بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 11 نومبر 2019 ء

بینات

 
 

انشورنس کی اسلام کاری! نیا اور پرانا طرز

انشورنس کی اسلام کاری! نیا اور پرانا طرز 

الحمد للّٰہ رب العٰلمین والصلٰوۃ والسلام علٰی سید المرسلین وعلٰی آلہٖ وصحبہٖ أجمعین، أما بعد! انشورنس ‘ درحقیقت کاروبار کا ایک ایسا طریقہ ہے جس میں بیمہ پالیسی خریدنے والے شخص کو مستقبل کے خطرات کے تحفظ اور غیرمتوقع نقصانات کی تلافی کی ضمانت دی جاتی ہے۔ اس کاروبار کے تاریخی تسلسل کے ابتدائی سرے بعض مؤرخین نے ۶۰۰ قبل مسیح سے بھی بتائے ہیں، مگر زیادہ مشہور یہی ہے کہ تجارتی سامان کی بحری ترسیل کے دوران سامان کی حفاظت اور نقصانات کی تلافی کے لیے باقاعدہ پہلا معاہدہ تقریباً ۱۳۴۷ء میں کیا گیا اور اس نوعیت کے معاہدات اُنیسویں صدی میں مستقل ومستحکم انداز سے انجام پانے لگے اور پوری دنیا میں تقریباً عام ہوگئے اور بین الاقوامی تجارت کے لیے ناگزیر سمجھے جانے لگے۔ اس شیوع اور عموم کے نتیجے میں مسلمان تاجر تجارتی نفع اندوزی کے طمع ولالچ میں یا مجبوری کی بنا پر انشورنس کی طرف متوجہ ہوئے تو مسلمان تجارکے ذریعہ مسلمان فقہاء کے سامنے انشورنس کی رائج الوقت شکل پیش ہوئی اور فقہاء کرام نے اس کے حکم کی تفصیلات بتائیں۔ ہمارے فقہاء میں سے علامہ ابن عابدین محمد امین الشامیؒ (متوفیٰ:۱۲۵۲ھ) تقریباً پہلے محقق ہیں جو انشورنس کی روایتی شکل اور اس کے فقہی حکم کو اپنے حاشیہ ’’رد المحتار علی الدر المختار‘‘ میں ’’باب المستأمن‘‘ کے تحت ’’سوکرہ‘‘ کے عنوان سے زیربحث لائے ہیں اور آخر میں ارشاد فرمایا کہ: ’’والذی یظہر لی أنہٗ لایحل للتاجر أخذ بدل الہالک من مالہٖ لأن ہذا التزام مالایلزم۔‘‘                                               (ج:۴،ص:۱۷۰، ط: بیروت) انشورنس کی بابت خاتمۃ المحققین علامہ ابن عابدین v کا یہ پہلا فتویٰ حنفی فقہاء کے ہاں پہلا اور آخری تحقیقی موقف تھا، اسی بناپر انشورنس کے بارے میں فقہاء احناف‘ تقریباً ہر زمانے میں عدمِ جواز کے قائل رہے ہیں اور انشورنس کو ناجائز ہی بتاتے چلے آرہے ہیں۔ فقہاء احناف کو انشورنس کے حرام ہونے میں کبھی تردد یا تأمل نہیں ہوا۔  مگربعض عرب علماء کرام ایسے بھی گزرے ہیں کہ جنہوں نے انشورنس کے عالمی پھیلاؤ، تجارت کے لازمی جزء اور خطرات وضمانات کی تلافی کی معقولیت کی بنیاد پر انشورنس کو خلافِ اسلام کہنے کی بجائے اسلامی افکار ومزاج سے ہم آہنگ قرار دیا اور اس موقف کے لیے انہوںنے اپنا علمی وقلمی زور بھرپور انداز سے استعمال فرمایا، ایسے عرب علماء میں مفتی اعظم فلسطین سید امین الحسینی، استاذ حلّاف اور استاذ مصطفی الزرقاء بطورِ خاص یاد کیے جاتے ہیں۔ استاذ مصطفی الزرقاء نے ’’عقدالتأمین وموقف الشریعۃ‘‘ کے عنوان سے باقاعدہ تحریر لکھی جس میں انشورنس کی اہمیت وضرورت اور فقہ اسلامی میں اس کے جوازی دلائل بڑی قوت سے پیش فرمائے۔ استاذ ابوزہرہ مصریv نے اگرچہ استاذ زرقاء کا جواب دینے کی بھرپور کوشش فرمائی اور ان کے فلسفیانہ مفروضوں اور فقہی دلائل کا بھرپور انداز سے جواب دیا، لیکن مصطفی الزرقاء اور ان کے ہم نوا دیگر اہل علم کی یہ تحریری کاوش اسلامی مفکرین کے بیچ اپنے اچھے خاصے اثرات چھوڑگئی۔ من جملہ یہ کہاجانے لگا کہ انیسویں صدی کا مغربی صنعتی انقلاب چونکہ دنیا پر حاوی ہوچکا ہے، اس لیے مغرب اور اسلام کے درمیان تقریب کا راستہ یہی ہے کہ مغربی تجارتی شکلوں کو ان کے لوازمات کے ساتھ اسلام سے ہم آہنگ کیا جائے اور اس کے لیے فقہ اسلامی سے ایسی تخریجات کی جائیں جو مغربی فکروفلسفہ کے سانچوں میں ڈھلی ہوئی سرمایہ کاری کی شکلوں کو اسلامی کہہ کر اپنانے میں معاون ثابت ہوں، ورنہ دنیا کی صنعتی ترقی میں مسلمان شریکِ سفر نہیں ہوسکتے، لہٰذا اس عالمی اقتصادی ضرورت کے تحت لامحالہ مسلمانوں کو مغرب سے آئی ہوئی تجارتی شکلوں اور ان کے لوازم کی اسلام کاری کرنی پڑے گی۔ اسی نظرئیے کے تحت شیخ زرقاء کے معاصر استاذ حلاف وغیرہ نے تو یہ موقف اپنایا کہ بیمہ مطلقاً جائز ہے اور کئی عرب وغیرعرب علماء ان کی رائے کے ہم نوا بھی بنتے چلے گئے اور بیمہ کے مطلق جواز کا ایک نظریہ بھی قائم ہوگیا، چنانچہ بایں طور انشورنس کی اسلام کاری کا رواج چل پڑا۔ البتہ عام مجوزین نے وہی طریقہ اپنایا جو استاذ زرقاء نے متعارف کرایا تھا۔ ان کی پیروی اور نقالی میں پاک وہند کے بعض نامی گرامی لوگ بھی اس فکری تجدد کا شکار ہوکر مغرب کے مقلد بن بیٹھے اور انہوں نے استاذ زرقاء والے عربی مضامین کو اردو زبان میں ڈھالا اور اپنی تحقیقات کرکے اسلامیانِ ہند کے سامنے انشورنس کی اسلام کاری کا فریضۂ نامرضیہ انجام دیا۔ لیکن اس وقت کے اکابر نے انشورنس کی اس اسلام کاری کے رَد میں بھرپور کردار ادا فرمایا۔ حضرت مفتی اعظم مفتی محمد شفیع v اور حضرت مفتی اعظم مفتی ولی حسن ٹونکی v کی تحریروں کا مجموعہ ’’بیمۂ زندگی‘‘ کے نام سے مطبوع ومتداول ہے، جس کا بنیادی ہدف یہی تھا کہ انشورنس کو اپنی جمیع خصوصیات کے ساتھ لازمی قرار دینے والی فکر اور اُسے ہر حال میں فقہی تخریج سے آراستہ کرکے عوام الناس کے لیے علمی سند بنانا شرعاً غلط ہے۔ مغربی تجارتی شکلوں کی اسلام کاری کا یہ انداز ہمارے فقہاء کا نہیں بلکہ بعض مصری وشامی علماء کا انفرادی شذوذ ہے، جو اصولاً لائق تقلید نہیں ہے۔ مفتی ولی حسن صاحبv لکھتے ہیں: ’’ان علماء کا کردار بھی قابل مذمت ہے جو یورپ کے ماہر اقتصادی نظام کی چند خوبیاں اور خوشنما پہلوؤں کو دیکھ کر جواز اور حلت کا فتویٰ دینے میں جری ہیں۔‘‘                                          (جواہر الفقہ،ج:۴، ص:۴۹۱،ط:مکتبہ دارالعلوم کراچی) حضرت مفتی اعظم مفتی محمد شفیع صاحبv فرماتے ہیں: ’’بعض تجدد پسند علماء عصر نے اس (انشورنس) کو امدادِ باہمی کا معاہدہ قراردے کر مولیٰ الموالات کے احکام پر قیاس فرمایا ہے، وہ قیاس مع الفارق ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ درحقیقت مروجہ بیمہ کو امدادِ باہمی کہنا اِک دھوکہ ہے اور بیمہ اور سٹہ سے سودی کاروبار پر آنے والی نحوست کو پوری قوم کے سرڈالنے کا ایک خوبصورت حیلہ ہے۔‘‘                                          (جواہر الفقہ،ج:۴،ص:۴۷۱، ط:مکتبہ دارالعلوم کراچی) الحمد للہ! انشورنس کی اسلام کاری کے اس طرزِ عمل کی روک تھام کرنے میں ہمارے اکابر اس حد تک سرخرو ہوکر نکلے کہ انشورنس کو اپنے اغراض واہداف اور خصائص ولوازم کے ساتھ اسلامیانے کے لیے علماء کے طبقہ میں سے کسی نے پھر ہمت نہیں کی اور انشورنس کو اپنے نام اور کام کے ساتھ کسی نے جائز ہونے کا فتویٰ نہیں دیا۔جنہوں نے انشورنس کو اس کے نام وکام کے ساتھ جائز بتانے کی کوشش کی، وہ خیانت ودروغ گوئی کی نت نئی بے ساکھیوں کا سہارا لیتے رہے، مگر منزل یاب نہ ہوسکے۔ لیکن انشورنس کے بھوت سے جس طرح دنیا واگزار نہیں ہوسکی، اسی طرح انشورنس کی اسلام کاری کے جذبات، اس کی فکر اور اس کے لیے زرقائی طرز کی عملی کوشش کسی نہ کسی حد تک زندہ رہی، بلکہ جسدِ اسلامی کے لیے اس اندرونی پھوڑے کی مانند زندہ رہی جو ایک مقام پر مداوا کے بعد دوسرے مقام سے نیا منہ لے کر نمودار ہو جاتا ہو۔ چنانچہ انشورنس کی اسلام کاری کی زرقائی انداز کی کوشش‘ تقریباً ۱۹۷۰ئ- ۱۹۷۹ء میں سوڈان اور بحرین میں پہلی ’’تکافل کمپنی‘‘ کے نام سے صفحۂ عالم اسلام پر دوبارہ نمودار ہوئی۔ اس تکافل کمپنی کا بنیادی ہدف بھی یہی تھا کہ انشورنس کے عالمی جال میں پھنسی ہوئی اُمتِ مسلمہ انشورنس کے اہداف ومقاصد کیسے حاصل کرے، مسلمان اپنے تجارتی اسفار اور سامان میں راستے کے خطرات اور مستقبل کے نقصانات سے کس طرح نمٹیں؟ یہ اہداف فکری اعتبار سے انشورنس سے ممتازتو نہیں بلکہ یکساں تھے، البتہ اسمی اعتبار سے دونوں میں امتیاز صاف ظاہر ہے ایک انشورنس ہے اور دوسرا ’’تکافل‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اس لیے مسلمان تاجر اول وہلہ میں یہاں انشورنس کے مقاصد کے لیے انشورنس کے نام پر چونکنے سے بچ گیا اور اس کی سماعتیں انشورنس کے کریہہ لفظ کو سننے سے محفوظ رہیں، مزید یہ کہ ’’تکافل‘‘ خود چونکہ عربی کا لفظ ہے، عربی زبان والے جانتے ہیں کہ تکافل آپس میں ذمہ داریوں کے تبادلے اور تناؤب (باریاں لینے)کا نام ہے اور غیرعربی مسلمانوں کے لیے ’’تکافل‘‘ کے اسلامی ہونے کے لیے ’’تکافل‘‘ کا عربی لفظ ہونا ہی پہلی دلیل ہے، اب عربوں کے علاوہ عجمیوں بالخصوص برصغیر میں اور ہمارے ہاں تکافلی کمپنیوں کے جوازوعدم جواز کا مسئلہ زیربحث آیا اور سوڈان وبحرین اور ملائیشیا وغیرہ میں تکافل کے نام سے انشورنس کی اسلامائزیشن کا جو نیادور چلا تھا، اس کا جائزہ لینے کے لیے اہل علم متوجہ ومتفکر ہوئے، چنانچہ ۲۰۰۲ء میں مرکز الاقتصاد الاسلامی کراچی نامی ایک ادارے کے لیٹر ہینڈ پر ’’شرکات التکافل پر چند ملاحظات‘‘ کے عنوان سے چند ورقی ایک تحریر سامنے آئی، جس میں یہ ظاہر کیا گیا تھا کہ فی زمانہ مشرقِ وسطیٰ اور ملائیشیا وغیرہ کے بعض علماء نے ’’شرکات التکافل‘‘ کے نام سے فقہی بنیادوں پر انشورنس کے مقاصد کو اسلامی اصولوں کے مطابق حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان علماء نے تبرع اور ہبہ بشرط العوض کی بنیاد پر انشورنس کی اسلام کاری کی کوشش کی ہے اور اپنے موقف کی صحت پر دلائل بھی قائم کیے ہیں، مگر ان علماء عرب کی تحقیقات اور استدلالات پر ہمارے ایک موقر بزرگ حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی زید مجدہم کو کچھ ملاحظات اور تحفظات ہیں اور یہ تحریر درحقیقت حضرت عثمانی زیدمجدہم کے تحفظات وملاحظات کو اہل علم کے سامنے پیش کرنے کے لیے حضرت ہی کے نام سے لکھی گئی تھی، اور اس تحریر میں اہل علم سے استدعا کی گئی تھی کہ آپ حضرات ان ملاحظات کو بھی دیکھیں اور اس نظام سے متعلق اپنی علمی آراء کو مرتب بھی فرمائیں، تاکہ اگلے مرحلے میں ان پر بحث وتمحیص ہوسکے اور کوئی مفید علمی نتیجہ برآمد ہوسکے۔ ’’شرکات التکافل‘‘ سے متعلق حضرت مفتی محمد تقی عثمانی زید مجدہم کے ملاحظات پر مشتمل مذکورہ تحریر ہمارے شیخ حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہید v کے پاس بھی بھیجی گئی تھی اور حضرت نے اس پر مقالہ بھی پیش فرمایا تھا، اس مقالے میں دو باتیں بنیادی تھیں: ۱:… یہ کہ مرجہ تکافلی کمپنیوں سے متعلق حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہم نے جو ملاحظات واشکالات اٹھائے ہیں وہ واقعۃً درست ہیں، گویا کہ اس وقت تک تکافلی کمپنیوں کی جو فقہی بنیادیں سامنے آئی تھیں وہ روایتی انشورنس کی ایسی تخریج ہے جسے فقہی تکییف وتطبیق نہیں کہا جاسکتا۔ لہٰذا ۱۹۷۹ء سے جو تکافلی نظام متعارف ہوکر آرہا تھا وہ قابلِ اشکال ہے، بلکہ ۲۰۰۲ء کی مجلس نے واضح طور پر کہا کہ ’’مروجہ تکافل کمپنیوں کی بنیاد پالیسی ہولڈرزکی طرف سے تبرع پر رکھی گئی ہے اور یہ کہا گیا تھا کہ مجلس محسوس کرتی ہے کہ وقف کے بغیر ’’تبرع‘‘ کی بنیاد پر تکافل کمپنیوں کے قیام میں متعدد اشکالات ہیں۔ ‘‘                                                            (تکافل کی شرعی حیثیت،ص: ۱۳۶)  اس بناپر یہ کہنے کی گنجائش ملتی ہے کہ مجوزہ مجلس کے زمانۂ انعقاد تک مجوزہ تکافل کے بارے میں اہل علم کے اشکالات رفع نہیں ہوسکے، نیز مولانا عثمانی زیدمجدہم نے جو اشکالات اُٹھائے تھے اور دیگر اہل علم نے ان اشکالات سے اتفاق بھی کیا تھا، تو پھر بحرین سے آیا ہوا ’’تکافلی نظام‘‘ تحفظات سے محفوظ شمار نہیں ہوسکے گا، یہ بدیہی امر ہے۔آگے اس مجلس کی طرف منسوب کرکے یہ کہنا کہ وقف پر مبنی تکافلی نظام اشکالات سے محفوظ قرار دیا جاسکتا ہے، اگر وقف پر مبنی تکافلی نظام کے بارے میں ۲۰۰۲ء سے تاحال کوئی وقیع فقہی اشکال سامنے نہیں آیا تو پھر مروجہ تکافلی نظام کو انشورنس کی اسلام کاری کے سابقہ طریقوں سے ممتاز قرار دینا چاہیے اور اگر سابقہ طریقوں کی طرح اب بھی اشکالات سامنے آتے ہیں یا پہلے سے زیادہ اشکالات سامنے آتے ہیں تو پھر مروجہ تکافلی نظام کو انشورنس کی اسلام کاری کے پرانے طریقوں سے زیادہ ابتر، بدتر اور افحش کہنے میں حرج محسوس نہیں ہونا چاہیے۔  ۲:… دوسری خاص بات اس تحریر کی یہ تھی کہ اسلام کی رو سے تکافل اپنے اصلی معنی کے لحاظ سے باہمی ذمہ داریاں بانٹ لینے کا نام ہے اور ضرر لاحق ہونے کی صورت میں ہاتھ بٹانا بھی عین اسلامی طرز و طریق ہے، اس مقصد کے حصول کے لیے ’’بیمۂ زندگی‘‘میں بیمہ کا جو متبادل حل حضرت مفتی ولی حسن v نے ارشاد فرمایا ہے، ہم اس قسم کے متبادل کے قائل ہیں، جس کا حاصل یہ بنتا ہے کہ تکافل کا مقصد انجمن امدادِ باہمی کے ذریعہ پورا کیا جاسکتا ہے، جسے بعد کے ادوار میں مختلف رفاہی ٹرسٹوں کی صورت میں عملاً اختیار بھی کیا جاچکا ہے اور اس وقت جتنے رفاہی ادارے اور ٹرسٹ کام کررہے ہیں، مختلف حادثات میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں، وہ سب تقریباً باہم امداد اور تعاون کی بنیاد پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور یہ ادارے چونکہ شخصی نفع اندوزی یا ملکیتی نہیں ہوتے بلکہ حقیقی تجارت پر مبنی نفع اندوزی کے ذریعہ بلاامتیاز امداد وتعاون کے نظریئے پر قائم ہوتے ہیں، اس لیے یہ ادارے وقف بھی کہلاتے ہیں۔  بہرکیف اکابر کے اس فتویٰ یا تحقیق سے اگر تکافل اور امدادِ باہمی کی انجمنوں کی نظریاتی بنیاد کے لیے استدلال کیا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں، البتہ ۲۰۰۲ء میں کراچی کے ایک معروف ادارے میں ’’تکافل‘‘ کے حوالے سے جو مجلس مشاورت ہوئی تھی، اس مجلس میں بھی تکافل کے جواز کے لیے ’’وقف‘‘ کا لفظ بکثرت دُہرایا گیا تھا اور وقف کی بنیاد پر تکافل کے قیام کو خواہش کے درجے میں کہیں کہیں اکابر کی طرف منسوب کرنے کی بازگشت بھی ہلکے پھلکے انداز میں سنائی دی جارہی تھی، مگر وقف کی بنیاد پر مروجہ ’’تکافل‘‘ اور اس تکافل کے قیام کو اکابر کی خواہش وکوشش سے بلاقید منسوب کرنا اس وقت سے تاحال ہمیں سمجھ نہیں آسکا، بلکہ دونوں باتوں میں ایہام اور تمویہ کی ایک منفرد مہک محسوس ہورہی تھی، جو مجوزین حضرات کی ہی نئی تحریر سے مزید بھینی ہوتی جارہی ہے۔اکابر کے بتائے ہوئے متبادل نظام پر کسی مستقل تحریر میں گفتگو کریں گے، اور کوشش کریں گے کہ اکابر کے کہے اور ہمارے بتائے ہوئے میں کوئی فرق ہے یا نہیں؟ ان شاء اللہ! تاہم وقف کی بنیاد پر تکافل میں ایہام کا پہلو تو خوب واضح ہے کہ وقف اِک شرعی وفقہی اصطلاح ہے، وقف کسی شخصی ملکیتی تصور کے بجائے غیرمرئی حقیقی طاقت کی ملکیت ہوتا ہے اور وقف خاص بھی ہوتا ہے اور عام بھی ہوتا ہے۔ نیز وقف تام ہونے کے بعد استفادہ کی نوبت آنے پر ہر موقوف علیہ (جن کے نام پر وقف کیا گیا ہے) استفادہ کرسکتا ہے اور اگر واقف موقوف علیہم کے قبیل سے ہو تو وہ بھی اپنے قبیل کے دیگر موقوف علیہم کی طرح مستفید ہوسکتا ہے۔ وقف سے متعلق یہ بنیادی تفصیل فقہ کی ہر کتاب میں درج ہے، اس سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا۔ جب یہ حقیقت ہر فقہی طالب علم کے لیے ناقابل انکار ہے تو اس حقیقت پر مبنی ’’تکافل‘‘ بھی ناقابل انکار ہونا چاہیے۔ مگر یہاں وقف پر تکافل کی بناء کا اِک تنقیحی پہلو بھی ہے،جس سے سہواً یا عمداً تعرض نہیں کیا گیا، بلکہ اس پہلو کی طرف جانے سے پہلو تہی کی جاتی ہے جس سے بظاہر یہی لگتا ہے کہ  وقف کی شرعی اصطلاح کو مجوزہ تکافل کے جواز کے لیے ڈھال بنایا جارہا ہے۔ محض ’’وقف‘‘ کے لفظ اور اس کی ذیلی جزئیات کے نام پر مروجہ تکافل کے شرعی ہونے کا شک ووہم پیدا کیا جارہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وقف کی بیان کردہ جزئیات اور تکافل ماڈل کی مبینہ صورت‘ جب اپنے طالب علم اور عام آدمی کے سامنے بیان کی جاتی ہے تو وہ تقلیداً، عقیدتاً اور احتراماً مجوزہ تکافل پالیسی کا حصہ بننے کے لیے آمادہ ہی نہیں، بلکہ سرگرم عمل بھی ہوجاتا ہے، مجوزین حضرات کو اس طبقے کے سامنے وقف پر مبنی تکافل کے تنقیحی پہلو سے تعرض کی حاجت تو پیش نہیں آتی، مگر یہ بات جب اربابِ فقہ وفتویٰ اور اصحابِ علم کے سامنے آتی ہے تو وہ وقف پر مبنی مجوزہ تکافل کے تنقیحی پہلوؤں کا سوال ضرور اُٹھاتے ہیں، چنانچہ ۲۰۰۲ء میں جب ’’مرکز الاقتصاد الاسلامی‘‘ کی دعوت پر جو فقہی مشاورتی مجلس منعقد ہوئی تھی، اس میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے مشہور اہل فتویٰ کے علاوہ شیخ عبد الستار ابوغدہ حفظہٗ اللہ بھی شریک مجلس تھے۔ اس مجلس میں ہمارے ہاں سے حضرت اقدس مولانا ڈاکٹر مفتی نظام الدین شامزی شہید v شریک تھے، جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی سے مولانا مفتی عبدالباری شریک تھے، جبکہ کراچی سے باہر کے حضرات میں سے حضرت مولانا مفتی عبدالستار صاحب v رئیس دارالافتاء جامعہ خیرالمدارس ملتان بطور خاص شریک تھے۔ اس مجلس میں اہل علم نے یہ سوال اُٹھایا تھا کہ مجوزہ تکافل کے لیے بنیادی طور پر جو ’’وقف فنڈ‘‘ قائم ہوگا، وہ کیسے قائم ہوگا؟ اس کے واقف کون ہوں گے؟ متولی کون ہوگا؟ وغیرہ وغیرہ، اس کا جواب یہ تھا جو‘ اَب تحریروں میں بھی آچکا ہے کہ ابتدائی طور پر چند حضرات مل کر شراکت داری کے اصولوں کے تحت قانونی طور پر ایک تکافل کمپنی بنائیں گے، جس کی حیثیت ’’شخص معنوی‘‘ کی ہوگی، پھر وقف کے ارکان :واقف، موقوف علیہ اور متولی وغیرہ کے قواعد مرتب ہوں گے، پھر صاحبانِ حصص (بانیانِ کمپنی)ایک مخصوص رقم کے ذریعہ وقف فنڈ قائم کریں گے، پھر بقیہ لوگوں کو کچھ شرائط کے ساتھ اس فنڈ میں چندہ دینے کی دعوت دی جائے گی، اس وقف فنڈ کو چندہ دینے والے اس وقف کے موقوف علیہ بن جائیں گے، یہاں اگلے کئی جواب طلب سوالات بھی ہیں، مثلاً:اس وقف فنڈ کا مالک ومتصرف غیر مرئی طاقت ہوگی؟ جی ہاں! کیا عام شرعی وقف کی طرح وہ خالق کائنات ہے؟ کہنے کی حد تک کہہ سکتے ہیں، مگر حقیقۃً وعملاً ایسا نہیں، بلکہ اس فنڈ کی ملکیت وتصرف کی نسبت غیر مرئی معنوی شخص کی طرف ہوگی! یعنی وقف فنڈ پر حقِ تولیت تکافل کمپنی کو ملتا ہے، وہی اس فنڈ کے انتظام وانصرام کی مالک ومتصرف ہوتی ہے، اور وقف فنڈ کو ملنے والے چندے وقف فنڈ کی ملکیت کہلائیں گے۔ خیر! یہ غیر مرئی معنوی شخص، قانونی شخص‘ یہ کیا چیز ہے؟ یہ بات اس مجلس میں مخصوص افراد کے علاوہ دیگر اہل علم کی سمجھ میں نہ آسکی، جس پر سب سے زیادہ حضرت مولانا مفتی عبدالستار صاحب ملتانی v نے جب زور دیا تو اس پرانے طرز کے فقیہ کو جدید دور کے جہاں گشت مفتیان کرام نے یوں سمجھایا کہ جب ایک وقف فنڈ قائم ہوگیا تو وہ ایک حوض (Pool)بن گیا، وہ حوض جس میں مزید چندہ کی رقم جمع ہوگی، وہی اس رقم کا مالک ومتصرف، لین دین کرنے والا بن جائے گا اور وقف فنڈ قائم کرنے والے ابتدائی لوگ اس حوض کے کارندے کے طورپر کام کریں گے۔ پرانی فقہ کی روشنی میں یہ بات حضرت مفتی عبدالستار صاحب v کو سمجھ نہ آئی اور فرضی خلیے دیکھنے والی نئی خورد بین‘ ان کے تدین وتفقہ کو دستیاب نہ تھی، اس لیے وہ نہ سمجھ سکے اور انہوںنے جو کچھ ارشاد فرمایا اس کا مطلب میری یادداشت وسماعت کے مطابق یہ تھا کہ: ’’ایک فرضی وخیالی وجود کو متصرف قراردینا اور عاقل بالغ انسانوں کو اس کے کارندے قراردینا ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔‘‘ اس پر بعض حضرات نے تعبیر بدل کر ارشاد فرمایا کہ: حضرت! اس غیرمرئی معنوی شخص کو آپ صندوقچی کہہ سکتے ہیں، چندہ کی رقم صندوقچی کے پاس جمع ہوتی ہے، وہ صندوقچی اس رقم کی مالک بن جاتی ہے، وہ صندوقچی لین دین کرتی ہے اور آگے کے معاملات نمٹاتی ہے۔ اس پر حضرت مفتی عبدالستار صاحب v نے اپنی علمی وروحانی شان کے مطابق ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ: ’’بھئی! یہ تمہاری صندوقچی شندوقچی ہماری سمجھ میں نہیںآرہی۔‘‘ مگر دسمبر۲۰۰۲ء والی مجلس کی روئیداد میں اس موقف کی بابت کوئی صراحت نہیں ملتی، بلکہ اس کے برعکس مجلس کے علماء کے اتفاق کا تأثر مل رہا ہے۔ بہرحال اس طرح کی ابتدائی تنقیحات کے ساتھ ہی وقف پر مبنی مجوزہ تکافل کی مشاورتی مجلس بے نتیجہ ختم ہوگئی اور انشورنس کے متبادل مجوزہ تکافل کے نام سے انشورنس کی اسلام کاری کا بحرین وملائیشیا وغیرہ سے آیا ہوا یہ دوسرا انداز بھی پاکستانی علماء کی سمجھ میں نہ آسکا اور پاکستانی علماء سے مجوزہ تکافل کی تائید نہ مل سکی، اور وقف پر مبنی مجوزہ نظام کو تبرع وغیرہ پر مبنی نظام سے زیادہ قابل اشکال قراردیا، بلکہ اس وقف کی مزعومہ بنیاد ہی کو سرے سے ناقابل فہم قراردیا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ میزبان ادارے کی طرف سے تکافل کی جوازی سرگرمیوں میں اس مہنگی مجلس مشاورت کا حوالہ ضمناً دبے دبے الفاظ میں ہی دیا جاتا ہے اور بعض تحریروں میں ’’معمول‘‘ کے مطابق مخالف رائے کو معمولی سمجھتے ہوئے ’’معمولی‘‘ انداز میں بیان کیا گیا ہے، یا پھر محض شرکت کو بھی منظوری اور تائید سے تعبیر فرمایاگیاہے، بلکہ ۲۰۰۵ء سے منسٹری آف دی کامرس کی مہرتصدیق اور فقہی تصویب کاماہرانہ تأثر دے کر تکافل پالیسی کو ملک کی جائز قانونی پالیسی کی سند بھی دی گئی ہے۔ نیز تکافلی نظام پر وارد ہونے والے اشکالات کے جوابات کا تأثر اور تعامل بھی مجوزین کی طرف سے واضح انداز میں نظر آرہا ہے۔ مگر یہ تأثر وتعامل، ایک خاص ’’روایت‘‘ کا تسلسل ہے جسے واقفانِ حال جانتے اور سمجھتے ہیں، ہم اس دیرینہ دلدل میں ’’کُھبے‘‘ بغیر اس پرانے اشکال کو دہرانا چاہتے ہیں جو وقف فنڈ اور شخص معنوی کی فقہی حقیقت سے متعلق تھا، جس اشکال کے بعد مروجہ نظام کو وقف پر مبنی قراردینے کا جواز نہیں بچتا، مگر اسے نظر انداز کرتے ہوئے مذکورہ مجلس کی روئیداد کی ترتیب میں بعض جزوی مسائل کو اہل علم کا موضوعِ بحث ظاہر کیا گیا ہے۔حالانکہ مجوزہ تکافل سے متعلق جوجو اشکالات وجوابات مرتَّبہ روئیداد میں اُٹھائے گئے ہیں وہ ثانوی درجے کے ہیں، ان کا تعلق تکافل کی عملی تکییف سے ہے اور عملی تکییف پر بحث تب ہوسکتی تھی، جب آپ اس کی فکری ونظریاتی تکییف (وقف پر مبنی تکافل)کے فریضہ میں سرخرو ہو چکے ہوتے، جبکہ معاملہ ایسا نہیں ہے،بلکہ اس طرزِ عمل سے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ بعض مجوزین حضرات ’’معمولی انداز میں‘‘ اپنے ’’مفروضے‘‘ کو ’’مسلَّمہ‘‘ کا درجہ دے کر دوسرے مرحلے کے جزوی وفروعی مسائل سے جاکر بحث شروع فرمارہے ہیں اور نیک دل اہل رائے انہی جزئیات کی بحث وتمحیص میں جالگے ہیں۔ یہ کتنی زیادتی والی بات ہے کہ مروجہ تکافل سے متعلق ’’وقف فنڈ‘‘ کی بنیاد پر شخص معنوی کے ذریعہ لین دین کی فقہی بحث کو پسِ پشت ڈال کر یہاں سے بات شروع کرنا کہ مساہمین (کمپنی کے شئیرہولڈرز) تکافل فنڈ سے فنڈ کے انتظام وانصرام کی اُجرت لے سکتے ہیں یا نہیں؟ اس کو وکالہ فیس کہیں گے یا کچھ اور نام دیں گے؟ اجرت تو آپ نے پہلے سے طے شدہ قاعدے کے مطابق ہرحال میں دینی تھی، وہ تو ثانوی امر ہے، اس ثانوی امر سے بحث کا کیا مقصد ہے؟ ہاں! اس نوع کے سوالات سے ایک فائدہ تو یہ حاصل ہورہا ہے کہ تکافل فنڈ کی حیثیت گویا مسلم ہے، اس میں تشنہ پہلو صرف یہ رہ رہا ہے کہ مساہمین کو اجرت دی جاسکتی ہے یا نہیں؟ دوسرا فائدہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تکافل فنڈ کے ’’مسلَّم وجود‘‘ کے مساہمین جب محنت کریںگے تو اُجرت کیوں نہیں لے سکتے؟ لہٰذا مساہمین اجرت لے سکتے ہیں اور یہ اُجرت تکافل فنڈ سے ادا کی جائے گی، کیونکہ یہ لوگ فنڈ کے اجیر ہیں، نہ کہ حملۃ الوثائق کے، اب اُجرت جب طے ہوگئی تو اس کی تعیین بھی لازمی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ ان جزوی مثالوں سے بعض مجوزین حضرات کا ’’عملِ تمویہ‘‘ سمجھنے کی کوشش کریں اور دیکھتے جائیں کہ وہ حسب منشأ کسی چیز کو جب جائز قرار دینا چاہیں تو کس مہارت سے اُصولی بحث سے بھاگ کر جزئیات کی ’’دُم‘‘ کے بال پکڑ لیتے ہیں، بات کو مزید سمجھنے کے لیے اس رویے سے اگر سوال کیا جائے کہ کتا حلال ہے یا حرام ہے؟ تو اس رویے کے مطابق اس سوال کا جواب یہاں سے شروع ہوگا کہ کتے کی کھال کو دباغت کیسے دی جائے گی؟ اور اس کے استعمال کے طریقے کیا ہوںگے؟ یہ یقینا فقہی مسئلہ ہے، لیکن ہمارا سوال یہ نہیں ہے۔ بہرصورت مجوزہ تکافل کمپنی سے متعلق اہل علم کا بنیادی اشکال اپنی جگہ برقرار ہے، یعنی تکافل کمپنی کے قیام سے لے کر اس کمپنی کے شیئر ہولڈرز (مساہمین) کا کمپنی کے ساتھ تعلق اور کمپنی (وقف فنڈ)کی معنوی وقانونی حیثیت کے مراحل کی فقہی پڑتال ابھی تک باقی ہے، نیز وقف فنڈ کا قیام اور اس کو شخص معنوی کی حیثیت سے ملنے والے مالکانہ تصرفات جن کی بنا پر وقف فنڈ(شخص معنوی) کو وقف کے اصول وضوابط کے مطابق وقف کی املاک ومنافع میں تصرف کا مکمل اختیار حاصل ہوتا ہے۔ یہ بنیادی اشکال درحقیقت اس اصول ونظریہ میں جا سمٹتا ہے کہ ’’وقف فنڈ‘‘ شخصِ معنوی ہے اور شخصِ معنوی مالک ومتصرف ہوتا ہے ۔اور اس شخصِ معنوی (وقف فنڈ)کے ساتھ وابستہ لوگ اس کے معاون (چندہ دہندگان) ہیں، کیا واقعی وقف فنڈ کو فقہی اعتبار سے شخصِ معنوی کا درجہ مسلَّمہ طور پر حاصل ہے؟ اگر وقف فنڈ واقعۃً وقف بن چکا ہے تو اس کے اعضاء وارکان کی حقیقت بھی مسلم ہے؟ اور کیا شخصِ معنوی کو وہ جملہ خصائص واختیارات حاصل ہوتے ہیں جو کسی بھی عقد کے حقیقی عاقد کو حاصل ہوتے ہیں؟ مجوزہ تکافل کی ساری فروع اور جزئیات اس اصل سے جڑی ہوئی ہیں، اس اشکال کو رفع کرائے بغیر تکافل کی جزئیات میں اُلجھنا اور اُلجھانا ’’تمویہ خاص‘‘ کی بدگمانی کو جنم دیتا ہے، یہ تو صاف صاف مخالف رائے والوں کو غیر مقصودی اُمور میں اُلجھاکر اپنے مقصد کے درپے رہنے کی روش کا تکرار‘ ہی ہے۔ اور اس سے بڑھ کر ناانصافی کی بات یہ ہوگی کہ ’’وقف‘‘ سے متعلق اس طرح کے بھونڈے نظریئے پر ’’تکافل‘‘کی بنیاد رکھی جائے اور اُسے اشکالات سے محفوظ اور اکابر کی طرف منسوب بتایا جائے۔  جہاں تک شخصِ معنوی یا شخصِ قانونی کی فقہی حقیقت کا تعلق ہے، اس طرف آنے سے قبل اس نفس الامری حقیقت اور پس منظر کو پیش نظر رہنا چاہیے کہ شخصِ معنوی اور اس کی محدود ذمہ داری‘ مغربی معاشی فکر کی خاص اصطلاح ہے، خاص ایجاد ہے اور مخصوص اہداف ومقاصد کے لیے اُسے تجارتی دنیا میں رائج کیاگیا ہے اور اُسے قانونی شکل بھی دی گئی ہے، جس کی بنا پر یہ شخصِ معنوی‘ شخصِ قانونی بھی بن جاتا ہے۔ اس کی حقیقت کو مختصر الفاظ میں یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ کاروباری معاملات میں خرید وفروخت سے متعلق ’’اہلیت‘‘ کے جتنے خصائص ہیں وہ حقیقی انسانوں کی طرح معنوی وفرضی شخص (کمپنی) کے لیے مانے جائیں، جس طرح عقود میں معاملات کی نسبت‘ حقیقی عاقدین (دو فرد یا جماعت) کی طرف ہوتی ہے، اسی طرح معنوی شخص کی طرف بھی ہوگی۔ ظاہر ہے کہ شخصِ معنوی تو محض مفروضہ ہے، معاملات تو حقیقی انسان ہی نبھائیں گے، اس کے باوجود معاملات کی نسبت حقیقی انسانوں کی بجائے غیر حقیقی معنوی اور فرضی شخص کی طرف ہوگی اور یہاں تجارتی معاملات انجام دینے والے حقیقی انسانوں کو اس معنوی وفرضی شخص کے کارندے، کارکن اور ملازم کی حیثیت دی جائے گی۔ ان حقیقی انسانوں کو عاقد تسلیم نہیں کیا جاتا، بلکہ عاقد وہ شخص معنوی ہی کہلائے گا اور اس غیر واقعاتی فرضی تصور کو بین الاقوامی سطح پر چونکہ قانونی حیثیت مل چکی ہے، اس لیے عاقد یہی معنوی وقانونی شخص ہوگا۔ جب معاملات کا عاقد یہی معنوی شخص ہے تو لامحالہ عقد کے حقوق کی ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوگی، اگر کاروبار میں کسی کو کچھ لینا دینا ہوگا، مسئولیت ہوگی تو اس کی ذمہ داری‘ شخصِ معنوی پر ہی عائد ہوگی۔ اس شخصِ معنوی کے پیچھے چھپ کر اربوں کھربوں روپے کمانے والے لوگ اگر شکم سیر ہوکر غائب ہوجائیں یا کمپنی تحلیل ہوجائے یا دیوالیہ ہوجائے اور کمپنی کے کاروبار میں شریک لوگوں کے مالی حقوق کمپنی کے نام باقی ہوں تو ان حقوق کا مطالبہ شخصِ معنوی کے ذریعہ نفع اندوزی کرنے والے کارندوں سے نہیں ہوسکتا، بلکہ اس بے جان معنوی شخص سے ہی مطالبہ کیا جائے گا اور وہ مطالبہ بھی اپنے حقوق کی بقدر نہیں، بلکہ کمپنی (شخصِ معنوی) کے بچے کھچے فی الوقت موجود اَثاثوں میں سے اپنے اور دیگر غرماء کے دیون کے تناسب سے بقدر حصۂ رسدی مطالبہ ہوسکے گا۔ اگر کسی حق دار کے حقوق زیادہ بنتے ہوں تو شخصِ معنوی‘ قانونی طور پر اُسے پوری ادائیگی کرنے کا پابند نہیں ہے، اس کی ذمہ داری صرف اپنے قانونی وجود کی تحلیل ودیوالیہ کے وقت موجود اَثاثوں تک محدود ہوگی، اس لیے کہ وہ ’’لمیٹڈ‘‘ہے اور اس کی قانونی حیثیت کو کوئی پھاند نہیں سکتا۔ حاصل یہ کہ کمپنی قانوناً شخصِ معنوی ہے اور اس کی ذمہ داری محدود ہے۔ منافع کی دوڑ میں شخصِ اعتباری، حقیقی انسان سے زیادہ طاقتور اور جاندار ہوگا اور جواب دہی کے موقع پر اس کے برعکس ہوگا۔ یہ تصور‘ حقیقت کی دنیا میں کیا مقام رکھتا ہے، عقلی اعتبار سے اس میں کتنی معقولیت ہے اور شریعتِ حقہ میں اس کی کیا حیثیت ہوسکتی ہے؟! یہ بالکل بے غبار سی حقیقت تھی اورہے۔ مگر پھر بھی بعض اہل علم اس کی فقہی حیثیت سے بحث کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور بعض اس تصور کی تائید میں چند فقہی نظائر بھی پیش کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، جس پر تعجب کے لیے یہی کافی ہے کہ جس تصور کی نامعقولیت کو عام عقل مند انسان تسلیم نہ کرسکے وہ اہل علم کے ہاں علمی موضوع کیسے بن گیا؟ اس کی فقہی تخریج کیسے ہونے لگی؟ تو کچھ تلاش وجستجو کے بعد انشورنس کی اسلام کاری جیسی ایک وجہ بہرحال یہاں بھی دریافت ہوگئی کہ تقریباً نصف صدی قبل مصر میں ’’تقریب بین الاسلام والمغرب‘‘ کے لیے شروع ہونے والی تحریک کے فکری ثمرات میں شخصِ اعتباری اور محدود ذمہ داری کی تحقیق وتخریج کا سراغ بھی مل رہا ہے، اس کارِخیر کی بنیادوں میں یوں تو شیخ مطیعی مصری، مفتی عبدہ وغیرہ کے اسماء گرامی بھی ذکر کیے جاتے ہیں، مگرہماری تلاش کے مطابق شخصِ معنوی اور اس کی محدود ذمہ داری کے تصور کو باقاعدہ علمی وفقہی موضوع کے طور پر مفصل انداز میں مشہور شامی بزرگ استاذ مصطفی الزرقاء نے اختیار کیا تھا اور انہوں نے بڑے جزم کے ساتھ اس مغربی فکر کو اسلامی فکر قرار دیا تھا اور اس کے لیے مختلف فقہی شواہد ونظائر ذکر فرمائے تھے، بعد کے بعض اہل علم نے تقریباً انہی کے مضمون اور کام کو اپنے انداز میں اجمال یا تفصیل کے ساتھ ذکر فرمایاہے، ان حضرات کی فقہی تخریج کے مطابق ’’وقف‘‘ شخصِ قانونی کی پہلی نظیر ہے۔ واضح رہے کہ استاذ مصطفی الزرقاء یہ وہی بزرگ ہیں جن کے بارے میں پیچھے گزرا کہ وہ روایتی انشورنس کو بھی فی الجملہ جائز فرماتے تھے اور ان کے خیال کے مطابق انشورنس میں جہاں رِبا کا معاملہ ہو اُسے ممنوع سمجھا جائے، ان کے ہاں انشورنس کے جائز ہونے کے لیے صرف ’’غیرسودی‘‘ ہونا کافی ہے، باقی انشورنس‘ شرعی اعتبار سے جائز ہے۔ جو اہل علم یہ جانتے ہیں کہ مصر وشام سے بینک کے سود کے جائز ہونے کی صدائیں اُٹھی تھیں اور روایتی انشورنس کو امداد باہمی کی جدید شکل قرار دیاگیا تھا، انہی مصری وشامی مفکرین کے افکار کی تلچھٹ سے شخصِ اعتباری کو اسلامی گھٹی دی گئی ہے، اس گھٹی سے شخصِ قانونی پر اسلام کے کیا اثرات مرتب ہوئے ہوں گے؟ اور کیا کہا جاسکتا ہے؟ ہمارے قدامت پسند معاشرے میں یہ امر کوئی قابل توجہ نہ تھا، اس پر کسی صاحبِ علم کو التفات کی حاجت بھی نہ تھی، مگر ہوا یہ کہ ہمارے ہاں کے ایک نامور متدین صاحب علم بزرگ نے اپنے تردد کے ساتھ اہل علم کے غور وفکر کے لیے ’’شخصِ قانونی‘‘ کی فقہی حیثیت کو جب موضوع بنایا تو اس سے بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوئی کہ شاید ’’شخصِ قانونی‘‘ کا تصور‘ بالجزم‘ اسلامی ہے۔ حالانکہ ہمارے جس بزرگ نے شخصِ قانونی اور اس کی محدود ذمہ داری کے تصور کو اپنے تردد کے ساتھ محض اہل علم کے غور وفکر کے لیے پیش فرمایا تھا، ان کا تردد ہمارے علم کے مطابق تاحال تشفی میں تبدیل نہیں ہوا، بلکہ ملک کے مقتدر اہل فتویٰ کی جانب سے اس تصور پر جو فقہی نقد کیاگیا ہے(جو بنوری ٹاؤن سے چھپنے والی کتاب مروجہ اسلامی بینکاری کے صفحہ: ۱۱۸ تا ۱۵۹ میں تفصیل کے ساتھ درج ہے) اس کے بارے میں غیر سودی بینکاری نامی کتاب میں بزرگ موصوف نے لفظی نقاش کے باوجود یہ صراحت فرمائی ہے کہ: ’’ اس مسئلے کے بارے میں بندے نے جو کچھ لکھا ہے، اس میں یہ بات صاف صاف لکھی ہے کہ یہ میری طرف سے کوئی حتمی فتویٰ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک سوچ ہے جو اہل علم کے غور کے لیے پیش کی جارہی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جہاں تک محدود ذمہ داری کے تصور کا سوال ہے، مجھے خود پہلے بھی اس پر جزم نہیں تھا، اور جو ابتدائی میلان ظاہر کیا تھا اس پربھی نظرثانی کی ضرورت سمجھتا ہوں اور جو دلائل اس کے خلاف دیئے گئے ہیں ان میں سے بعض دلائل واقعۃً وزنی ہیں۔ ‘‘  (غیر سودی بینکاری،ص:۳۳۹تا ۳۴۳، ط:معارف القرآن کراچی) اہل علم کے لیے دعوتِ فکر ہے کہ وہ غیرجانبدارانہ غور فرمائیں کہ ’’تکافل فنڈ‘‘ کی بنیاد‘ شخصِ اعتباری اور شخصِ قانونی کے تصور کی اسلام کاری پر قائم ہے اور اس تصور کے آغاز سے لے کر اب تک کے نظریات وخیالات کی علمی وفقہی پوزیشن بھی اہل علم کے سامنے ہے، اس سے صرف نظر کرتے ہوئے مروجہ تکافل کی شرعی حیثیت متعین کرنے والے ایک قابل قدر صاحب علم کا درج ذیل اقتباس ملاحظہ فرمائیں، مروجہ تکافل کمپنیوں کی فقاہت شعاری دیکھیں اور مروجہ تکافل کی فکری وفقہی بنیاد کے بارے میں مناسب فیصلہ صادر فرمائیں: ’’تکافل ماڈل کی خصوصیات خلاصہ یہ کہ تکافل ماڈل میں درج ذیل خصوصیات (Features) پائی جائیں اور درج ذیل مقاصد حاصل ہوں: ۱:…چندہ دہندگان کا چندہ دینا کسی شرط کے ساتھ مشروط نہ ہو۔ ۲:…پول کا کوریج (Coverage) مستقل عطیہ کی حیثیت سے ہو، یعنی وہ کسی سابقہ عقد کا نتیجہ (Conclusion) نہ ہو۔ ۳:…چندہ کی ملکیت شرکاء کی ملکیت سے خارج ہو۔ ۴:…پول اس چندہ کا مالک ہو، کیونکہ ’’خروج الشیء لا إلی الملک‘‘ درست نہیں، یعنی یہ کہ ایک شئے کسی کی ملکیت سے نکل جائے اور کوئی دوسرا اس کا مالک نہ بنے۔ ان خصوصیات پر مشتمل ماڈل نہ عقد معاوضہ بنے گا، نہ اس میں زکوٰۃ اور میراث کے مسائل پیدا ہوں گے۔ یہ مقاصد اس وقت حاصل ہوسکتے ہیں جبکہ اس پول کا ایک معنوی اور قانونی وجود (Legal Entity) ہو جس کو شخصِ قانونی کہتے ہیں۔ یہ ایسا شخص ہو کہ جو مالک بھی بنتا ہو اور مالک بناتا بھی ہو (چنانچہ جو تکافلات محض تبرعات پر مبنی ہیں، ان کا کوئی مستقل قانونی وجود نہیں) اور وہ اساس اور بنیاد صرف ’’وقف‘‘ ہے، لہٰذا پول ’’وقف‘‘ پر مبنی (Based) ہونا چاہیے، کیونکہ وقف ہی ایک ایسی چیز ہے جس کا الگ وجود شریعت بھی مانتی ہے اور قانون بھی مانتا ہے، نیز وقف میں کافی گنجائش ہے، یعنی اس کا دائرہ (Scope) وسیع (Extensive) ہے، اس میں بسااوقات ایسی شرائط کی بھی گنجائش ہوتی ہے جو دوسرے عقود (Contracts) میں نہیں چلتیں، اس لیے کہ وقف میں شرائط کی گنجائش‘ ہبہ اور تبرع کے مقابلہ میں زیادہ ہے، لہٰذا ہمارے نزدیک تکافل کی بہترین بنیاد اور نسبۃً مسائل اور پیچیدگیوں سے دور راستہ ’’وقف‘‘ ہی ہے۔‘‘                                                                      (تکافل کی شرعی حیثیت، ص:۸۹،۹۰) غیر جانب دار اہل علم غور فرمائیں کہ وہ شخصِ قانونی جس کا وجود شرعاً مسلم نہیں، اُسے تاحال اسلامی کہنے کی صراحت اور گنجائش نہیں ملتی، اس کی حقیقت کو جزم کے ساتھ بیان نہیں کیا جاسکتا، جس کے تصور کو محض اہل علم کے غوروفکر کے لیے سامنے لایاگیا ہے، جس پر تاحال نظرثانی کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے، اس فرضی وجود کی نفی کرنے والے دلائل بھی واقعۃً وزن رکھتے ہیں، ایسا شخص قانونی مسلَّمہ حقیقت کیسے کہلاسکتا ہے؟ اور اس غیر حقیقی مفروضے پر تکافل ماڈل کی عمارت کیونکر کھڑی ہوسکتی ہے؟ پھر جس ’’تکافل ماڈل‘‘ کا وجود اس شخصِ قانونی پر منحصر ہواور اس شخصِ قانونی ومعنوی کے بغیر تکافل کے مقاصد کا حصول ناممکن ہو‘ ایسے ’’تکافل‘‘ کو جزم کے ساتھ اسلامی کہناکہاں تک صحیح ہوگا؟ ان سوالوں سے پہلو تہی کرتے ہوئے مزعومہ شخصِ معنوی کی جزئیات سے بحث کرناچہ معنی دارد؟ یہ ایہام اور تمویہ ہے یا کچھ اور؟ فللّٰہ در من أدری وأروی ۔ پس ہم صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ وقف فنڈ جس کا وقف بننا بجائے خود محلِ اشکال ہے، اس سے قطع نظر‘ وقف فنڈ، شخصِ قانونی ہونے کی بنا پر جب شرعاً مالک ومتصرف نہیں بن سکتا تو اس کو مالک ومتصرف ماننے کا مفروضہ کالعدم ہوا، جس کی پاداش میں ’’تملیک ما لایملک ‘‘ (ایسی چیز کو مالک بنانا جو مالک نہیں بن سکتی)یا ’’خروج الشیء إلٰی غیر الملک ‘‘(مالک کی ملک سے کوئی چیز نکلے اور وہ ملک نہ بنے) کی فقہی رُکاوٹ سامنے آگئی، حالانکہ یہاں ادائیگی اور وصولی کے معاہدات حقیقی اشخاص کے درمیان باقاعدگی سے طے پاچکے ہیں تو ’’الإعمال خیر من الإہمال‘‘اور حکم شرعی کا محمل نکالنے کے لیے فرضی شخص کی بجائے حقیقی اشخاص کی طرف معاملات کی نسبت کی جائے گی اور نتیجۃً تکافل کمپنی کے بانی ہی انشورنس کمپنی کی مانند مزعومہ وقف فنڈ کے چندوں کے مالک ومتصرف ہوںگے اور وہ ان چندوں (قسطوں) کے صلہ میں جو بدلہ وعوض دیںگے، اس سے مروجہ تکافل‘ عقدِ معاوضہ ہی بنے گا۔ یہ معاوضہ آپ کی جمع شدہ قسطوں کی رقم سے کم یا زیادہ بھی ہوسکتا ہے، عموماً زیادہ ہی ہوتا ہے اور اسی زیادتی کی امید پر جن لوگوں نے تکافل پالیسی خریدی تھی اور تکافل کی ممبرشپ حاصل کی تھی وہ ممبر شپ حاصل کرتے وقت طے شدہ معاہدے کے تحت اس اضافی عوض وبدل کے مستحق قرار پائیں گے،وہ اضافہ کتنا ہوسکتا ہے؟ کب اور کس وقت ملے گا؟ اس کا فی الحال صحیح اندازہ اور علم نہیں ہے، یہی انشورنس کا حاصل ہے، جسے تکافل کہیں یا انشورنس اس سے حکم میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ چلیے! اگر وقف فنڈ کے چندے میں مجوزین کے بقول صرف ثواب کی نیت ہے، چندہ دہندگان کا چندہ واقعۃً غیر مشروط ہوتا ہے، چندہ کی ملکیت شرکاء کی ملکیت سے خارج ہے اور پول کا کوریج واقعۃً مستقل عطیہ کی حیثیت رکھتا ہے، وہ کسی سابقہ عقد پر منتج نہیں ہے، جیسا کہ گزشتہ اقتباس اور دیگر اعلانات میں یہ تأثر دیا جاتا ہے تو پھر آئیے! شروع میں اس چندے کے تبرعِ محض ہونے کا واضح اعلان کریں اور چندہ دینے والوں کو واضح انداز میں یہ باور کرائیں کہ آپ لوگ انشورنس طرز کی کوئی پالیسی نہیں خرید رہے، بلکہ مسجد ومدرسہ کی طرح ’’پول‘‘ کو چندہ دے رہے ہیں اور اس کا طے شدہ صلہ صرف آخرت میں ملے گا اور مقررہ ادائیگی کے وقت اس اعلان کو سچا دکھانے کے لیے کسی ایک معاون (چندہ دینے والے) کو محروم کرکے تو دیکھیں‘ عوض وبدل کی لالچی بلیاں ’’تکافل‘‘ کے تھیلوں سے باہر آجائیں گی۔اور یہ حقیقت خود بتائے گی کہ انشورنس کی قسط کو چندہ کا نام دینا اور اس چندہ کے صلے میں تکافل کمپنی سے ’’عطاء مستقل‘‘کے نام پر فوائد ومراعات حاصل کرنااور اس کے لیے تمام ترتحریری اور زبانی اعلانات وتصریحات کرنا‘ محض بہکاوا، بہلاوا اور پُھسلاوا ہیں، بلکہ سچ یہ ہے کہ مروجہ تکافل بعینہٖ روایتی انشورنس ہے، صرف نام اور اصطلاحات کی تبدیلی فرمائی گئی ہے، یا زیادہ سے زیادہ یوں کہاجاسکتا ہے کہ مجوزین حضرات نے مروجہ تکافل میں انشورنس کی اصطلاحوں کی تبدیلی کے علاوہ مسلمانوں کو ’’نیت‘‘ کی تبدیلی یوںسکھائی ہے کہ وہ انشورنس کی قسط کو چندہ کی نیت سے دیا کریں اور انشورنس کی ادا شدہ قسطوں کے صلے میں سابقہ معاہدے کے مطابق ملنے والی مراعات وفوائد کے بارے میں یہ سمجھ لیں اور یہ نیت کرلیں کہ وہ تکافل کمپنی کی طرف سے ’’عطاء مستقل‘‘ ہے، آپ کے کسی سابقہ معاہدے کا جبری نتیجہ نہیں ہے۔  آخر اس مصنوعی تبدیلی کا حقیقت سے کیا واسطہ؟ کیا واقعۃً ایسی مصنوعی کارروائی اور زبانی جمع خرچ کے ذریعہ انشورنس کے روایتی نظام کا اسلامی متبادل بن سکتا ہے؟ خدارا !!! غور فرمائیے کہ اگر اس طرح نیتوں کی زبانی تبدیلی سے شرعی احکام میں تبدیلی کا امکان تسلیم کرلیا جائے تو پھر تمام ’’محرماتِ شرعیہ‘‘ کو اچھی نیت سے اختیار کرنا جائز ہوجائے گااور اس کارِ خیر کا اچھا خاصا ’’بونس‘‘ ہمارے ’’اکاؤنٹ‘‘ میں بھی آئے گا۔  واضح رہے کہ اس طرح نیتوں کی تبدیلی کے ذریعہ کسی نظام کی تبدیلی کا نظریہ اور طرزِ فکر انشورنس کی اسلام کاری کے مذکورہ بالا نظریہ وفکر سے زیادہ وسیع حد تک جدت آمیز اور فساد آلودہے، وہ یوں کہ اس طرزِ فکر میں مصری آزاد خیالی کا عنصر بھی پایاجاتا ہے اور دیسی بے راہ روی کے جراثیم بھی موجود ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ فکر تقریباً آج سے تیس چالیس سال پرانی ہے، اسی فکر کے تحت لاہور کے ایک معروف ڈاکٹر صاحب نے بینک کے سود کو حلال قرار دیا تھا، جن کا کہنا یہ تھا کہ بینک اور اکاؤنٹ ہولڈر رقم جمع کراتے وقت یہ پکا معاہدہ کرلیںکہ وہ آپس میں سود کا لین دین نہیں کریں گے، پھر ادائیگی کے وقت بینک سودی مارکیٹ کی شرح سود کے بقدر اَز خود اضافی ادائیگی کردے تو یہ سود نہیں کہلائے گا، بلکہ ’’قضاء حسن‘‘ بن جائے گا۔ اس پر انہوں نے حدیث وفقہ کی کتابوں سے زبردست تخریج بھی فرمائی تھی، مگر ہمارے بزرگوں نے اس طرزِ فکر کے تحت سودی بینک کی اسلام کاری کو یکسر مسترد کردیا تھا اور اس معاہدے کو ’’المعروف کالمشروط‘‘کے بنیادی شرعی قاعدے کے خلاف قرار دیا تھا، اور اس فکر کو محض لفظوں کا گورکھ دھندہ قرار دیا تھا، پس اپنے اکابر کی اتباع میں مروجہ تکافل کے نام پر نیت کی تبدیلی کی تصریح کے ساتھ انشورنس کی اسلام کاری کو ہم ’’لاہوری فکر‘‘ کی طرح خلافِ شرع سمجھتے ہیں، بلکہ اس طرزِ عمل کو ۱۹۶۰ء والے ’’مصری طرزِ عمل‘‘ سے بدتر سمجھتے ہیں، کیوں کہ مصری مجوزین علماء کرام کے دلائل میں جو ظاہری وزن تھا وہ ہمارے مجوزین کے دلائل میں قطعاً نہیں ہے۔ مصری علماء کے دلائل کا وزن جاننے کے لیے پچھلے صفحات کو دوبارہ پڑھیں اور ہمارے معاصرین کی حیلہ جویانہ رکیک تاویلات کا جائزہ بھی لیں تو ہماری گستاخی‘ قابل ملامت نہیں ٹھہرے گی، ان شاء اللہ!  الغرض! یہ حقیقت کسی طور پر بھی چھپائی نہیں جاسکتی کہ جو بھی تکافل کا ممبر بنتا ہے اور تکافل کمپنی کو بقول شما چندہ دیتا ہے، تمام تر حیلہ جویانہ تأویلات کے باوجود ’’المعروف کالمشروط‘‘ کے مسلمہ فقہی اصول کی رو سے وہ ’’معاوضہ‘‘ سے مشروط ہی کہلائے گا اور ’’مروجہ تکافل‘‘ انشورنس کی تینوں خرابیوں (رِبا، قمار اور غرر) سے خالی نہیں کہلائے گا، بلکہ انشورنس کی اسلام کاری کے پرانے طرز کو نیا بنانے کے لیے رکیک تأویلات کی وجہ سے حیلۂ باطلہ اور اکل بالباطل کا مظہر بھی شمار ہوگا۔  بنابریں بجاطور پر یہ کہاجاسکتا ہے کہ انشورنس کا رِبا و قمار اور غرر‘ مروجہ تکافل میں بعینہٖ موجود ہے، اس لیے ’’مروجہ تکافل‘‘ بعینہٖ انشورنس ہے، صرف نام کی تبدیلی ہے۔ ظاہر ہے کہ نام تبدیل کرنے سے حکم تبدیل نہیں ہوتا،جیسے صرف نام تبدیل کرنے سے کوئی کافر‘ مسلمان نہیں بن جاتا۔ لہٰذا انشورنس کے بارے میں کہے ہوئے اپنے بزرگوں کے الفاظ‘مستعار لیتے ہوئے یہ کہہ سکتے ہیں کہ مروجہ تکافل کے ’’عوض کَش‘‘ چندہ کو تبرع، تعاون اور تناصر کہنا محض دھوکہ ہے۔ یورپی نظام کے چند خوشنما پہلوؤں کو دیکھتے ہوئے ’’تکافل‘‘ کے نام پر انشورنس کی حلت وجواز کا فتویٰ دیا جارہا ہے اور بیمہ، سٹہ اور سودی کاروبار والی نحوست کو مسلم قوم کے سرتھوپنے کا خوبصورت حیلہ دہرایا جارہا ہے۔پس انشورنس کو ’’انشورنس‘‘ کے نام سے جائز قرار دینے کا جو حکم تھا، انشورنس کو ’’تکافل‘‘ کے نام سے جائز قرار دینے کا حکم بھی وہی ہوگا اور مروجہ تکافل کا وہی حکم ہوگا جو انشورنس کا حکم بیان کیا گیا تھا۔ واللہ اعلم مروجہ تکافل کمپنیوں سے متعلق اس اُصولی واَساسی بحث کے بعد کسی اور بحث کی طرف جانے کی اصولاً گنجائش نہیں ہے، مگر مجوزین حضرات نے کفالہ، مضاربہ، وقف اور اس طرح کی دیگر فقہی اصطلاحات کے ذریعہ اپنے موضوع کو جزئیات تک پھیلادیا ہے، اس لیے بعض اہل علم نے اتمامِ حجت کے لیے اس اُصولی بحث کے علاوہ تکافل کی جزوی بحث سے تعرض بھی فرمایا ہے اور مجوزین حضرات کے ایہامات کا مناسب علمی رَد پیش فرمایا ہے۔ ہمارے ناقص علم کے مطابق اب تک اردو میں تین گراں قدر کام سامنے آئے ہیں: ۱:…حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الواحد صاحب مدظلہم کا کام جنہوں نے اُصولی اور فروعی مباحث کو احاطہ کرتے ہوئے رَد فرمایا جو اپنی نوعیت کا جامع اور نکھرا ہوا ہر قسم کے حشووزوائد سے پاک مرتب کام ہے، ڈاکٹر صاحب کا نام وکام کسی تعارف کا محتاج نہیں: ’’آفتاب آمد دلیل آفتاب‘‘۔ ۲:…حضرت مولانا مفتی احمد ممتاز صاحب مدظلہم نے بھی اس موضوع پر وقیع علمی کام کیا ہے جس کا عنوان ہے: ’’مروجہ تکافل اور شرعی وقف‘‘ حضرت مفتی صاحب نے اُصولی وفروعی دونوں پہلوؤں سے مروجہ تکافل کی اسلام کی طرف نسبت کو غلط ثابت فرمایاہے اور مروجہ تکافل کے ناجائز ہونے کی اٹھارہ وجوہات نقل فرمائی ہیں۔ مفتی صاحب موصوف کے اندازِ بیان میں تدریسی وترکیزی انداز غالب رہتا ہے، اس کتاب میں بھی انہوں نے یہی اُسلوب اختیار فرمایا ہے، اس تحریر کی اگلی خصوصیت یہ ہے کہ اس پر مختلف اہل فقہ وفتویٰ کی تقریظات وتائیدات بھی ثبت ہیں۔نیز موضوع کو بآسانی سمجھنے کے لیے اصطلاحات کا تعارف بھی کرادیاگیا ہے اور تکافل کا بنیادی ڈھانچہ بھی پیش فرمایا ہے۔ اسی طرح وقف کی اقسام اور ان کے احکام سے تعرض بھی شروع میں شامل ہے، تاکہ وقف پر مبنی تکافل کی فقہی تکییف میں ’’مغالطات‘‘ سمجھنے میں دشواری نہ

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے