بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 صفر 1444ھ 26 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

جس گاؤں کی آبادی ساڑھے تین چار سو ہو اس میں جمعہ کا حکم


سوال

ہمارا گاؤں کا نام چکائی ہے جو کہ بشام شہر سے تقریباً 8 کلومیٹر فاصلے پر ہے. گاؤں کی کل آبادی تقریباً 350-400 تک ہے. گاؤں میں 1957 سے قائم شدہ ایک دینی مدرسہ ہے جس میں 50-60 طالب علم رہائش پذیررہتے ہیں . لڑکوں کا ایک ہائیر سیکنڈری سکول اور ایک پرائمری سکول اور لڑکیوں کا ایک مڈل اور پرائمری سکول موجود ہیں. پولیس چیک پوسٹ ، فارسٹ چیک پوسٹ اور وائلڈ لائف چیک پوسٹ ہیں. ۲ پٹرول پمپ ہیں اور ۲ دکانیں ہیں جہاں ضروریات زندگی کے تقریباً ہر شے ملتی ہے. اب حکومت یہاں پہ ریسکیو سنٹر بھی بنا رہی ہے جسمیں ایک ہسپتال ہوگا جو ایمرجنسی میں طبی امداد دے گا اور جہاں ڈاکٹر رہائش پذیر ہوگا جو مریضوں کی علاج کرے گا. اس سنٹر میں فائر بریگیڈ اور ایمبولینس بھی موجود ہونگے. مدرسے کے بانی کا شمار ضلعے کا بڑے علماء میں ہوتا ہے. جسکے پاس دور دراز علاقے سے لوگ تنازعات حل کرنے آتے ہیں. بانی مدرسہ کا کہنا ہے کہ یہاں اب جمعہ قائم کرنا جائز ہے. کہتا ہے کہ اگر ضلعے کا ڈپٹی کمشنر کہے یا کچھ صاحب رائے علماء کرام کہے تو نماز جمعہ قائم کیا جاسکتا ہے. اب کچھ صاحب رائے علماء حضرات بشمول بانی مدرسہ نے فیصلہ کیا ہے کہ مدرسہ کے ساتھ متصل جامعہ مسجد میں نماز جمعہ قائم کی جائے. پر یہاں دو گروپ بنے ہیں. کچھ علماء کرام جن میں کچھ اس مدرسے کا مدرسین بھی ہیں وہ جمعہ پہ قائل نہیں اور اکثریت جمعہ کا قائل ہے. برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں کہ مذکورہ بالا مسئلہ میں جمعہ جائز ہے یا نہیں. 

جواب

 صورت مسئولہ میں  مذکورہ تفصیل کی رو سے مذکورہ گاؤں قریہ کبیرہ نہیں ہے اس لیے وہاں    جمعہ قائم کرنا جائز نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وعبارة القهستاني تقع فرضا ‌في ‌القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق قال أبو القاسم: هذا بلا خلاف إذا أذن الوالي أو القاضي ببناء المسجد الجامع وأداء الجمعة لأن هذا مجتهد فيه فإذا اتصل به الحكم صار مجمعا عليه، وفيما ذكرنا إشارة إلى أنه لا تجوز في الصغيرة التي ليس فيها قاض ومنبر وخطيب كما في المضمرات."

(کتاب الصلوۃ ، باب الجمعة جلد۲ ص: ۲۳۸ ط: دارالفکر)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"حنفیہ کے نزدیک جمعہ کے لیے شہر یا قصبہ یا بڑا گاؤں ہونا شرط ہے ، بڑا گاؤں وہ ہے جس میں گلی ،کوچے ہوں ، بازارہو، روز مرہ کی ضروریات ملتی ہوں ، تین چار ہزار کی آبادی ہو۔"

(باب صلوۃ الجمعۃ جلد۸ص:۱۴۵ ط:دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی)

فقط و اللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144402101032

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں