بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

گیس کمپریسر کا استعمال کرنا


سوال

آج کل ہمارے علاقے میں ہمارےعلم کےمطابق تقریباً ہرگھرمیں گیس کمپریسرموجود ہے اور ہر شخص اس قابل نہیں کہ وہ سلنڈر کا استعمال بھی کر سکے؛  کیوں کہ آج کل سلنڈر گیس 200 روپےکلوہے، اس صورت میں گیس کمپریسر گیس کھینچ کر اس کا پریشر بڑھا دیتی ہے۔ کچھ تو اس کا استعمال فقط کھانا پکانے کی حد تک کرتے ہیں اور کچھ اس کو عام استعمال کرتے ہیں یعنی ہیٹر، گیزر وغیرہ سب اسی پر سارا دن چلتے ہیں۔اس کے بارے میں راہ نمائی فرما دیں کہ آیا یہ کسی صورت میں "الضرورات تبیح المحظورات" کے تحت جائز ہو سکتی ہے؟ اگر جائز ہو گی تو اس کی دلیل اور جواز کی حد کیا ہو گی؟  یا یہ کسی صورت جائز نہیں ہے؟ اگر جواز کی کوئی صورت نہیں ہے تو اس کا استعمال کرنے والے حرام کے مرتکب ہیں یا حرام سے نچلے درجے پر گناہ گار ہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں زیادہ گیس کھینچنے کے لیے گھر میں غیرقانونی طور پر گیس کمپریسر لگانا شرعاً جائز نہیں ہے، اس لیے کہ جب گیس کی قلت ہے تو باوجود قلت کے کمپریسر کے ذریعے کھینچ کر دوسروں کے لیے مزید قلت پیدا کرنا دیگر صارفین کی حق تلفی ہے، نیز یہ کہ گیس کمپریسر کا استعمال قانوناً بھی جرم ہے، اس لیے اس کے استعمال سے اجتناب لازم ہے۔

اور یہ"الضرورات تبیح المحظورات" کے تحت جائز نہیں ہوسکتا، کیوں کہ فقہاء نے ضرورت کے تحت محظور کے ارتکاب کی وہاں اجازت دی ہے جہاں واقعی ضرورت ہو اور اس ضرورت کو پورا کرنے میں دوسرے کو نقصان نہ پہنچایا جائے جیسا کہ حالتِ مخمصہ میں مردار کا کھانا، اکراہ کی حالت میں کلمہ کفر کہنا وغیرہ، جب کہ مذکورہ مسئلے میں اولاً تو ضرورت کا تحقق ہی نہیں ہورہا اور پھر اس میں ایک فرد اپنی سہولت کے حصول کے لیے دیگر صارفین کو تکلیف دے رہا ہے۔

مزید یہ کہ فقہاء نے جہاں"الضرورات تبیح المحظورات" کا قاعدہ ذکر کیا ہے، وہیں "الضرر لایزال بالضرر"  کا قاعدہ بھی ذکر کیا ہے،  یعنی اپنے ضرر کو دوسروں کو ضرر دے کر ختم نہ کیا جائے، مثلاً ایک آدمی مضطر ہے، بھوکا ہے اور اس کے ساتھ ایک اور مضطر ہے جس کے پاس کھانا ہے تو پہلے والے مضطر کے لیے اس کی اجازت نہیں ہے کہ وہ دوسرے کا کھانا کھائے۔

اور پھر اس میں قانون کی خلاف ورزی کا گناہ بھی ہے؛ لہٰذا اس سے اجتناب کرنا ہی ضروری ہے، اور اس کا ارتکاب کرنے والا حرام کا ارتکاب کرنے والا ہوگا۔

سنن ابن ماجہ میں ہے:

"«عن أبي صرمة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «من ضار أضر الله به، ومن شاق شق الله عليه»".  (2/785، كتاب الأحكام، باب من بنى في حقه ما يضر بجاره، ط: دار إحياء الكتب العربية)

فیض القدیر میں ہے:

"(لا ضرر) أي لايضر الرجل أخاه فينقصه شيئًا من حقه (ولا ضرار) ... وفيه تحريم سائر أنواع الضرر إلا بدليل؛ لأن النكرة في سياق النفي تعم". (فيض القدير للمناوي 6/431، حرف لا برقم: 13474، ط: المكتبة التجارية الكبرى مصر)

وفي الأشباه والنظائر لابن نجيم:

"الضرورات تبيح المحظورات ومن ثم جاز أكل الميتة عند المخمصة، وإساغة اللقمة بالخمر، والتلفظ بكلمة الكفر للإكراه وكذا إتلاف المال، وأخذ مال الممتنع الأداء من الدين بغير إذنه ودفع الصائل ، ولو أدى إلى قتله.

وزاد الشافعية على هذه القاعدة بشرط عدم نقصانها ... ولكن ذكر أصحابنا رحمهم الله ما يفيده؛ فإنهم قالوا: لو أكره على قتل غيره بقتل لا يرخص له، فإن قتله أثم؛ لأن مفسدة قتل نفسه أخف من مفسدة قتل غيره". (ص: 85 دار الكتب العلمية بيروت)

وفيه أيضًا:

"الضرر لايزال بالضرر ... وكتبنا في شرح الكنز في مسائل شتى ... ولايأكل المضطر طعام مضطر آخر ولا شيئًا من بدنه". (ص: 86  دارالكتب العلمية، بيروت ، لبنان) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144105200584

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے