بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 16 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

ہوا کے خروج سے استنجا لازم نہیں


سوال

با آوازِ بلند ہوا خارج ہونے کی صورت میں استنجا لازم ہے یا نہیں؟

جواب

شرم گاہ سے کسی ظاہری نجاست کے نکلنے کے بعد استنجا کرنا لازمی ہوتاہے، صرف ہوا خارج ہونےسے استنجالازم نہیں ہوتا،البتہ ہو اخارج ہونے سے وضو ٹوٹ جاتاہے چاہے آواز آئے یا نہ آئے، لہذاہواخارج ہونے کے بعد استنجا لازم نہیں، صرف وضو کرنا کافی ہے۔فتاوی شامی میں ہے :

"فصل: الاستنجاء: إزالة نجس عن سبيل فلايسن من ريح وحصاة ونوم وفصد". (1/335) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144102200377

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے