بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 16 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

عدالتی خلع اور خلع کے بعد چڑھاوے کے زیورات واپس لینے کاحکم


سوال

جناب مفتی صاحبالسلام علیکم ورحمۃ اللہ ۔عارض سرکاری آفیسر ہے، 22 جولائی 2006 کو مسز کنزہ بنت نشاط علی کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوا، جملہ حقوق کی ادائیگی کا حتی الامکان اہتمام کیااورملازمت کی وجہ سے زیادہ تروالدین کے شہر کے علاوہ دیگر شہروں میں ہمراہ اہلیہ کے مقیم رہا، کراچی میں بھی اہلیہ کے ہمراہ مستقل علیحدہ رہائش کا اہتمام رہا۔ نومبر 2012 میں بنا برتبادلہ محض چند یوم کے لیے اہلیہ کو میرے والدین کے ساتھ رکھنا چاہا تو اہلیہ نے صاف انکار کردیا۔ میں نے زیادہ اصرار کیاتو اہلیہ نے اپنے والدین کے گھر رہائش کو ترجیح دی۔ مفاہمتی کوشش جاری رہی کہ اچانک اگست 2013 کو کورٹ کا نوٹس میرے والدین کے گھر کراچی موصول ہوا جب کہ میری رہائش ان دنوں اسلام آباد میں تھی۔ اس کے باوجود میں نے عدالتی کار روائی سے باہر رہنے میں ہی عافیت جانی اور جیسے تیسے اپنی اہلیہ اور اس کے والد سے بلواسطہ رابطے میں رہا، جس سے صرف عدالتی پیش رفت سے آگاہی کے علاوہ اور کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہ ہوا اور بالآخر 18 جنوری 2014 کو معلوم ہوا کہ عدالت نے یکطرفہ کار روائی کرتے ہوئے میری اہلیہ کے حق میں 3939خلع3939 کی ڈگری جاری کردی ہے۔اب دریافت یہ ہے کہ :1 محض میری جانب سے عدم پیروی کو بنیاد بنا کر عدالت کی جانب سے جاری کردہ خلع کی کیا شرعی حیثیت ہے؟ 2: میری اہلیہ نے عدالت میں دائراپنے دعوے میں مہرسے تو دستبرداری کا لکھا ہے، لیکن جو قیمتی زیورات میں نے میرے گھر والوں اوردیگررشتہ داروں نے بوقت رخصتی بطور چڑھوائی یا منہ دکھائی وغیرہ کے دیے تھے، کیا میں ان کی واپسی کا مطالبہ کرسکتاہوں؟ شریعت کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ لیفٹننٹ کمانڈر خرم شہریارخانFlat no E-2 Safari Boulevard Phase 1 Gulistan e Johar Block 15Karachi0333-3107417021-34636792

جواب

1: صورت مسئولہ میں اگر سائل واقعۃ خلع کی تمام عدالتی کاروائی سے لاتعلق رہا اور اس فیصلہ پر زبانی یا تحریری رضامندی کا اظہار نہیں کیا تو عدالت نے کس بنیاد پر خلع کی ڈگری جاری کی ہے، بیوی نے کیا وجوہات عدالت میں پیش کی ہیں ،اپنے الزامات کو کس طرح ثابت کیا ہے،یہ سب عدالتی ججمنٹ کی کاپی دیکھ کر ہی اندازہ ہوگا، اور اسی کی روشنی میں شرعی فیصلہسے آگاہی ممکن ہوگی، اس لیئے عدالتی فیصلہ کی کاپی ارسال کریں تاکہ جواب دینا ممکن ہوسکے۔ 2: سائل یا اس کے عزیز واقرب نے شادی کے موقع پر یا اس کے بعد جو زیورات دلہن کو دیئے تھے، ان کی جہت کیا تھی، تحفہ دیا تھا یا محض استعمال کے لیئے دیئے تھے، اور اس معاملہ میں سائل کے خاندان کا عرف کیا ہے؟ اس کی وضاحت کے ساتہ دوبارہ سوال کیا جائے تو جواب دے دیا جائے گا۔۔واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143504200031

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے