بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 ربیع الثانی 1441ھ- 09 دسمبر 2019 ء

بینات

 
 

حرام اور ناپاک اشیاء سے تیار کردہ فیڈ کا حکم!

حرام اور ناپاک اشیاء سے تیار کردہ فیڈ کا حکم!

کیا فرماتے ہیں علمائے دین، مفتیان کرام ان مسائل کے بارے میں کہ: ۱- جو جانور بغیر ذبح کیے مرجائے، مثلاً مردہ مرغی یا مردہ بکرا یا مردہ گائے تو کیا اس کا بیچنا جائز ہے؟ اسی طرح بعض مذبح خانوں میں ذبح کرتے وقت بہنے والا خون جمع کرکے فروخت کیا جاتا ہے اور جانوروں کی انتڑیاں اور وہ اجزاء جن کا کھانا جائز نہیں ہے وہ فروخت کیے جاتے ہیں، ان کا بیچنا جائز ہے یا نہیں؟ ۲- مرغیوں کے لیے جو غذا تیار کی جاتی ہے، اس میں اکثر وبیشتر جانوروں کا خون، انتڑیاں اور مری ہوئی مچھلیاں شامل ہوتی ہیں اور بعض درآمد شدہ مرغیوں کی غذا میں خنزیر کے اجزاء بھی شامل ہوتے ہیں۔ الف- کیا مرغی خانہ کے مالکان کو قصداً مرغیوں کو ایسی حرام غذا کھلاناجائز ہے؟ کیا ان مرغیوں کو ’’دجاجہ مخلاۃ‘‘ پر قیاس کیا جاسکتا ہے؟ ب- کیا مرغی کی غذا بنانے والے صانعین (Manufactures)کو مرغی کی غذا میں ایسے حرام اجزاء کا استعمال جائز ہے؟ ۳- اکثر اوقات کھانے پینے کی اشیاء میں چکن پاؤڈر استعمال کیا جاتا ہے، اس چکن پاؤڈر کے بناتے وقت بعض اوقات مصنوعی اجزاء استعمال کیے جاتے ہیں اور بعض اوقات مرغی کی انتڑیاں اور مذبح خانے سے حاصل ہونے والے مرغیوں کے مختلف اجزاء سے بنایاجاتاہے اور ان انتڑیوں کو اُبال کر انہیں خشک کرکے پاؤڈر بنالیا جاتا ہے۔ الف-کیا ایسے چکن پاؤڈر کا استعمال جائز ہے؟ ب-کیا اگر یہ غیر مذبوحہ (مردہ) مرغی کی انتڑیاں استعمال ہوں تو کیا ان کا استعمال جائز ہے؟ ج- کیا چکن پاؤڈر بنانے والے صانعین (Manufactures) کے لیے غیر مذبوحہ مرغی کی انتڑیاں استعمال کرنا جائز ہے یا مردہ مرغی استعمال کرنا جائز ہے؟ جبکہ یہ بات معلوم ہے کہ بالآخر یہ پاؤڈر کی شکل اختیار کرجائے گی۔                                               مستفتی:سرفراز حمید الجواب حامدًا ومصلیًا ۱:۔۔۔۔۔۔ صورتِ مسئولہ میں مردار جانوروں کو فروخت کرنا جائز نہیں، نیز جانوروں کے خون کو جمع کرکے بیچنا بھی حرام ہے۔’’تنویر الأبصار مع الدر المختار‘‘ میں ہے: ’’(بطل بیع ما لیس بمال (کالدم) المسفوح ۔۔۔۔۔۔ (والمیتۃ)۔۔۔۔۔ ولافرق فی حق المسلم بین التی ماتت حتف أنفہا أو بحنق ونحوہ)۔‘‘                                              (فتاویٰ شامی، باب البیع الفاسد،ج: ۵،ص:۵۱) واضح رہے کہ مذبوحہ جانور کے جسم کے سات اجزاء (یعنی: بہنے والا خون، نرجانور کا آلہ تناسل، کپورے، مادہ جانور کے پیشاب کی جگہ،گلٹی [یعنی سخت گوشت کا وہ ٹکڑا جو کھال اور نرم گوشت کے درمیان اُبھر آتا ہے] مثانہ اور پتہ )کے علاوہ باقی تمام اجزاء کا کھانا اور بیچنا حلال ہے۔فتاویٰ شامی میں ہے: ’’ما یحرم أکلہٗ من أجزاء الحیوان المأکول سبعۃ: الدم المسفوح والذکر والأنثیان والقبل والغدۃ والمثانۃ والمرارۃ، بدائع ۔‘‘                                     (فتاویٰ شامی، قبیل کتاب الاضحیۃ،ج:۶،ص:۳۱۱) ۲:۔۔۔۔۔۔ مرغی کی غذاء کی تیاری میں حرام ونجس اجزاء مثلاً خون ، خنزیر کے اجزاء یا مردار کے گوشت کی شمولیت کی ہمارے علم کے مطابق رائج دو صورتیں ہوتی ہیں:  پہلی صورت:۔۔۔۔۔۔۔ غذا کی تیاری میں حرام ونجس اجزاء کو اس طور پر شامل کیاجاتا ہے کہ ان اجزاء کی حقیقت وماہیت میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آتی، یہ اجزاء کے ساتھ خلط (مکس) ہوجاتے ہیں (جس طرح سے آٹے کو شراب سے گوندھ دیا جائے تو شراب کی حقیقت میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوتی، بلکہ وہ آٹے کے ساتھ اپنی تمام خصوصیات کے ساتھ مکس ہوجاتی ہے) تو اس قسم کی غذاء کا حکم یہ ہے کہ نجس وحرام اجزاء کے ملنے کی وجہ سے یہ غذاء بھی حرام ہے اور ان کا بیچنا اور مرغیوں کو کھلانا بھی ناجائز ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَمَا أُہِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہِ۔‘‘ (البقرۃ:۱۷۳) تبیین الحقائق میں ہے: ’’لم یجز بیع المیتۃ والدم والخنزیر والخمر۔‘‘ (تبیین الحقائق،ج:۴،ص:۳۶۲، دار الکتب العلمیۃ) البحر الرائق میں ہے: ’’وأما خنزیر فشعرہٗ وعظمہٗ وجمیع أجزائہٖ نجسۃ۔‘‘    (البحرالرائق،ج:۱،ص:۱۹۱) دوسری صورت:۔۔۔۔۔۔۔ غذاء کی تیاری میں حرام ونجس اجزاء کو اس طور پر شامل کیاجاتا ہے اور مختلف کیمیائی مرحلوں سے اس طور پر گزارا جاتا ہے کہ ان حرام ونجس اجزاء کی اصلی حقیقت وماہیت میں تبدیلی پیداہوجاتی ہے اور ان کا سابقہ نام اور خاصیت نئے نام اور خاصیت میں تبدیل ہوجاتے ہیں (جس طرح سے شراب کو سرکہ بنانے سے شراب کی حقیقت اپنی تمام خصوصیات کے ساتھ ختم ہوکر حقیقتِ سرکہ میں بدل جاتی ہے) تو ا س قسم کی تبدیلی کے بعد تیار کی گئی غذاء کا استعمال شرعاً مباح ہے۔ ’’تنویر الأبصار مع الدر المختار‘‘ میں ہے: ’’(و) یطہر (زیت) تنجس ( بجعلہ صابونا)  بہٖ یفتی للبلوٰی کتنور رش بماء نجس لابأس بالخبز فیہ۔‘‘       (فتاویٰ شامی،باب الأنجاس،ج:۱،ص:۳۱۵) فتاویٰ شامی میں ہے: ’’ثم ہذہٖ المسئلۃ قد فرعوہا علی قول محمدؒ بالطہارۃ بانقلاب العین الذی علیہ الفتویٰ واختارہٗ أکثر المشائخ خلافًا لأبی یوسفؒ کمافی شرح المنیۃ والفتح وغیرہما۔‘‘       (فتاویٰ شامی، باب الانجاس،ج: ۱،ص:۳۱۶) وفیہ أیضا: ’’ثم اعلم أن العلۃ عند محمدؒ التغیر وانقلاب الحقیقۃ وأنہٗ یفتٰی للبلوٰی کما علم لما مر، ومقتضاہ عدم اختصاص ذٰلک الحکم بالصابون فیدخل فیہ کل ما کان فیہ تغیر وانقلاب حقیقۃ وکان فیہ بلوی عامۃ۔‘‘                                         (فتاویٰ شامی،باب الانجاس،ج: ۱،ص:۳۱۶) الف- صورتِ مسئولہ میں مرغی خانہ کے مالکان کے لیے حرام ونجس اجزاء کی شمولیت سے تیار کردہ غذاء کھلانا جائز نہیں اور ایسی غذاء کو فروخت کرکے نفع کمانا بھی ناجائز ہے، البتہ جن مرغیوں کو ایسی غذاء کھلائی گئی ہے ان کے بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ اگر ان کے گوشت میں کسی قسم کی بدبو پیدا نہیں ہوئی ہے تو اس صورت میں ان مرغیوں کو کھانا جائز ہوگا اور اگر مذکورہ غذاء کی وجہ سے ان کے  گوشت میں بدبو پیدا ہوگئی ہو تو جب تک بدبو زائل نہیں ہوجاتی اس وقت تک ایسی مرغیوں کو کھانا جائز نہیں ہوگا، جیساکہ’’ تنویر الأبصار مع الدر المختار‘‘ میں ہے: ’’وکرہ (لحمہما) أی لحم الجلالۃ والرمکۃ وتحبس الجلالۃ حتی یذہب نتن لحمہا ولو أکلت النجاسۃ وغیرہا بحیث لم ینتن لحمہا حلت الخ ۔‘‘                                        (فتاویٰ شامی: کتاب الحظر والاباحۃ،ج:۶،ص:۳۴۰) فتاویٰ شامی میں ہے: ’’وفی المنتقٰی الجلالۃ المکروہۃ التی إذا قربت وجدت منہا رائحۃ فلاتؤکل۔‘‘                                                       (فتاویٰ شامی ،ج:۶،ص:۳۴۱) وفیہ ایضا ’’قال السرخسیؒ: الأصح عدم التقدیر وتحبس حتی تزول الرائحۃ المنتنۃ۔‘‘                                                                            (فتاویٰ شامی ،ج:۶،ص:۳۴۱) ب- مرغی کی غذا کی تیاری میں نجس وحرام اجزاء شامل کرنا جائز نہیں، لہٰذا مرغیوں کی غذا تیار کرنے والے حضرات ایسے اجزاء ہرگز شامل نہ کریں۔ ۳:۔۔۔۔۔۔ الف- جواب نمبر:۱ میں ذکرکردہ سات چیزوں کے علاوہ مذبوحہ جانور کے باقی تمام اجزاء کا استعمال جائز ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر چکن پاؤڈر بنانے والی کمپنیاں مذبوحہ مرغیوں کے حلال اجزاء کو مناسب ترکیب کے ذریعہ پاؤڈر بناتی ہیں تو ان کا استعمال جائز ہوگا، البتہ اگر مردار مرغیوں کے اجزاء سے چکن پاؤڈر تیار کرتی ہیں تو ان کا استعمال ناجائز ہوگا۔ ب- جائز نہیں۔ ج- جائز نہیں۔                                              فقط واللہ اعلم

                الجواب صحیح                  الجواب صحیح                          کتبہ            محمد عبد المجید دین پوری           محمد عبد القادر                     سید مزمل حسن                                                                       تخصصِ فقہِ اسلامی                                                                جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے