بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 12 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

مولانا طارق جمیل کا گلگت میں امام باڑہ جانا


سوال

محترم مفتیان کرام،جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ مولانا طارق جمیل صاحب نے گلگت کے تبلیغی اجتماع کے موقع پر دشمنان صحابہ کے امام باڑہ کا دورہ کیا اور ان سے خطاب کیا اور انہیں تبلیغی اجتماع میں شرکت کی دعوت دی۔کیا ان کا یہ فعل مسلمانوں کے مبلغ ہونے کے حیثیت سے جائز ہے جب کہ دشمنان صحابہ تو امت کی ماں حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کی حرمت کا پاس نہیں کرتے،تو کیا مولانا کی تبلیغ سے راہ راست پر آجائیں گے ،شریعت کی اس میں کوئی مثال ملتی ہے کہ اسلام کے غداروں اور زندیق لوگوں کے عبادت کے مرکز میں جا کے اپنی نماز پڑھی جائے اور خطاب کیا جائے، قرآن و سنت سے جواب مرحمت فرمائیں۔جزاک اللہ۔

جواب

جامعہ کے ضابطہ کے مطابق کسی مخصوص اور متعّین شخص کے بارے میں سوال کاجواب نہیں دیا جاتا۔


فتوی نمبر : 143408200008

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے