بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

گیارہ ذی الحجہ کو رمی قبل الزوال کرنے کا حکم


سوال

اگر گیارہ ذی الحجہ کو رمی زوال سے پہلے کی جائے تو کیا حکم ہے؟

جواب

اگر کسی شخص نے گیارہ ذی الحجہ کو رمی زوال سے پہلے کر لی تو اس کی وہ رمی درست نہ ہوئی، اس پر لازم ہو گا کہ زوال کے بعد رمی کا اعادہ کرے،  لیکن اگر اعادہ نہ کر سکا تو ایسے شخص پر حدودِ حرم میں دم دینا لازم ہو گا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 521)
"(قوله: فمن الزوال لطلوع ذكاء) أي إلى طلوع الشمس من اليوم الرابع، والمراد أنه وقت الجواز في الجملة. قال في اللباب: وقت رمي الجمار الثلاث في اليوم الثاني والثالث من أيام النحر بعد الزوال، فلا يجوز قبله في المشهور. وقيل: يجوز".
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909202030

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے