے میں دینی خدمت اور اخلاص کے ساتھ کام کرنے والے باصلاحیت آدمی کی زیادہ ضرورت ہے، اس لیے بہتر یہ ہوگا کہ آپ کراچی کو چھوڑ کرمستونگ آکر دین کی خدمت کریں، جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں باصلاحیت افراد کی کوئی کمی نہیں، لہٰذا آپ کی منتقلی سے جامعہ کا ان شاء اللہ! کوئی خاص نقصان نہیں ہوگا، البتہ یہاں پر آپ کے آنے سے بڑا فائدہ ہوگا!۔
مولانا مولیٰ بخش صاحب نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ’’وأنذر عشیرتک الأقربین‘‘ (اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو اللہ کے عذاب سے ڈراؤ) کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے استاذ کے حکم پر لبیک کہا اور ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی اور دینی اداروں میں ملک کے سب سے مقبول ومشہور دینی ادارہ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کو خیرباد کہہ کر ایک دور افتادہ اور نسبۃً گم نام مقام ’’مستونگ بلوچستان‘‘ جاکر پڑاؤ ڈالا اور کوئی رسمی عہدہ لیے بغیر ایک چھوٹے مگر بہت ہی پرانے دینی ادارے ’’مدرسہ عربیہ صدیقیہ‘‘ کی خدمت اس مدرسہ کے مہتمم صاحب کی خواہش پر شروع کردی جو اُن کے اخلاص ومحنت کی برکت سے ترقی کے راستہ پر گامزن ہوا، کچھ عرصہ بعد جب طلبہ کا رجوع زیادہ ہونے لگا اور جگہ تنگ پڑگئی تو ’’مدرسہ عربیہ صدیقیہ‘‘ سے تقریباً ڈیڑھ کیلو میٹر دور ایک دوسری جگہ حاصل کرکے ’’جامعہ امام ابوحنیفہؒ‘‘ کے نام سے دوسرا ادارہ قائم کیا اور اعدادیہ دوم سے درجہ سادسہ تک کی تعلیم کا سلسلہ وہاں منتقل کردیا اور حفظ وناظرہ اور اعدادیہ اول کا سلسلہ بدستور ’’مدرسہ عربیہ صدیقیہ‘‘ میں برقرار رکھا۔

مولانا مولیٰ بخش صاحب سے پہلی ملاقات

اللہ تعالیٰ نے راقم الحروف کو ۱۴۱۵ھ مطابق ۱۹۹۵ء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی میں مدرس اور مدیر مجلہ عربی ’’البینات‘‘ کی حیثیت سے خدمت کا موقع عنایت فرمایا، لیکن مولانا مولیٰ بخش صاحب چونکہ ۱۴۰۹ھ مطابق ۱۹۸۹ء کو جامعہ سے منتقل ہوگئے تھے، اس لیے مجھے جامعہ کی چار دیواری کے اندر ایک مدرّس کی حیثیت سے ان کو قریب سے دیکھنے کا موقع میسر نہ ہوسکا! البتہ جامعہ میں مدرسین کے اندر ان کے شاگرد حضرات موجود تھے اور وہ ان کے اخلاص،تواضع اور صلاحیتوں کا اس انداز سے تذکرۂ خیر کرتے رہتے تھے جس سے اس قحط الرجال کے دور میں غائبانہ طور پر اُن سے عقیدت اور ان سے ملنے کا اشتیاق پیدا ہوگیا۔ غالباً سالانہ چھٹیوں میں وہ ایک دفعہ کراچی تشریف لائے ہوئے تھے اور اپنی مادرِ علمی جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن بھی تشریف لائے، جہاں ان سے پہلی ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ ملاقات کے بعد ان سے عقیدت میں اضافہ ہوگیا اور ان کے زیرِ انتظام چلنے والے مدرسے کی زیارت کی تمنا بھی پیدا ہوگئی اور یہ ارادہ کیا کہ چونکہ مجھے ہرسال چھٹیوں میں کوئٹہ جانا ہوتا ہے، اس لیے ایسے ہی کسی موقع پر کوئٹہ سے مستونگ جاکر مولانا کے مدرسے کی زیارت کروںگا۔

مولانا مولیٰ بخش صاحب کے مدرسے کی زیارت اور وہاں کا پُرکیف ماحول

ماہِ شعبان ۱۴۲۶ھ مطابق ماہِ ستمبر ۲۰۰۵ء راقم الحروف کوئٹہ گیا ہواتھا، اس دوران پتہ چلا کہ مولانا مولیٰ بخش صاحب کے ایک نوجوان صاحبزادے محمود احمد متعلم درجہ رابعہ کا ایک حادثہ میں انتقال ہوگیا ہے! یہ دلخراش خبر سن کر مولانا کی زیارت اور ان کے نوجوان صاحبزادے کی تعزیت کے لیے بروز منگل ۸؍شعبان ۱۴۲۶ھ مطابق ۱۳؍ ستمبر ۲۰۰۵ء کوئٹہ سے مستونگ روانہ ہوا، عصر سے پہلے پہنچ کر تعزیت کی اور عصر کی نماز پڑھ کر پرانے مدرسے’’مدرسہ عربیہ صدیقیہ‘‘ اور نئے مدرسے ’’جامعہ امام ابوحنیفہؒ‘‘ کی زیارت کی۔ نیا مدرسہ چونکہ بالکل ابتدائی تعمیری مراحل سے گزر رہا تھا، اس لیے مولانا نے ازراہِ حسن ظن اور جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن سے احقر کی وابستگی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی تکمیل کی دعا بھی کروائی، اس مختصر وقت میں مولانا کے طرزِ اہتمام اور ان کے زیرِ انتظام چلنے والے مذکورہ دونوں اداروں کے تعلیمی وتربیتی ماحول کو دیکھ کر راقم الحروف کافی متاثر ہوا اور باربار حاضر ہونے کی تمنا لیے ہوئے واپس کوئٹہ روانہ ہوا۔
اس کے بعد کچھ تو عدیم الفرصتی اور کچھ اپنی غفلت کی وجہ سے تقریباً تیرہ سال کا عرصہ گزر گیا اور مستونگ جانے کا موقع نہ مل سکا۔ حال ہی میں ماہِ جمادی الثانیہ ۱۴۳۹ھ مطابق ماہِ مارچ ۲۰۱۸ء کوئٹہ جانے کا پروگرام بن گیا، وہاں پر برادر محترم مفتی سعادت اللہ صاحب فاضل دارالعلوم دیوبند اور مولوی فیض الرحمن فاضل جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن اور ایک مخلص دوست جناب محمد وقار خان صاحب کی معیت میں بروز اتوار ۱۵؍ جمادی الثانیہ ۱۴۳۹ھ مطابق ۴؍ مارچ ۲۰۱۸ء کوئٹہ سے مستونگ جانے کا ارادہ کیا۔ مقصد حضرت مولانا مولیٰ بخش صاحب کی زیارت اور ان کے مدرسے کا پر کیف ماحول دیکھنا تھا، چنانچہ تقریباًدس بجے ہم لوگ وہاں پہنچے اور جامعہ امام ابوحنیفہؒ اور اس کے درویش صفت بانی ومہتمم حضرت مولانا مولیٰ بخش صاحب مدظلہم العالی اور ان کے فیض یافتہ اساتذۂ مدرسہ وطلبۂ عزیز کی زیارت نصیب ہوئی۔ مولانا نے بڑا اکرام کیا، بلکہ مدرسے کے اساتذہ وطلبہ کو جمع کرکے احقر سے ان کے سامنے بیان کرنے کی خواہش کا بھی اظہار فرمایا۔ احقر نے اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں طلبہ کے سامنے کچھ مختصر بیان کیا۔ بیان ودعا کے بعد نہایت سبق آموز تأثرات کے ساتھ وہاں سے کوئٹہ اور پھر کراچی واپسی ہوئی۔

مولانا مولیٰ بخش صاحب کے طرزِ اہتمام اور سبق آموز زندگی کی چند جھلکیاں
 

   حضرت مولانا مولیٰ بخش صاحب جن کی عمر تقریباً ستر سال تک پہنچ چکی ہے، حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ اور حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکیؒ جیسے اکابرین کے شاگرد اور صحبت یافتہ اور جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے فاضل وسابق استاذ اور جامعہ امام ابوحنیفہؒ مستونگ کے بانی ومہتمم اور وفاق المدارس العربیہ صوبہ بلوچستان کے پانچ اضلاع کے مسؤول ہیں۔ اللہ نے انہیں عزت وعرفی مقام، علمی صلاحیت واستعداداور انتظامی امور سنبھالنے کی قابلیت سے نوازاہے، وہ اگر چاہیں توپر لطف وپر تکلف زندگی گزار سکتے ہیں، لیکن انہوں نے ہمارے اسلاف واکابر کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے درویشانہ اور بے تکلف زندگی کو ترجیح دی ہے جس کی برکت سے اس عمر میں بھی ان کی صحت قابلِ رشک اور پر سکون چہرہ قابلِ دید ہے۔ مدرسے کے اساتذہ، طلبہ اور ملازمین ان سے بے حد عقیدت ومحبت کرتے ہوئے ان کے لیے غائبانہ دعائیں کرتے ہیں اور ان کی عملی زندگی کو دیکھ کر ان سے بہت کچھ سیکھ لیتے ہیں۔
مولانا کی عادات واخلاق، اخلاص وتواضع اور فقیرانہ زندگی وطرزِ اہتمام کو دیکھ کر مجھ جیسا کور مغز شخص بھی تأثر لیے بغیرنہ رہ سکا اور دل نے چاہا کہ ان کی زندگی کی چند جھلکیوں کو قلم بند اور محفوظ کرکے ان کی روشنی میں اپنی زندگی میں سادگی پیدا کرنے اور تکلُّفات سے دور رہنے کی کوشش کروں اور ساتھ ساتھ قارئین اور بالخصوص ان قابل احترام او راہل فضل وعلم حضرات کو بھی اپنی زندگیوں پر غور کرنے کی دعوت دوں جو دینی اداروں کے انتظامی عہدوں پر فائز اور دین ہی کی برکت سے ان کو شہرت، مقبولیت اور عرفی مقام حاصل ہوا ہے۔

۱:- اپنے ہاتھ میں کَرْنی لے کر وضوخانہ کی دیوار پر پلاسٹر لگانا

جامعہ امام ابوحنیفہؒ کی پہلی زیارت کے موقع پر میں نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا کہ مولانا مولیٰ بخش صاحب اپنے کپڑوں کو سمیٹے ہوئے کَرْنی (سیمنٹ لگانے کا آلہ) اور مسالا لے کر مدرسہ کے وضوخانہ کی دیوار پر احتیاط ومہارت کے ساتھ پلاسٹر لگا رہے ہیں، اُنہیں ذرا دور سے دیکھ کر شروع میں تو مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے سابق استاذ اور جامعہ امام ابوحنیفہؒ کے بانی ومہتمم حضرت مولانا مولیٰ بخش صاحب ہیں! لیکن قریب جاکر جب سلام وکلام کی نوبت پیش آئی تو پلاسٹر لگانے والے شخص کو مولانا مولیٰ بخش صاحب ماننے کے علاوہ کوئی احتمال باقی نہ رہا۔

۲:- بلیڈ لے کر طلبہ کے بالوں کو اپنے ہاتھ سے صاف کرنا

دینی مدارس میں طلبہ کو غیر شرعی بال رکھنے کی اجازت نہیں ہوتی، اور ناظمین کی طرف سے طلبہ کے سر کے بالوں کو وقتاً فوقتاً چیک کیاجاتاہے اور ان کو بال صاف کرنے یا شریعت کے مطابق تراشنے کا حکم دیاجاتاہے۔ مولانا مولیٰ بخش صاحب کے مدرسے میں بھی طلبہ کو غیر شرعی بال رکھنے کی اجازت نہیں اور ان کی سہولت وتربیت کی خاطر مدرسہ خود ان کے بالوں کی صفائی کا انتظام کرتا ہے۔ مجھے بااعتماد ذرائع سے پتہ چلا کہ طلبہ کے سروں کو بلیڈ سے صاف کرنے کے لیے چند دیگر ماہر افراد کے ساتھ بعض دفعہ مولانا خود بھی بلیڈ لے کر شریک ہوجاتے ہیں اور طلبہ کے بالوں کو اپنے ہاتھ سے صاف کردیتے ہیں۔مولانا کی مذکورہ بالا دونوں خصلتوں اور ان سے ملتی جلتی دیگر عادتوں کو پیش نظر رکھ کر مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادات سے متعلق حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہt کی مندرجہ ذیل روایت یاد آتی ہے: 
’’قیل لعائشۃ -رضی اللّٰہ عنہا-: ماذا کان یعمل رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم فی البیت؟ قالت: کان بشراً من البشر یفلی ثوبَہٗ ویحلب شاتَہٗ ویخدم نفسَہٗ۔‘‘ 
 ’’حضرت عائشہt سے پوچھا گیا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کام کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آدمیوں میں سے ایک آدمی تھے،اپنے کپڑے میں خود ہی جُوں تلاش کرلیتے تھے (علماء کی صراحت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر میں جوئیں نہیں پڑتی تھیں، تلاش کرنے کا مطلب یہ ہے کہ شاید باہر سے کوئی جُوں آگئی ہو) اور خود ہی اپنی بکری دوہتے تھے اور اپنے کام خود ہی کرلیتے تھے۔‘‘ (شمائل ترمذی، ص:۲۳)

۳:-لِلّٰہ فی اللہ مدرسہ کی خدمت کرنا

مولانا مولیٰ بخش صاحب مدرسہ کے انتظام وانصرام سنبھالنے اور مذکورہ بالا جیسے کاموں کو حسب توفیق اپنے ہاتھوں انجام دینے کے ساتھ ساتھ روزانہ چار اسباق بھی پڑھاتے ہیں، اور معتبر ذرائع سے معلوم ہوا کہ مدرسہ سے کوئی تنخواہ وصول نہیں فرماتے، بلکہ ان کی فرمائش کے بغیر ان کے چند عزیز واقارب اور دوست واحباب ان کے ضروری راشن اور دیگر ضروریاتِ زندگی کا انتظام کرتے ہیں۔
مولانا کی مذکورہ ادا کو جان کر میری خوشی کی کوئی انتہاء نہ رہی، اس لیے کہ میرا خیال یہ تھا کہ حضرت مولانا مرغوب الرحمن صاحب سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند (متوفی: ۱۴۳۲ھ ) رحمہ اللہ کے وصال کے بعد شاید پھر کبھی زندگی میں کسی ایسے مخلص ودرویش صفت مہتمم کو دیکھنے کی نوبت پیش نہیں آسکے گی، جسے دیکھ کر مولانا مرغوب الرحمن صاحب اور ان کا مندرجہ ذیل جیسا کوئی واقعہ یاد آجائے:
واقعہ یہ ہے کہ ایک دفعہ حضرت مولانا مرغوب الرحمن صاحب کی زندگی میں ان کے پیش کار (سیکریٹری) جناب بابو محمد طاہر صاحب (متوفی: ۱۴۲۲ھ) رحمہ اللہ نے میرے دارالعلوم دیوبند کے قیام کے زمانہ میں مجھے براہِ راست بتایا کہ دارالعلوم دیوبند کے اندر مولانا مرغوب الرحمن صاحب سے سب سے زیادہ قریبی واسطہ میرا رہا ہے اور میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جب سے یہ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم بنے ہیں، آج تک انہوں نے مدرسہ کا ایک پان یا کوئی اور ایسی معمولی چیز بھی استعمال نہیں کی۔ دارالعلوم کے مہمان یا شوریٰ کے ارکان جب تشریف لاتے ہیں تو ان کا اکرام بھی مولانا مرغوب الرحمن صاحب اپنی جیب سے کرتے ہیں، اس لیے کہ مہمانوں کی دل جوئی کے لیے ان کے ساتھ کھانے پینے میں شریک ہونے کی ضرورت پڑتی ہے اور وہ یہ نہیں چاہتے کہ مدرسہ کا ایک لقمہ بھی ان کے استعمال میں آجائے، لہٰذا ان مہمانوں کا اکرام اپنے ہی خرچہ پر کرتے ہیں۔
حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ کے فیض یافتہ شاگرد مولانا مولیٰ بخش صاحب نے حضرت مولانا مرغوب الرحمن صاحبؒ اور ہمارے دیگر اکابرین کی یادتازہ کردی ہے۔ ان کو قریب سے دیکھ کر مجھے یہ خوشی ہوئی کہ الحمد للہ! کچھ نہ کچھ چُھپے ہوئے قلندر اب بھی اس زمانے میں موجود ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی تعداد میں اضافہ فرمادے۔

۴:-اپنے صاحبزادے کو کنٹرول میں رکھنا اور عملی تربیت دینا

مولانا مولیٰ بخش صاحب کے صاحبزادے مولانا سعید احمد صاحب جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے فاضل اور جامعہ امام ابوحنیفہؒ کے استاذ ہیں، وہ بھی روزانہ جامعہ امام ابوحنیفہؒ میں چار اسباق پڑھاتے ہیں اور مستونگ شہر کی ایک مسجد میں امام بھی ہیں۔ مولانا نے اپنے بیٹے کی اس طرح تربیت کی ہے کہ مجھے باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا کہ وہ ایک ادنیٰ خادم کی طرح مدرسہ اور طلبہ کی خدمت کرتے ہیں، چنانچہ جب طلبہ کے لیے کوئی بکرا آتا ہے تو قصائی والا کام بوقتِ ضرورت خود کرتے ہیں، بکرے کو ذبح کرکے کھال اُتارتے ہیں اور پھر اُسے کاٹ کر طلبہ کے حوالے کردیتے ہیں اور اگر باتھ روموں کی پانی کی لائنوں میں کوئی خرابی پیدا ہوجائے تو اوزار لے کر کھدائی کرنے اور اسے درست کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے اور اسی طرح مدرسہ اور طلبہ کی ہر خدمت میں حسبِ موقع وضرورت حصہ لیتے ہیں۔
کمال کی بات یہ ہے کہ تدریس اور مذکورہ تمام خدمات کے عوض حضرت مولانا مولیٰ بخش صاحب مدظلہم اپنے ہونہار اور باکمال بیٹے مولانا سعید احمد صاحب کو مدرسہ کی طرف سے کوئی تنخواہ نہیں دیتے، بلکہ ان سے کہتے ہیں کہ تمہارے پاس ایک مسجد کی امامت کی ذمہ داری موجود ہے، جس کی تنخواہ تمہیں ملتی ہے، اسی پر گزارہ کرو، باکمال وسعادت مند فرزند نے بھی اپنے خداترس ودرویش صفت والد ماجد کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کیا ہوا ہے۔
مولانا مولیٰ بخش صاحب کی مذکورہ بالا ادا کو دیکھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ وہ ہمیشہ اس بات کو مدنظر رکھتے ہیں کہ مدرسہ اور اس کی مالیات قوم کی امانت ہے، جس کی دیکھ بھال وحفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے ان پر عائد کی ہے، لہٰذا اگر انہوں نے دیانت داری وامانت داری اور اخلاص وللہیت کے ساتھ اس کی خدمت کی تو اللہ تعالیٰ کے یہاں اجر عظیم پائیں گے، اور اگر خداناخواستہ انہوں نے خود بے احتیاطی کی یا اپنی اولاد کو مدرسہ کے معاملات میـں بے لگام چھوڑ دیا، تو یہی مدرسہ معاذ اللہ! ان کے لیے اور ان کی اولاد کے لیے تباہی وبربادی کا ذریعہ بنے گا۔

۵:- مدرسہ میں درجہ سادسہ تک کی تعلیم پر اکتفاء کرنا

مولانا مولیٰ بخش صاحب کے مدرسے میں درجہ سادسہ تک کی تعلیم کا انتظام ہے۔ موقوف علیہ اور دورۂ حدیث کے لیے اپنے طلبہ کو جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی یا دیگر بڑے مدارس میں اس مقصد کے تحت بھیجتے ہیں کہ ان کے بقول وہاں کا تعلیمی وتربیتی نظام بہت مضبوط اور طلبہ کے لیے مفید ہے، لہٰذا طلبہ کے حق میں بہتر یہ ہے کہ وہ فراغت ان بڑے مراکز سے حاصل کرکے اپنی نسبت ان سے جوڑدیں، حالانکہ مولانا کا میابی کے ساتھ حدیث پڑھا سکتے ہیں اور ان کے پاس دیگر مخلص اور باصلاحیت اساتذۂ کرام بھی موجود ہیں، جو اُن کے ساتھ مل کر درجہ موقوف علیہ اور درجہ دورۂ حدیث کو کامیابی سے ہم کنار کرسکتے ہیں، میں نے خود بھی ان سے گزارش کی کہ آپ اپنے مدرسے کو دورۂ حدیث تک لے جائیں، تاکہ آپ کی نگرانی میں کچھ مخلص ومتقی افراد تیار ہوتے رہیں، لیکن وہ اللہ کے مخلص بندے شاید اس بات سے گریز کرنا چاہتے ہیں کہ لوگ انہیں شیخ الحدیث کے نام سے یاد کریں۔
مولانا کی اس عادت وجذبے کو جان کر ان حضرات کو اپنے طرزِ عمل پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے جو چھوٹے چھوٹے مدارس قائم کرتے ہیں اور ابتدائی درجات میں بہتری لائے بغیر درجۂ دورۂ حدیث تک اُنہیں لے جاتے ہیں اور پھر غیر معیاری افراد کو حدیث پڑھانے کے لیے بٹھادیتے ہیں، جس سے تعلیم وطلبہ کا بے حد نقصان ہوجاتاہے۔

۶:- گمنامی اور یکسوئی کے ساتھ کام کرنے کو ترجیح دینا

مولانا مولیٰ بخش صاحب کی ایک عادت یہ سامنے آئی کہ وہ گمنامی اور یکسوئی کے ساتھ دین کی خدمت کو ترجیح دیتے ہیں، تشہیر اور دکھلاوے کو بالکل پسند نہیں فرماتے۔ مجھے جب ان کی بعض قابلِ رشک عادتوں کا علم ہوا اور دل دل میں یہ مناسب سمجھا کہ اپنے فائدے اور دوسرے دوست واحباب اور اہلِ علم حضرات کے فائدے کی خاطر انہیں قلمبند کرنے کی کوشش کروں! تو اس مقصد کے تحت میں نے سنجیدگی کے ساتھ ان سے کچھ ان کی ذاتی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی، ان کو شاید یہ اندازہ ہوگیا کہ میں ان کے بارہ میں کچھ لکھنا چاہتا ہوں تو انہوں نے معلومات دینے سے معذرت کرتے ہوئے بات کا رُخ دوسری طرف موڑدیا، میں نے بھی اصرار کرنا مناسب نہیں سمجھا اور مذکورہ معلومات دیگر باوثوق وبااعتماد ذرائع سے حاصل کیں، جس کے لیے مجھے کافی محنت بھی کرنی پڑی۔ تشہیر ودکھلاوے سے مولانا کے اجتناب ونفرت کو دیکھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مندرجہ ذیل دو حدیثوں اوران جیسی دیگر حدیثوں کو ہمیشہ پیش نظر رکھتے ہیں:

پہلی حدیث

’’عن جندب ؓ قال قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم : من سَمَّعَ سَمَّعَ اللّٰہ بہ ومن یُرائی یُرائی اللّٰہ بہٖ‘‘ 
’’جس نے تشہیر کے لیے کام کیا اللہ تعالیٰ اس کی برائیوں کی تشہیر کرائے گا اور جس نے دکھلاوے کے لیے کام کیا اللہ تعالیٰ اس کو سرِ عام رسوا کرے گا۔‘‘ (بخاری شریف،ج:۲،ص:۹۶۲)

دوسری حدیث

’’عن انس ؓ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: بحسب امرئ من الشر أن یُشار إلیہ بالأصابع فی دین أو دنیا إلا من عصمہ اللّٰہ۔‘‘ 
’’انسان کے لیے یہی برائی (آزمائش) کافی ہے کہ دینی یا دنیوی وجاہت کی وجہ سے ان کی طرف انگلیوں سے اشارے کیے جارہے ہوں (اس لیے کہ ایسی صورت میں فتنوں میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتاہے) مگر وہ شخص جس کو اللہ نے محفوظ رکھا۔‘‘ (مشکوٰۃ شریف،ج:۲،ص:۴۵۵، بحوالہ شعب الایمان للبیہقی)
آخر میں راقم الحروف عرض کرتا ہے کہ دینی اداروں کے ذمہ داران حضرات کو جہاں اللہ تعالیٰ نے دین کی خدمت کرنے کا ایک بے بہا موقع عنایت فرمایا ہے، وہاں انہیں ایک آزمائش میں بھی مبتلا کردیا ہے، اگر انہوں نے اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے امانت داری ودیانت داری کے ساتھ مہمانانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی تو قیامت کے دن ان شاء اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت اور بڑا مقام اُنہیں نصیب ہوگا، اور اگر خداناخواستہ انہوں نے ان مدارس کو اپنی ذاتی جائیداد کی طرح تصور کرتے ہوئے اپنی ذاتی اغراض ومقاصد کے لیے استعمال کیا اور مہمانانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ان ہی کے نام پر تعاون کرنے والے مخلصین کی حق تلفی کی اور انہوں نے قیامت کے دن اللہ کے دربار میں ان کے خلاف مقدمہ دائر کردیا تو وہ ان کے لیے سخت رسوائی کا دن ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اخلاص وہدایت نصیب فرمائیں۔
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے