بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 14 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

یوٹیوب کے ذریعہ حاصل ہونے والی آمدنی


سوال

یو ٹیوب پر چینل بنایاجاتاہے اور پھر اس پرسبسکرائبر زائد ہونے کی  صورت میں پر یو ٹیوب کمپنی کی جانب سے پیسے دیے جاتے ہیں تو کیایہ آمدنی  جائز ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ چینل کی ویڈیو  میں اگر جان د ار  کی تصویر ہو ، یا میوزک ہو ، یا اس میں کسی قسم کا  غیر شرعی اشتہار ہو  یا  کسی بھی غیر شرعی چیز کا اشتہار ہو یا کوئی اور غیر شرعی معاملہ کرنا پڑتا ہو تو اس کے ذریعے پیسے کمانا جائز نہیں ہوگا۔ اور اگر مذکورہ باتوں میں سے کوئی نہ ہو (یعنی نفسِ عقد میں بھی کوئی شرعی ممانعت نہ ہو اور خارج میں بھی کسی غیر شرعی شرط کے ساتھ مشروط نہ ہو) تو گنجائش ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200231

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے