بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الثانی 1442ھ- 04 دسمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

گھوڑے کے گوشت کے بارے میں حنفی مسلک


سوال

گھوڑے کی حلت و حرمت پر احناف کا تفصیلی موقف مطلوب ہے؟

جواب

گھوڑا فی نفسہ حلال ہے، لیکن امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک گھوڑے کاگوشت  آلہ جہاد ہونے کی وجہ سے  مکروہِ تحریمی  ہے، اور فقہ حنفی میں اسی قول پر فتوی ہے، آج کے دور میں بھی جنگ کے دوران اور سرحدات کی حفاظت کے لیے دشوار گزار راستوں سے ہوتے ہوئے مختلف اہم پوسٹ تک پہنچنے میں گھوڑوں کا استعمال کیا جاتا ہے، اسی وجہ سے ہر ملک کی قومی پریڈ میں فوج/ پولیس کے گھڑ سوار دستے بھی پیش ہوتے ہیں، اور حدیثِ پاک میں ہے کہ گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت تک کے لیے خیر لکھ دی گئی ہے، اس لیے یہ اشکال بھی لازم نہیں آتا کہ گھوڑے اب آلہ جہاد نہیں رہے؛ لہذا گھوڑے  کے گوشت کا اب بھی وہی حکم ہوگا. 

الفتاوى الهندية (5/ 290):

" يكره لحم الخيل في قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى، خلافاً لصاحبيه، واختلف المشايخ في تفسير الكراهة، والصحيح أنه أراد بها التحريم، ولبنه كلحمه، كذا في فتاوى قاضي خان. وقال الشيخ الإمام السرخسي: ما قاله أبو حنيفة رحمه الله تعالى أحوط، وما قالا أوسع، كذا في السراجية".

بدائع الصنائع (5/ 38):

"وأما لحم الخيل فقد قال أبو حنيفة رضي الله عنه: يكره، وقال أبو يوسف ومحمد رحمهما الله: لايكره، وبه أخذ الشافعي رحمه الله". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200443

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں