بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1444ھ 29 نومبر 2022 ء

دارالافتاء

 

زونگ سوشل پیکج پر سافٹ وئیر کے ذریعہ باقی ویب سائٹ چلانا


سوال

زونگ ٹیلی کام کمپنی اپنے کسٹمر کو ایک پیکج دیتی ہے ٢٢٠ روپے کی قیمت میں۔ جسکا نام ہے Monthly Social 12 GB اور یہ کپمنی اس پیکج کے ڈیٹا کے ذریعے اپکو فیسبک، واٹس ایپ ، اور imo تک چلانے کی رسائی دیتی ہے مطلب اس پیکج کے ڈیٹا کے ذریعے سے اپ ان تین ویب پیجیز کو کھول سکتے ہیں لیکن سافٹ ویئرز کی مارکٹ میں کچھ ایسے سافٹ ویئر موجود ہے جس کے ذریعے اپ اس پیکج کے ڈیٹا کو گوگل یوٹیوب ٹویٹر کے کھولنے تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں. مطلب اسی پیکج کو جو کمپنی اپکو محدود پیجز کو کھولنے تک رسائی دیتی ہے اسی پیکج کے ڈیٹا کو اپ ان سافٹ ویئرز کے ذریعے مزید موصوف ویب پیجز بھی کھول سکتے ہیں. اب جتنا بھی نیٹ استعمال کریں گے اتنا ہی اپ کے سبکرائب کئے ہوئے پیکج کا ڈیٹا استعمال ہو گا پوچھنا یہ تھا کہ کیا ایسے طریقے کے ذریعے مختلف ویب پیجز کے کھولنے تک رسائی حاصل کرنا شرعا جائز ہے یا پھر نا جائز۔ ایسے طریقے سے میں موصوفہ کمپنی کے اس پیکج کو استعمال کرتے ہوئے چوری تو نہیں کر رہا میں شرعاً کوئی ناجائز کام تو نہیں کر رہا ؟ بات کچھ بڑھ گئی لیکن مجھے امید ہے کہ میں اس مسئلہ کو آپ صاحبان کو سمجھا چکا ہوں آپ صاحبان کے جواب کا منتظر رہوں گا دعا گوں ہوں۔

جواب

واضح رہے کہ ٹیلی کام کمپنی جو اپنے صارفین کو اجرت (سروس چارچز)  کے عوض انٹرنیٹ اور کالنگ  کی خدمات فراہم کرتی ہے یہ معاملہ شرعا اجارہ  کا معاملہ ہوتا ہے یعنی  ٹیلی کام کمپنی مختلف ویب سائٹس تک رسائی اور دنیا بھر کے لوگوں سے رابطہ کاری اور پیغام رسانی (چاہے وہ واٹس ایپ، فیس بک، ایمو یا  کسی بھی ذریعہ سے ہو )  کی خدمت فراہم کرتی ہے اوراپنے اس عمل اور خدمت کے عوض صارفین  سے  اجرت وصول کرتی ہے۔  اس خدمت (عمل فراہمی کا پیمانہ موبائل ڈیٹا اور منٹوں کے حساب سے ہوتا ہے اور اسی پیمانے کے حساب سے وہ اجرت  بھی وصول کرتی ہے۔ نیز یہ بھی واضح رہے کہ اجارہ کے معاملہ میں اصول یہ ہے کہ جس عمل پر اجارہ کے معاملہ کا انعقاد ہوا ہے صرف وہ عمل معاملہ کا حصہ بنے گا باقی عمل اجارہ کے معاملہ کا حصہ نہیں بنے گا۔  

لہذا صورت مسئولہ میں جب سائل نے  زونگ کمپنی سے سوشل پیکج (یعنی  صرف   فیسبک، واٹس ایپ اور ایمو کے ذریعہ لوگوں سے رابطہ کاری اور پیغام رسانی) کی خدمات   حاصل کی ہیں  تو اب سائل کے لیے صرف   فیسبک، واٹس ایپ اور ایمو کے ذریعہ لوگوں سے رابطہ کاری اور پیغام رسانی کرنا  جائز ہوگا اور دوسرے کسی  سافٹ وئیر کے ذریعہ اس پیکج کو باقی ویب سائٹ چلانے کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں ہوگا کیونکہ باقی ویب سائٹ تک کی رسائی کی خدمت سائل نے متعلقہ موبائل کمپنی سے حاصل ہی نہیں کیں لہذا زونگ کمپنی  ان خدمات کو  فراہم کرنے پر راضی ہی نہیں ہے اور ان کی رضا کے بغیر ان کی خدمات کو کسی حیلہ سے حاصل کرنا منافع کے غصب کے حکم میں ہوگا اور ناجائز ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"أقول: سره أنه أوقع الكلام على المدة في أوله فتكون منافعه للمستأجر في تلك المدة فيمتنع أن تكون لغيره فيها أيضا، وقوله بعد ذلك لترعى الغنم يحتمل أن يكون لإيقاع العقد على العمل فيصير أجيرا مشتركا؛ لأنه من يقع عقده على العمل، وأن يكون لبيان نوع العمل الواجب على الأجير الخاص في المدة، فإن الإجارة على المدة لا تصح في الأجير الخاص ما لم يبين نوع العمل؛ بأن يقول: استأجرتك شهرا للخدمة أو للحصاد فلا يتغير حكم الأول بالاحتمال فيبقى أجير وحد ما لم ينص على خلافه بأن يقول: على أن ترعى غنم غيري مع غنمي وهذا ظاهر أو أخر المدة بأن استأجره ليرعى غنما مسماة له بأجر معلوم شهرا فحينئذ يكون أجيرا مشتركا بأول الكلام لإيقاع العقد على العمل في أوله، وقوله شهرا في آخر الكلام يحتمل أن يكون لإيقاع العقد على المدة فيصير أجير وحد، ويحتمل أن يكون لتقدير العمل الذي وقع العقد عليه فلا يتغير أول كلامه بالاحتمال ما لم يكن بخلافه."

(کتاب الاجارۃ ،باب ضمان الاجیر ج نمبر ۶  ص نمبر ۷۰،دار الفکر)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"والإجارة على العمل إذا كان معلوما صحيحة بدون بيان المدة ‌والإجارة ‌على ‌المدة لا تصح إلا ببيان نوع العمل."

(کتاب الاجارۃ، باب الثامن و العشرون ج نمبر ۴ ص نمبر ۵۰۰، دار الفکر)

بدائع الصنائع  میں ہے:

"وقالوا في الخياط: إن السلوك عليه؛ لأن عادتهم جرت بذلك، وقالوا في الدقيق الذي يصلح به الحائك الثوب: إنه على صاحب الثوب، فإن كان أهل بلد تعاملوا بخلاف ذلك فهو على ما يتعاملون، وقالوا في الطباخ إذا استأجر في عرس: إن إخراج المرق عليه ولو طبخ قدرا خاصة ففرغ منها فله الأجر، وليس عليه من إخراج المرق شيء، وهو مبني على العادة يختلف باختلاف العادة، وقالوا فيمن تكارى دابة يحمل عليها حنطة إلى منزله فلما انتهى إليه أراد صاحب الحنطة أن يحمل المكاري ذلك فيدخله منزله وأبى المكاري، قالوا: قال أبو حنيفة: عليه ما يفعله الناس ويتعاملون عليه."

(کتاب الاجارۃ ، فصل فی حکم الاجارہ ج نمبر ۴ ص نمبر ۲۰۹، دار الکتب العلمیۃ)

فتاوی یندیہ  میں ہے:

"والأصل أن الإجارة إذا وقعت على عمل فكل ما كان من توابع ذلك العمل ولم يشترط على الأجير في الإجارة فالمرجع فيه إلى العرف. كذا في المحيط."

(کتاب الاجارۃ باب حادی عشر ،ج نمبر ۴ ص نمبر ۴۳۴،دار الفکر)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وللمستأجر أن يكلف العبد المستأجر كل شيء من خدمة البيت ويأمره أن يغسل ثوبه وأن يخيط ويخبز ويعجن إذا كان يحسن ذلك ويعلف دابته وينزل بمتاعه من ظهر بيته أو يرقى إليه ويحلب شاته ويستقي له من البئر وليس له أن يقعده خياطا ولا في صناعة من الصناعات، وإن كان حاذقا في ذلك وليس على المستأجر طعامه إلا أن يتطوع بذلك أو يكون فيه عرف ظاهر وله أن يأمره بخدمة أضيافه وله أن يؤاجره من غيره للخدمة."

(کتاب الاجارۃ باب حادی عشر ،ج نمبر ۴ ص نمبر ۴۳۴،دار الفکر)

 

مرقاة المفاتيح  میں ہے:

"وعن أبي حرة الرقاشي، عن عمه - رضي الله عنه - قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - " «ألا لا تظلموا، ألا لا يحل مال امرئ ‌إلا ‌بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في " شعب الإيمان "، والدارقطني في " المجتبى.

(" ‌إلا ‌بطيب نفس ") أي: بأمر أو رضا منه."

(کتاب البیوع باب الغصب  و العاریۃ ج نمبر ۵ ص نمبر ۱۹۷۴، دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144401101630

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں